سانحہ گل پلازہ، پولیس نے تیسری بار چالان جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرا دیا۔
قائم مقام ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عبد الرزاق گجر نے چالان عدالت میں پیش کیا۔ پولیس نے پراسکیوشن کے سابقہ اعتراضات دور نہیں کیئے۔
چالان میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ بھی منسلک نہیں کی گئی۔ چالان میں یونین کے 4 عہدیدار کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ چالان کے مطابق آگ دکان نمبر 193 سے شروع ہوئی۔ چالان میں پولیس، فائر بریگیڈ، متاثرین، ریسکیو 1122 اہلکاروں سمیت 60 گواہان کے نام پیش کئے۔
چالان کے مطابق دکان کا مالک نعمت اللہ اکثر اوقات دکان اپنے 11 سالہ بیٹے حذیفہ کے حوالے کرکے چلا جاتا تھا۔ 11 سالہ حذیفہ ماچس جلا کر کھیل رہا تھا، جس سے مصنوعی پھولوں میں آگ لگی۔ سی ڈی آر رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کے وقت دکاندار نعمت اللہ موقع پر موجود نہیں تھا، مارکیٹ یونین عہدیداروں کی جانب سے ایمرجنسی ہیلپ لائن پر اطلاع دیکر مدد طلب نہیں کی گئی۔
بروقت اطلاع نا ملنے کی وجہ سے 72 افراد جاں بحق ہوئے۔ آتشزدگی سے 8 افراد زخمی بھی ہوئے۔ آتشزدگی کے نتیجے میں 1153 دکانیں سامان سمیت جل گئیں۔ یونین عہدیداروں کا کال ڈیٹا ریکارڈ حاصل کیا گیا۔ یونین عہدیداروں کی جانب سے کسی ایمرجنسی نمبر پر بروقت کال کا ریکارڈ نہیں ملا۔ یونین کمیٹی کی جانب سے کم عمر بچے کو دکان پر بٹھانے سے روک ٹوک نا کرنا غفلت ہے۔
کم عمر ملزم حذیفہ کے خلاف جوینائل قوانین کے تحت کیس چلایا جائے گا۔ مقدمے میں قتل بالسبب، غفلت کے باعث نقصان، آتشزدگی سے نقصان اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل ہی۔
چالان میں یونین صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، جنرل سیکریٹری امین، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان اور حذیفہ، نعمت اللہ و دیگر کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ نعمت اللہ آگ لگنے والی دکان کا مالک ہے۔