آبنائے ہرمز ایران کا ’جوہری ہتھیار‘ ہے، تعاون جاری رکھیں گے؛ روس

روسی وفد آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران میں موجود ہے


ویب ڈیسک July 04, 2026

روس نے ایران کے ساتھ دفاعی و فوجی شراکت داری جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو ایران کا اہم ہتھیار قرار دیدیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق دمتری میدویدیف تہران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین میں شرکت کے لیے روسی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

اس موقع پر روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین اور سابق صدر دمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد بھی ایران کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری جاری رکھیں گے۔

انھوں نے آبنائے ہرمز کو ایران کا سب سے بڑا جنگی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل میں یہی ایران کا جوہری ہتھیار ہے۔ دنیا کی تیل اور گیس کی بڑی مقدار آبنائے ہرمز کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے اسی لیے اس آبی گزرگاہ کی اہمیت کسی بھی عسکری یا سفارتی تنازع میں انتہائی بڑھ جاتی ہے۔

روسی رہنما نے مزید کہا کہ ماسکو اور تہران کے درمیان دفاع، معیشت، توانائی اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ دونوں ممالک بین الاقوامی مسائل پر قریبی رابطہ برقرار رکھیں گے اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں گے۔