امریکہ کا ممتاز ادیب، ارنسٹ ہیمنگوئے اپنے مشہور ناول ’’وداعِ جنگ‘‘ (A Farewell to Arms)کے دیباچے میں لکھتا ہے:
’’اس کتاب کے مصنف کویہ پختہ یقین ہے کہ جنگیں دنیا کے بہترین لوگوں کے ذریعے لڑی جاتی ہیں…یا یوں کہہ لیں کہ عام آدمیوں کے ذریعے۔جہاں جنگ لڑی جا رہی ہو، آپ اُس کے جتنا قریب جائیں گے، آپ کو اتنے ہی زیادہ بہترین لوگ ملیں گے۔ لیکن یہ جنگیں خالص معاشی رقابتوں اور اُن خنزیر صفت انسانوں کی وجہ سے شروع ہوتی اور پنپتی ہیں جن کا مفاد اِن جنگوں سے وابستہ ہو۔
میرا یہ ماننا ہے کہ وہ تمام لوگ جو کسی جنگ سے فائدہ اٹھانے کی تاک میں ہوں اور اُسے بھڑکانے میں مدد کریں، جنگ شروع ہونے کے پہلے دن اُنھیں گولی مار دینی چاہیے۔اور یہ کام ملک کے وفادار شہریوں کے تصدیق شدہ نمائندوں کے ہاتھوں ہونا چاہیے جو خود اس جنگ میں شریک ہوں۔اِس کتاب کا مصنف ایسے انسانوں کو گولی مارنے کی ذمے داری انتہائی خوشی کے ساتھ اپنے سر لینے کو تیار ہے۔‘‘
٭٭
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پرحملے کیے جانے کے تقریباً چار ماہ بعد جس کی وجہ سے توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں اور عالمی تجارت درہم برہم ہو گئی،دونوں فریقین مذاکرات کر رہے ہیں۔ اس وقت مفاہمت کی ایک یادداشت موجود ہے جس کے تحت ساٹھ روزہ جنگ بندی نافذ کی گئی اور ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز کے مستقبل پر مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا گیا ۔
ایک پائیدار معاہدہ دنیا بھر کے کاروباروں اور صارفین کو لاحق معاشی مشکلات کم کر سکتا ہے لیکن کچھ کمپنیوں کے لیے یہ تنازع انتہائی منافع بخش ثابت ہوا ۔دفاعی ٹھیکیدار (ڈیفنس کنٹریکٹر)، تیل اور گیس پیدا کرنے والے ادارے اور سرمایہ کاری بینک ان شعبوں میں شامل ہیں جن کے منافع میں اس وقت بے پناہ اضافہ ہوا جب جنگ اور غیر یقینی صورتحال نے عالمی منڈیاں تہہ و بالا کر دیں۔یوگوسلاویہ کا ادیب،ملاڈن ڈورڈیوک ایک جگہ لکھتا ہے:’’جنگ سب سے کامیاب بزنس کا دوسرا نام ہے۔‘‘سوال یہ ہے ، آخر سب سے زیادہ فائدہ کس نے اٹھایا؟
توانائی کی کمپنیاں
اگر خالص نقد رقم (ڈالروں) کے لحاظ سے بات کی جائے تو جنگ سے کسی بھی دوسرے شعبے کے مقابلے میں توانائی کے شعبے کو سب سے زیادہ براہ راست فائدہ پہنچا ۔ جنگ سے پہلے دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔اس تنگ بحری گزرگاہ کے ذریعے جہاز رانی میں خلل پڑنے سے خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ آیا۔
ایک موقع پر برینٹ خام تیل کی قیمت عارضی طور پر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جو چار سال میں اس کی بلند ترین قیمت تھی۔ اس کے بعد سے قیمت جنگ سے پہلے کی سطح یعنی تقریباً 72 ڈالر فی بیرل پر واپس آ گئی ۔بلند قیمتوں کے نتیجے میں کچھ تیل پیدا کرنے والی ان کمپنیوں کو بڑے پیمانے پر غیر متوقع نقد رقم حاصل ہوئی جو علاقائی توانائی کی منڈیوں کے درمیان قیمتوں کے بڑے فرق سے بھی فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہیں۔
حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات اور وسیع تر علاقائی کشیدگی نے برینٹ خام تیل کی قیمت کو 100 امریکی ڈالر فی بیرل سے اوپر دھکیل دیا، جس کے بعد 7 اپریل کو اس کی فوری قیمت (اسپاٹ پرائس ) تقریباً 138 امریکی ڈالر تک جا پہنچی اور پورے مہینے کے لیے اس کی اوسط قیمت تقریباً 117 امریکی ڈالر رہی۔ یہ وہ قیمتیں ہیں جو 2022 ء میں یوکرین پر روس کے بڑے پیمانے پر حملے کے بعد توانائی کی قیمتوں کو لگنے والے جھٹکے کے بعد اب تک نہیں دیکھی گئی تھیں۔ عام گھرانوں کے لیے اس کا مطلب پہلے سے ہی دباؤ کا شکار بجٹ پر ایک اور بوجھ تھا۔ جبکہ فوسل فیول کی کمپنیوں کے لیے یہ ایک اور لاٹری (جیک پاٹ) ثابت ہوا۔
ایران پر امریکہ-اسرائیل جنگ کے پہلے مہینے میں دنیا کی ٹاپ 100 تیل اور گیس کی کمپنیاں ہر گھنٹے میں 3 کروڑ (30 ملین) امریکی ڈالر سے زیادہ کا اضافی منافع کما رہی تھیں۔اگر قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس رہیں، تو یہ کمپنیاں 2026 ء کے آخر تک تقریباً 234 ارب امریکی ڈالر کا اضافی منافع اپنی جیبوں میں ڈال سکتی ہیں جن میں آرامکو ، گیزپروم اور ایکسن موبل جیسے بڑے ادارے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔
صرف شیل کمپنی نے پہلی سہ ماہی میں 6.9 ارب امریکی ڈالر کا منافع کمایا جو پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے کیونکہ ایران پر جنگ نے قیمتوں کو بلند رکھنے میں مدد کی۔یورپ کی چار سب سے بڑی تیل کمپنیوں:شیل، ٹوٹل انرجیز ، بی پی اور ایکوائنر نے 2026 ء کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکس کے بعد 18 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی ایڈجسٹ شدہ آمدنی کی اطلاع دی جو پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ ہے۔
یورپی یونین میں جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں تیل کی کمپنیاں جنگی منافع کی مد میں روزانہ تقریباً 9.28 کروڑ (92.8 ملین) امریکی ڈالر کما رہی تھیں جس میں زیادہ تر اضافہ ڈیزل کی وجہ سے ہوا۔برطانیہ میں پہلے حملوں کے بعد محض چار ہفتوں کے اندر بحیرہ شمال کے بڑے ڈرلرز بشمول شیل، بی پی اور ٹوٹل انرجیز کی مارکیٹ ویلیو (بازاری مالیت) میں تقریباً 73.5 ارب پاؤنڈ کا اضافہ ہوا۔
عملی طور پر فوسل فیول پر انحصار کی صورتحال ایسی دکھائی دیتی ہے: لوگ گاڑی چلانے، اپنے گھر گرم رکھنے اور سامان کی نقل و حمل کے لیے زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں، جبکہ کمپنیاں اور تاجر قیمتوں کے اِس اتار چڑھاؤ سے پیسہ بناتے ہیں۔اگر یہ سب کچھ آپ کو جانا پہچانا لگتا ہے، تو ایسا ہونا بھی چاہیے۔ یہ فوسل فیول انڈسٹری کی جنگی حکمتِ عملی (پلے بک) ہے: کوئی بحران جنم لیتا ہے،تو سپلائی کے خدشات بڑھا چڑھا کر پیش کیے جاتے ہیں۔یوں قیمتیں بڑھتی ہیں، منافع میں تیزی آتی ہے اور پھر یہی کمپنیاں یہ دلیل دیتی ہیں کہ اس کا حل مزید ڈرلنگ، مزید گیس ٹرمینلز اور اسی نظام پر مزید انحصار ہے جس نے سب سے پہلے ہر ایک کو کمزور اور غیر محفوظ بنایا تھا۔
