متروکہ وقف املاک بورڈ نے گوردوارہ سنگھ سبھا کے انہدام سے متعلق خبروں کو مسترد کر دیا

بورڈ نے واضح کیا ہے کہ گوردوارہ محفوظ ہے، وہاں نہ کوئی انہدامی کارروائی ہو رہی ہے اور نہ ہی نئی تعمیر جاری ہے


آصف محمود July 04, 2026

متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی) نے گوردوارہ سنگھ سبھا، فاروق آباد، ضلع شیخوپورہ کے مبینہ انہدام سے متعلق زیرِ گردش خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گوردوارہ محفوظ ہے، وہاں نہ کوئی انہدامی کارروائی ہو رہی ہے اور نہ ہی نئی تعمیر جاری ہے۔

بورڈ کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات حقائق کے منافی ہیں۔ وضاحت کے مطابق کارروائی صرف گوردوارے سے ملحق دو دکانوں تک محدود تھی، جہاں کرایہ داروں نے مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر تعمیراتی کام شروع کر دیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق متعلقہ عمارت کئی دہائیوں سے غیر فعال ہے اور 1974ء سے کرایہ داری کی بنیاد پر کمرشل اور رہائشی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ عمارت کی خستہ حالت کے باعث میونسپل کمیٹی شیخوپورہ نے کرایہ داروں کو نوٹسز جاری کیے تھے، تاہم بعض کرایہ داروں نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ازخود تعمیر نو کی کوشش کی۔

ای ٹی پی بی کے مطابق اطلاع ملنے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی، شوکاز نوٹس جاری کیے گئے اور 2 جولائی کو کرایہ داریاں منسوخ کرکے جائیداد واگزار کروا کر سیل کر دی گئی، جبکہ مقام کو مکمل طور پر محفوظ بنا دیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق سکھ برادری کے نمائندوں اور پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور نے موقع کا دورہ کیا، جہاں انہیں صورتحال سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بورڈ نے کہا کہ تاریخی ورثے کے تحفظ کے تقاضوں کے مطابق اس جائیداد کی بحالی، مرمت اور تزئین و آرائش کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔

متروکہ وقف املاک بورڈ نے مزید بتایا کہ معاملے سے متعلق تفصیلی رپورٹ وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کو ارسال کر دی گئی ہے اور بورڈ اپنے زیر انتظام مذہبی و تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے قانونی کارروائی جاری رکھے گا۔

اس سے قبل دفتر خارجہ کے ترجمان بھی گوردوارہ سنگھ سبھا سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی وضاحت کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ گوردوارے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، کارروائی صرف ملحقہ دکانوں تک محدود تھی اور غیر مجاز تعمیراتی سرگرمی کے خلاف قانونی اقدامات کیے گئے تھے۔