فرانس اور برطانیہ آبنائے ہرمز میں فوج تعینات کرنے سے باز رہیں؛ ایران نے خبردار کردیا

فرانس اور برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں اپنے فوجیں تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا


ویب ڈیسک July 05, 2026
فوٹو: پریس ٹی وی

برطانیہ اور فرانس کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے اپنی فوجیں تعینات کرنے کے اعلان پر ایران نے سخت ردعمل دیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے برطانیہ اور فرانس کو خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی فوجی تعیناتی سے گریز کریں کیوں اس کی ذمہ داری صرف خلیجی ساحلی ممالک کی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی بیرونی فوجی نقل و حرکت ناقابل قبول ہوگی۔ ایران اور عمان کے علاوہ کسی اور ملک نے اس معاملے میں فوجی مداخلت کی تو اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران ایک ذمہ دار طاقت اور آبنائے ہرمز کی سلامتی کا ضامن ہونے کے ناتے اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی فوجی نقل و حرکت کے خلاف کارروائی کا حق رکھتا ہے۔

اس سے قبل فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ان فوجیں برطانیہ کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام کریں گی جس کے لیے دونوں ممالک کے اہلکاروں کو وہاں تعینات کیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز وہ اہم آبی گذرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے جسے ایران نے امریکا اور اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں گزشتہ چار ماہ سے بند کر رکھا تھا۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا میں تیل و گیس کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ گئی اور دنیا میں مہنگائی کا طوفان آگیا۔

حال ہی میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے بعد اس آبی گزرگاہ کو کھول دیا گیا ہے جس سپلائی چین معمول پر آنا شروع ہوگئی اور پیٹرول و گیس کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی توانائی کی رسد کے لیے اسے دنیا کی اہم ترین اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