آرامکو کے پہلی سہ ماہی کے منافع میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 32.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ کمپنی نے بحیرہ احمر تک جانے والی اپنی 1200 کلومیٹر طویل ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن کا فائدہ اٹھایا جس نے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کر کے 7 ملین بیرل یومیہ کی صلاحیت پر برآمدات کو برقرار رکھا اور ساتھ ہی تیل اونچی قیمتوں پر فروخت کرتی رہی۔
برٹش پیٹرولیم نے پہلی سہ ماہی میں 3.2 ارب ڈالر کے منافع کی اطلاع دی جو پچھلے سال کے مقابلے میں دوگنے سے بھی زیادہ اور تجزیہ کاروں کی2.67 ارب ڈالر کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ قطر کی ’راس لفان‘ تنصیب پر علاقائی حملوں کے بعد شیل کی مشترکہ ملکیت والے ’پرل جی ٹی ایل‘ (ایک گیس ٹو لیکوڈز پلانٹ جو خام قدرتی گیس کو مائع ایندھن میں تبدیل کرتا ہے) کے پروسیسنگ یونٹ ،ٹرین 2 کو شدید نقصان پہنچا۔ کمپنی کا اندازہ ہے کہ مرمت مکمل ہونے میں ایک سال لگے گا۔ اس کے باوجود گروپ نے اپنے مالیاتی ریکارڈ کو مضبوط رکھا اور پچھلے سال کی پہلی سہ ماہی میں تقریباً 5.6 ارب ڈالر کے مقابلے میں 6.9 ارب ڈالر کا منافع ظاہر کیا۔
ٹیکنالوجی اور توانائی کے آزاد تحقیقی ادارے، رائسٹڈ انرجی نے مارکیٹ کے شدید اتار چڑھاؤ کے دوران اپریل میں بڑی تیل کمپنیوں کے کیش فلو ( یعنی نقد رقم کی آمد و رفت) کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے جنگ سے پہلے کی قیمت (65 ڈالر فی بیرل سے کم) کے منافع کا موازنہ جنگ کے دوران کی قیمت (100 ڈالر فی بیرل) سے کیا اور پایا کہ قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ فائدہ آرامکو کو پہنچنے والا ہے۔
رائسٹڈ انرجی میں اپ اسٹریم ریسرچ کے سینئر وائس پریزیڈنٹ، تھامس لائلز کہتے ہیں’’اگر یہ اونچی قیمتیں پورے سال برقرار رہتی ، تو تمام کمپنیاں آخر کار ایک بڑے فائدے کی پوزیشن میں آ جاتیں۔ اب اصل سوال صرف یہ ہے کہ وہ اِس کیش فلو کا کتنا حصہ اپنے قبضے میں لینے میں کامیاب ہوتی ہیں۔‘‘
فائدہ اٹھانے والے صرف بڑی تیل کمپنیوں تک محدود نہیں ہیں۔ چونکہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ عام طور پر آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، اس لیے وینچر گلوبل اور چینیئر انرجی جیسی امریکی ایل این جی کمپنیاں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہترین پوزیشن میں آ گئیں کیونکہ خریدار اب زیادہ محفوظ سپلائی کے متبادل تلاش کر رہے تھے۔
تھامس لائلز کہتے ہیں ’’میری نظر میں وہ تمام کمپنیاں جن کا کاروبار مشرق وسطیٰ یا آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں بہت زیادہ پھنسا ہوا نہیں ، وہ فائدے میں رہیں ۔ ان میں امریکی شیل آئل کمپنیاں، کینیڈین آئل سینڈز کے مالکان، بین الاقوامی آئل کمپنیاں ، لاطینی امریکہ کے پروڈیوسر اور وینچر گلوبل جیسے ایل این جی کے بڑے نام شامل ہیں جو فوری منڈی ( اسپاٹ مارکیٹ ) میں زیادہ مال بیچتے ہیں۔ لہٰذا مختلف وجوہ کی بنا پر یہاں جیتنے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔‘‘
