قلعہ عبداللہ میں پرانی رنجش کی بنا پر فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق

معصوم بچی شدید زخمی، لواحقین کا کوئٹہ چمن شاہراہ پر لاشوں کے ہمراہ دھرنا، ڈپٹی کمشنر کے مذاکرات



کوئٹہ:

بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے بدوان میں پرانی رنجش کی بنا پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چار افراد جاں بحق ایک معصوم بچی شدید زخمی ہوگئی، لواحقین نے لاشوں کے ہمراہ قومی شاہراہ کوئٹہ چمن پر احتجاجی دھرنا دے دیا۔

پولیس کے مطابق بدوان میں پیش آئے واقعے میں عبید اللہ، ضیا اللہ، ایمل اور محمد شاہد جاں بحق ہوئے۔ زخمی بچی کی شناخت بی بی ثانیہ کے نام سے ہوئی تمام زخمیوں اور جاں بحق افراد کو ابتدائی طور پر ٹراما سینٹر میزئی اڈہ منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے چاروں کو مردہ قرار دے دیا، بچی بی بی ثانیہ کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ ریفر کر دیا گیا جب کہ جاں بحق افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم اور ضروری قانونی کارروائی کے بعد لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔

غم و غصے میں مبتلا لواحقین نے لاشوں کے ہمراہ قومی شاہراہ پر دھرنا دے دیا اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کی وجہ سے کوئٹہ چمن شاہراہ پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا، ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی اور دیگر انتظامی و پولیس حکام نے موقع پر پہنچ کر مشتعل لواحقین سے مذاکرات کیے۔ طویل گفت و شنید کے بعد مظاہرین نے سڑک ٹریفک کے لیے کھول دی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پرانی رنجش کا نتیجہ ہے، ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تفتیش جاری ہے، علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

لواحقین نے حکام سے فوری انصاف، ملزمان کی گرفتاری اور سخت سزا کا مطالبہ کیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے یقین دلایا ہے کہ کیس کو میرٹ پر دیکھا جائے گا اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دلائی جائے گی۔
دوسری جانب مقامی عمائدین اور سیاسی رہنماؤں نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے قبائلی تنازعات کے فوری حل اور معصوم شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ واقعہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جاری قبائلی دشمنیوں اور تشدد کی ایک اور مثال ہے جس نے ایک بار پھر انسانی جانوں کے ضیاع پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