وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان ریلوے کی آمدنی 95 ارب سے بڑھ کر 115 ارب سے تجاوز کرگئی، کابینہ نے نئی حج پالیسی کی بھی منظوری دے گی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جہاں وفاقی کابینہ نے حج پالیسی اور پلان برائے 2027-2030 کی منظوری دے دی، وفاقی کابینہ نے رواں برس بہترین حج انتظامات پر وفاقی وزیرمذہبی امور سردار محمد یوسف اور وزارت کی ٹیم کی تعریف کی۔
پاکستان ریلوے کی آمدنی 95 ارب سے بڑھ کر 115 ارب سے تجاوز
وفاقی کابینہ کو وزیر ریلوے کی جانب سے پاکستان ریلوے کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی اور اجلاس کو وزیر ریلوے نے بتایا کہ ریلوے کی آمدن 25-2024 میں 95 ارب روپے سے بڑھ کر گزشتہ مالی سال 2025-2026 میں 115 ارب روپے کو عبور کر گئی جو کہ 24.19 فیصد اضافہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فریٹ آمدن میں 8 ارب سے زائد، دیگر آمدن میں 7 ارب سے زائد، پراپرٹی و لینڈ آمدن میں 6 ارب سے زائد اور مسافروں کی آمدو رفت سے آمدن میں 3.37 فیصد اضافہ ہوا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ریلوے آپریشنز میں بہتری کے ساتھ ساتھ فریٹ کارگو کی آمد و رفت کی بہتری یقینی بنائی گئی ہے۔
اس موقع پر وفاقی کابینہ نے وزیر ریلوے حنیف عباسی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔
وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی (سی سی ایل سی) کے 19 مئی 2026 اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 2 جولائی 2026 کو منعقدہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔
حج پالیسی کی منظوری
وفاقی کابینہ کو حج پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نئی حج پالیسی گزشتہ ایک سالہ حج پالیسیوں کے برعکس پہلی چار سالہ حج پالیسی اور پلان پر مشتمل ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس حج پالیسی کے تحت طویل مدتی پلاننگ، آپریشنز میں بہتری اور حاجیوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی ممکن ہوگی، مجوزہ پالیسی کے نفاذ کے لیے ایس او پیز اور دیگر ضوابط بنائے جائیں گے، پالیسی کو سعودی قوانین اور ضوابط سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اس میں ضرورت کے مطابق ترامیم کی جاسکیں گی۔
مزید بتایا گیا کہ پالیسی کے تحت حج کے خواہش مند افراد سالانہ رجسٹریشنز کے بجائے 2030 تک کسی بھی سال کے لیے اپنی ضرورت کے مطابق بلاتعطل حج کی رجسٹریشن کروا سکیں گے، اس کے نتیجے میں ترجیحی ویٹنگ لسٹ مرتب کی جائے گی۔
کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ اس کے ساتھ ساتھ شرعی اصولوں کے مطابق سیونگ اسکیم بھی متعارف کروائی جا رہی ہے جس کے تحت حج کے خواہاں لوگ مستقبل میں حج کے لیے سیونگ اسیکم سے مستفید ہو سکیں گے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ حج کے تمام تر نظام کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے جس میں ادائیگیاں بھی ڈیجیٹل نظام سے ہوں گی، اس کے علاوہ شکایات کا ڈیجیٹل نظام اور ڈیجیٹل نگرانی ہوگی۔
پالیسی کے تحت سرکاری اور پرائیویٹ حج کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے، پالیسی کے تحت لانگ اور شارٹ حج پروگرام متعارف کروائے جار ہے ہیں جبکہ حجاج کرام کی ضروری تربیت اور تکافل اور ہنگامی ریسپانس بھی پالیسی کا حصہ ہے۔
وفاقی کابینہ نے ہدایت کی کہ معاونین حج کی تقرری ایک شفاف نظام اور خالصتاً میرٹ پر کیا جائے، مزید برآں پرائیوٹ اور سرکاری حج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے۔
اجلاس میں وفاقی کابینہ نے شہریوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد میں موجود آئیسولیشن ہاسپٹل اینڈ انفیکشئس ٹریٹمنٹ سینٹر (آئی ایچ آئی ٹی سی) اور ریجنل بلڈ سینٹر (آر بی سی) کی سروسز کی آؤٹ سورسنگ کی پالیسی کی منظوری دے دی، فیصلے کے بعد وزارت قومی صحت ان اسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ قوائد و ضوابط کے مطابق یقینی بنائے گی۔