دفاعی ٹھیکیدار ، اسلحہ ساز کمپنیاں
فروری کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے پہلے حملوں کے چند دنوں کے اندر دنیا کی سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے سربراہان نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات کی اور امریکی گولہ بارود کے گرتے ہوئے ذخائر پورا کرنے کے لیے ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے پر اتفاق کیا۔اس اہم ملاقات میں آر ٹی ایکس ، لاک ہیڈ مارٹن ، بوئنگ ، نارتھراپ گرومین ، بی اے ای سسٹمز ، ایل تھری ہیریس اور ہنی ویل کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ان تمام کمپنیوں کے پاس اس وقت اربوں ڈالروں کے آرڈروں کا بیک لاگ ( یعنی وہ آرڈر جن پر کام ہونا ابھی باقی ہے) موجود ہے اور حکومتوں کی طرف سے اپنے اسلحہ خانوں کو دوبارہ بھرنے کی جلدی کے باعث ان آرڈروں میں مزید اضافہ یقینی ہے۔
یہ تنازع شروع ہونے سے چند ہفتے پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے مانگے گئے دفاعی فنڈز میں 500 ارب ڈالر کے اضافے کی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد 19 مارچ کو ہیگستھ نے کانگریس سے مزید 200 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز مانگنے کا دفاع کرتے ہوئے صحافیوں سے کہا ’’برُے لوگوں کو مارنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘
سرمایہ کاروں نے ابھی سے اس طویل مدتی تیزی پر داؤ لگانا شروع کر دیا ہے۔ مارکیٹ میں سب سے بہترین کارکردگی بوئنگ، آر ٹی ایکس، ایل تھری ہیریس اور نارتھراپ گرومین کی طرف سے دیکھنے میں آئی۔ان سب نے اپنی آمدنی میں ٹھوس اضافے کی رپورٹ دی اور پورے سال کے لیے اپنے مالیاتی اہداف کو برقرار رکھا یا ان میں مزید اضافہ کیا۔
دفاعی معاہدے
طیاروں کی زیادہ سپلائی (ڈیلوری) کی بدولت سال کے پہلے تین مہینوں میں امریکی طیارہ ساز کمپنی،بوئنگ کی آمدنی 14 فیصد بڑھ کر 22.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اگرچہ کمپنی اب بھی خسارے میں چل رہی تھی، لیکن اس نے اپنے خالص نقصان کو پچھلے سال کی اسی مدت کے 31 ملین ڈالر کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم کر کے 7 ملین ڈالر کر دیا۔ دوسری طرف کلاسیفائیڈ (خفیہ) پروگراموں اور F-35 طیاروں سے متعلق کام شامل ہونے کی وجہ سے نارتھراپ گرومین کے زیر التوا آرڈر95.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح کو چھو گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جنگ پہلے سے موجود ایک انتہائی منافع بخش ماڈل مزید مضبوط کر رہی ہے۔ گولہ بارود بنانے والے اداروں کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ امریکی دفاعی معاہدوں سے حاصل ہوتا ہے۔ امریکی تھنک ٹینک،کوینسی انسٹی ٹیوٹ فار ریسپانسیبل اسٹیٹ کرافٹ اور براؤن یونیورسٹی کے واٹسن اسکول آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز کے’’کوسٹس آف وار‘‘پروجیکٹ کی جانب سے گزشتہ سال شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2020 ء اور 2024ء کے درمیان امریکی نجی کمپنیوں نے پینٹاگون کے معاہدوں کی مد میں 2.4 ٹریلین (2400 ارب) ڈالر حاصل کیے جو اس محکمے کے صوابدیدی اخراجات کا نصف سے زیادہ بنتا ہے۔ ان معاہدوں کا ایک تہائی حصہ (771 ارب ڈالر) صرف پانچ کمپنیوں کو ملا جن میں لاک ہیڈ مارٹن، آر ٹی ایکس، بوئنگ، جنرل ڈائنامکس، اور نارتھراپ گرومین شامل ہیں۔
