پاکستانی اداکارہ اور میزبان فضا علی نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ طلاق کے بعد انہوں نے دوسری شادی سے کبھی انکار نہیں کیا، تاہم کئی اچھے رشتے صرف اس وجہ سے مسترد کر دیے کیونکہ سامنے والے لوگ ان کی بیٹی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فضا علی نے بتایا کہ سابق شوہر فواد فاروق سے علیحدگی کے بعد انہوں نے دوبارہ زندگی شروع کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اس دوران متعدد شادی کی پیشکشیں بھی آئیں اور ایک مرحلے پر ان کی منگنی تک طے پا گئی، لیکن ہر بار انہیں محسوس ہوا کہ یہ فیصلہ ان کے لیے مناسب نہیں۔
اداکارہ نے کہا کہ اکثر رشتوں میں یہ شرط رکھی جاتی تھی کہ شادی کے بعد ان کی بیٹی فرال اپنے والد کے پاس رہے کیونکہ اس کی ذمے داری ان کے مطابق والد پر عائد ہوتی ہے۔ فضا علی کے مطابق انہوں نے ہر بار یہی مؤقف اختیار کیا کہ وہ کسی بھی رشتے کی خاطر اپنی بیٹی سے الگ نہیں ہو سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو شخص ان کی بیٹی کو قبول نہ کر سکے، وہ ایسا رشتہ بھی قبول نہیں کر سکتیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اپنے موجودہ شوہر اعجاز سے رشتہ طے ہونے سے پہلے انہوں نے اپنی ماضی کی زندگی، سابق شادی، منگنی اور دیگر تمام معاملات کھل کر بیان کر دیے تھے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
فضا علی نے اپنے سابق شوہر کے ساتھ تعلقات پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ طلاق صرف میاں بیوی کے درمیان ہوتی ہے، والدین اور بچوں کے رشتے پر اس کا اثر نہیں پڑنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو اس کے والد کی دوسری شادی میں شرکت کے لیے خود آمادہ کیا اور سابق شوہر کو نئی زندگی کے آغاز پر مبارک باد بھی دی۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اور ان کے سابق شوہر نے ہمیشہ اس بات کی کوشش کی کہ ان کی بیٹی کسی تنازع یا ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے موجودہ شوہر بھی ایک ذمہ دار والد ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ بچوں کی موجودگی میں والدین کو اپنی ذمے داریاں ہر حال میں نبھانی چاہئیں۔