وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترک سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون، سرمایہ کاری اور برادرانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کو دورۂ ترکیہ پراعتماد میں لیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون، سرمایہ کاری اور برادرانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ تہران میں انہوں نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی اور ایران کے ساتھ دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور اس کے بعد وفاقی کابینہ کے بعض ارکان کے ہمراہ ترکیہ کا دورہ کیا، جہاں ایک بزنس کانفرنس میں شرکت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ کانفرنس میں ترک سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنہیں پاکستان کے توانائی، نج کاری، ٹرانسمیشن لائنز، مائنز اینڈ منرلز اور دیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ترک سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دورے کے دوران ترکیہ کے ممتاز کاروباری گروپوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور انہیں توانائی، کان کنی، معدنیات، انفرا اسٹرکچر اور دیگر ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی گئی ہے۔
وزیراعظم کے مطابق دونوں ممالک نے باہمی روابط اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھرپور محنت کی ہے، جس کے مثبت نتائج مستقبل میں سامنے آئیں گے اور پاک-ترکیہ برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات انتہائی مفید اور تعمیری رہی، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت ملے گی۔
قبل ازیں اجلاس کے آغاز میں وزیراعظم نے اسلام آباد میں ایک خاتون کی جان بچاتے ہوئے شہید ہونے والے پاک فضائیہ کے افسر گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے شہید کے درجات کی بلندی اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث ملزم گرفتار ہوچکا ہے اور اسے قانون کے مطابق سخت سزا دلائی جائے گی۔
وزیراعظم نے بلوچستان میں 15 خوارج کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین بھی پیش کیا، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شہدا کے ایصال ثواب اور درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