چین کی تعلیمی اصلاحات اور ہم

پاکستان میں ابھی زیادہ توجہ صرف ایک لازمی AI کورس پر ہے، جب کہ ڈگریوں کے ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلی ابھی نظر نہیں آتی



چین کی وزارت تعلیم کے مطابق 2021 سے 2025 کے درمیان 12,200 انڈرگریجویٹ پروگرام ختم یا معطل کیے گئے اور اسی عرصے میں 10,200 نئے پروگرام شروع کیے گئے۔ اس عمل سے چین کے تقریباً 30 فیصد یونیورسٹی پروگرام کسی نہ کسی شکل میں تبدیل ہوئے۔ زیادہ تر کمی ان شعبوں میں کی گئی جہاں آرٹس، ہیومینٹیز، فارن لینگویجز، مینجمنٹ، میں طلبہ کی تعداد تو زیادہ تھی لیکن روزگار کے مواقعے نسبتاً کم تھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ مضامین پورے ملک سے ختم کر دیے گئے، بلکہ ان کی بہت سی ڈگریاں بند یا محدود کر دی گئیں۔

ان کی جگہ چین نے بڑی تعداد میں نئے پروگرام شروع کیے، مثلاً مصنوعی ذہانت (AI)، روبوٹکس، چِپ ڈیزائن،سیمی کنڈکٹر انجینئرنگ، کوانٹم ٹیکنالوجی، نئی توانائی (New Energy)، جدید مینوفیکچرنگ، انٹیلی جنٹ انجینئرنگ، ڈیجیٹل اکانومی، بایو ٹیکنالوجی۔یہ تمام شعبے چین کی صنعتی اور معاشی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ یہ اقدامات چین نے اس لیے اٹھائے کہ ان کے ہاں نوجوان گریجویٹس میں بے روزگاری کا مسئلہ تھا، صنعتوں کو AI اور جدید ٹیکنالوجی کے ماہرین کی ضرورت پیش آرہی تھی، یونیورسٹیوں کے نصاب کو براہِ راست قومی صنعتی پالیسی سے جوڑنا وقت کی ضرورت سمجھا جا رہا تھا اور اس کے ساتھ چین کی خواہش کہ وہ AI، روبوٹکس اور جدید صنعتوں میں عالمی قیادت حاصل کرے،لیکن چین نے اس نئی پالیسی میں آرٹس اور ہیومینٹیز کی اہمیت کو ختم نہیں کیا ۔

چین نے یہ نہیں کہا کہ آرٹس، ادب یا زبانیں غیر ضروری ہیں، بلکہ ان کا موقف یہ ہے کہ ان شعبوں میں ضرورت سے زیادہ گریجویٹس پیدا ہو رہے تھے،جب کہ AI، انجینئرنگ اور جدید صنعتوں میں ماہر افراد کی کمی تھی ،اس لیے وسائل کا رخ ان شعبوں کی طرف موڑا گیا جہاں معیشت کو فوری ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کہ چین کی یہ پالیسی وقت کے تقاضوں کے مطابق ہے،اگر چین کی یہ حکمت عملی کامیاب رہی تودیگر ممالک بھی اپنی جامعات میں اسی طرز کی اصلاحات لا سکتے ہیں جس سےAI اور ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم مزید تیزی سے بڑھے گی۔روایتی ڈگریوں کی بجائے ’’مہارت پر مبنی تعلیم‘‘ (Skills-based Education) کو زیادہ اہمیت ملے گی۔جامعات اور صنعت کے درمیان تعلق مزید مضبوط ہوگا۔

یہ خبر تعلیم کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، کیونکہ چین پہلی مرتبہ اتنے وسیع پیمانے پر اپنی یونیورسٹیوں کے نصاب کو قومی معاشی حکمت عملی اور AI کے دور کے مطابق ڈھال رہا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہماری کیا صورتحال ہے؟

