دلجیت دوسانجھ کی نئی فلم ’ستلج‘ کو ریلیز کے محض دو دن بعد ہی او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے پر بھارت میں ایک نئے تنازع نے جنم لے لیا ہے۔
مختلف میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سکھ برادری پر ہونے والے مبینہ مظالم اور انسانی حقوق کے حساس موضوع پر مبنی اس فلم کو مودی حکومت کے دباؤ کے باعث پلیٹ فارم سے ہٹایا گیا۔
فلم انسانی حقوق کے معروف کارکن جسونت سنگھ کالڑا کی زندگی پر مبنی ہے، جنہوں نے 1990 کی دہائی میں بھارتی پنجاب میں ہزاروں افراد کے مبینہ ماورائے عدالت قتل اور ان کی اجتماعی قبروں سے متعلق تحقیقات کی تھیں۔ یہ فلم 3 جولائی کو ریلیز کی گئی تھی، تاہم 5 جولائی کو اسے او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو سے ہٹا دیا گیا۔
فلم کے مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ نے اس پیش رفت پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس فلم کو اب روکا نہیں جاسکتا اور جسونت سنگھ کالڑا کی آواز کو دبانا ممکن نہیں۔
رپورٹس کے مطابق فلم کا ابتدائی نام ’پنجاب 95‘ رکھا گیا تھا، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر اس کی ریلیز طویل عرصے تک مؤخر رہی۔ بعد ازاں اسے نئے نام ’ستلج‘ کے ساتھ پیش کیا گیا۔
یہ فلم اس سے قبل بھی تنازعات کا شکار رہ چکی ہے۔ سیاسی حساسیت کے باعث 2023 میں ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اس کا طے شدہ گالا پریمیئر بھی منسوخ کر دیا گیا تھا۔
فلم کی ریلیز سے قبل اس کے ہدایت کار نے واضح کیا تھا کہ ’ستلج‘ فلم کا مکمل اور بغیر کسی کٹ کے تیار کیا گیا ورژن ہے، تاہم او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے اچانک ہٹائے جانے کے بعد اس معاملے پر ایک بار پھر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