 پاکستان نے بھی 2026 سے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ایچ ای سی نے تمام سرکاری اور نجی جامعات میں ہر انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگرام میں 3 کریڈٹ آور کا لازمی AI کورس متعارف کرانے کی ہدایت دی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر طالب علم، خواہ وہ انجینئر ہو، ڈاکٹر، صحافی یا وکیل، AI کی بنیادی سمجھ حاصل کرے لیکن اس کے باوجود پاکستان اور چین کے درمیان کئی بنیادی فرق موجود ہیں۔چین صرف نصاب نہیں بدل رہا، بلکہ نئی فیکلٹیز قائم کر رہا ہے۔صنعتوں کی ضرورت کے مطابق ڈگریاں ڈیزائن کر رہا ہے۔تحقیق پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔AI، چپس، روبوٹکس اور جدید مینوفیکچرنگ کو قومی پالیسی کا حصہ بنا چکا ہے۔

 پاکستان میں ابھی زیادہ توجہ صرف ایک لازمی AI کورس پر ہے، جب کہ ڈگریوں کے ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلی ابھی نظر نہیں آتی ،لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ جامعات کے غیر موثر اور کم روزگار والے پروگراموں کا جائزہ لیا جائے۔اے آئی، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا سائنس، سیمی کنڈکٹر، روبوٹکس اور گرین انرجی جیسے نئے شعبوں میں ڈگریاں بڑھائی جائیں۔ جامعات اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط قائم کیے جائیں تاکہ طلبہ کو عملی تجربہ اور روزگار مل سکے۔ تحقیق، اختراع (Innovation) اور ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کئی گنا بڑھائی جائے۔ اساتذہ کو بھی AI کے استعمال کی جدید تربیت دی جائے۔اس وقت دیکھا جائے تو چین کی پالیسی ’’ڈگریوں کو معیشت کے مطابق ڈھالنے‘‘ پر مبنی ہے، جب کہ پاکستان کی موجودہ پالیسی ’’ہر طالب علم کو AI سے آشنا کرنے‘‘ پر مرکوز ہے۔

یہ ایک مثبت آغاز ضرور ہے، مگر اگر پاکستان کو آیندہ 10 سے 20 سال میں عالمی معیشت کا موثر حصہ بننا ہے تو اسے چین کی طرح جامعات، صنعت اور قومی معاشی حکمت عملی کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہوگا، یہی وہ فرق ہے جو مستقبل میں دونوں ممالک کی علمی اور معاشی طاقت کا تعین کرے گا۔ اگر ہم چین کے ماڈل کو سامنے رکھ کر پاکستان کے آئی ٹی شعبے کا جائزہ لیں تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں مسئلہ IT گریجویٹس کی کمی نہیں، بلکہ ’’قابلِ روزگار (Employable)‘‘ IT گریجویٹس کی کمی ہے۔

تعلیمی پالیسیوں کے ضمن میں چین اور پاکستان کا اہم فرق کیا ہے؟ چین میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ2035 میں ہماری صنعت کو کتنے AI انجینئر، روبوٹکس ماہر اور چِپ ڈیزائنر درکار ہوں گے؟

پاکستان کی جامعات ہر سال تقریباً 75,000آئی ٹی اور کمپیوٹنگ کے شعبوں مثلاً سوفٹ ویئر انجینئرنگ، ڈیٹا سائنس اور سائبر سیکیوریٹی وغیرہ کے گریجویٹس تیار کر رہی ہیں۔ لیکن کیا ان سب کو ملازمت مل جاتی ہے؟ نہیں۔ صنعتی اداروں کے مطابق، برآمدی (Export-oriented) سافٹ ویئر کمپنیوں میں کام کرنے کے قابل صرف تقریباً 10 فیصد گریجویٹس ہوتے ہیں، جب کہ باقی کو مزید تربیت کی ضرورت پڑتی ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹیاں ڈگری تو دے رہی ہیں،لیکن عملی مہارتیں مطلوبہ معیار کی نہیں ہوتیں۔