مال بردار(فریٹ) اور انشورنس کمپنیاں
یورپی مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے ادارے ،کیپلر چیورکس کے مطابق اس بحران کی وجہ سے بحری سفر طویل ہو گئے اور جہاز رانی میں رکاوٹوں نے عالمی ٹینکر بیڑے کا تقریباً 7 فیصد حصہ گردش سے باہر کر دیا ۔ اس صورتحال نے فریٹ ریٹس ( یعنی مال برداری کے کرایوں) کو تاریخی بلندیوں پر پہنچا دیا ۔
مشرق وسطیٰ خلیج سے مشرقی ایشیا کا روٹ جو آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو ناپنے کا ایک براہ راست پیمانہ ہے، وہاں کرایوں کا انڈیکس تنازع سے پہلے کے تقریباً 100 ورلڈ اسکیل پوائنٹس سے اچھل کر 500 سے اوپر چلا گیا۔ ورلڈ اسکیل ایک ایسا انڈیکس ہے جو ٹینکر مال برداری کے کرایوں کی قیمت کا تعین کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور جہاں 100کسی بھی مخصوص راستے کے لیے ایک معیاری بنیادی شرح کی نمائندگی کرتا ہے۔ 260,000 ٹن تیل لے جانے والے ایک بہت بڑے خام تیل کے جہاز کے لیے اس کا مطلب فی چکر لاکھوں ڈالرز کا اضافی خرچ ہے۔
اس کا سب سے بڑا فائدہ فرنٹ لائن اور ڈی ایچ ٹی ہولڈنگز جیسے مخصوص ٹینکر آپریٹرز کو ہوا ن کی آمدنی براہ راست مال برداری کے کرایوں کے ساتھ بڑھتی ہے۔ دنیا کی پانچویں بڑی آئل ٹینکر شپنگ کمپنی، فرنٹ لائن نے پہلی سہ ماہی میں 536 ملین ڈالر سے زیادہ کی آمدنی رپورٹ کی جبکہ ڈی ایچ ٹی نے اپنے کچھ جہازوں کے لیے روزانہ ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ کے کرائے حاصل کیے۔
یہ تنازع بحری انشورنس کمپنیوں کے لیے بھی انتہائی منافع بخش رہا ۔جنگ شروع ہونے کے چند دنوں کے اندر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ’’جنگی خطرات کا انشورنس پریمیم‘‘ پانچ گنا بڑھ گیا۔ انشورنس کے اخراجات جو پہلے جہاز کی کل مالیت کا تقریباً 0.25 فیصد تھے، بڑھ کر 1.5 فیصد اور بعض حالات میں 10 فیصد تک پہنچ گئے۔ گارڈ ، اسکلڈ اور نارتھ اسٹینڈرڈ سمیت بڑی انشورنس کمپنیوں نے خلیج سے گزرنے والے جہازوں کے پریمیم کو جہاز کی مالیت کے 0.15 تا0.25 فیصد کی بنیادی شرح سے بڑھا کر 1.5 فیصد تک کر دیا ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ 100 ملین ڈالر مالیت کے ایک ٹینکر کے لیے خلیج کے راستے محض ایک چکر کی انشورنس لاگت تقریباً 1.5 ملین (15 لاکھ) ڈالر تک ہو گئی۔
جنگی علاقوں میں کام کرنے والے جہازوں کے لیے جنگی خطرات کی انشورنس کرانالازمی ہوتی ہے اور انشورنس کمپنیاں خلیج کے خطرناک حالات دیکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کرنے میں کامیاب رہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے طویل عرصے بعد بھی الگ سے لی جانے والی جنگی خطرات کی انشورنس کی مانگ اونچی رہنے کا امکان ہے، کیونکہ جہازوں کے مالکان اور کارگو آپریٹرز اس خطّے میں کام کرنے کے خطرات کا نئے سرے سے جائزہ لے رہے ہیں۔
یونیورسٹی آف ناردرن کولوراڈو کے مونیفورٹ کالج آف بزنس میں فنانس کے پروفیسر کونسٹنٹین گورڈگیو کا کہنا ہے کہ انشورنس کمپنیوں کو اِس وقت تین متضاد صورت حال کا سامنا ہے: پہلی پالیسیوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کرنے اور خطرات کا بوجھ گاہکوں پر ڈالنے کی صلاحیت،دوسری جنگی علاقوں میں پہلے سے بیمہ شدہ اور پھنسے جہازوں سے بڑھتا ہوا نقصان اور تیسری خلیج کے خطرے کی نوعیت میں ایک مستقل تبدیلی جو جنگ ختم ہونے کے بعد بھی طویل عرصے تک ’’وار-رسک کور‘‘ کی مانگ بلند رکھے گی۔
پروفیسر گورڈگیو مزید کہتے ہیں : ’’جب تک ہم سویلین (غیر فوجی/تجارتی) جہازوں کو ہونے والے نقصانات میں کوئی ڈرامائی اضافہ نہیں دیکھتے، تب تک دوسرا اثر پہلے اور تیسرے اثرات کے سامنے دب جائے گا جس سے جنگی انشورنس فراہم کرنے والوں کا قلیل اور درمیانی مدت کا منافع بڑھے گا۔ تاہم اگر جاری دشمنی میں تیزی آتی ہے اور یہ سویلین انفراسٹرکچر (عوامی و تجارتی تنصیبات) تک زیادہ پھیلتی ہے تو دوسرا اثر انشورنس کمپنیوں کو بڑے پیمانے پر نقصانات کا شکار کر سکتا ہے۔"
وال اسٹریٹ بینک
یہ جنگ وال اسٹریٹ کے لیے بھی سودمند ثابت ہوئی ۔اس تنازع نے تیل، کرنسیوں اور بانڈ مارکیٹوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا کر دیا۔اس عمل نے سرمایہ کاروں کو اپنے پورٹ فولیو (سرمایہ کاری کی فہرستوں) میں تیزی سے تبدیلیاں کرنے پر مجبور کیا اور تجارتی سرگرمیوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا۔ امریکہ کے سب سے بڑے بینکوں کے لیے مارکیٹ کا یہ اتار چڑھاؤ زیادہ فیسوں اور ٹریڈنگ سے ہونے والی مضبوط آمدنی کی شکل میں سامنے آیا۔
امریکہ کے چھ سب سے بڑے انویسٹمنٹ (سرمایہ کاری) بینکوں:جے پی مورگن چیس ، بینک آف امریکہ ، سٹی گروپ ، مہرگن اسٹینلے ، گولڈمین سیکس اور ویلز فارگونے مشترکہ طور پر 2026 ء کے پہلے تین مہینوں میں تقریباً 48 ارب ڈالر کا منافع کمایا۔جے پی مورگن ، امریکہ کے اس سب سے بڑے بینک نے منافع میں 14.6 ارب ڈالر کے مقابلے میں 16.5 ارب ڈالر کی خالص آمدنی رپورٹ کی جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 13 فیصد اضافہ ہے۔بینک آف امریکہ ے پچھلے سال کے تقریباً 7.4 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.6 ارب ڈالر کمائے۔
دیگر بینکوں، سٹی گروپ، مہرگن اسٹینلے، گولڈمین سیکس اور ویلز فارگو میں سے ہر ایک نے پچھلے سال کی اسی مدت کے 4.1 سے 4.9 ارب ڈالر کے منافع کے مقابلے میں اس سہ ماہی میں 5 ارب ڈالر سے زیادہ کا منافع حاصل کیا۔سب سے زیادہ منافع ان ٹریڈنگ ڈیسکوں سے حاصل ہوا جو فکسڈ انکم ، کرنسیوں اور کموڈٹیز میں مہارت رکھتے ہیں۔
پریڈکشن مارکیٹ کے سٹے باز
اس تنازع نے ’’پولی مارکیٹ‘‘ اور ’’کالشی‘‘ جیسے پریڈکشن مارکیٹ پلیٹ فارموں پر مشکوک وقت پر کی جانے والی تجارت کے پیٹرن پر بھی گہری نظر رکھنے کی ضرورت پیدا کر دی۔یہ وہ آن لائن ایکسچینج ہیں جہاں سٹے باز حقیقی دنیا کے واقعات کے نتائج پر شرطیں لگاتے ہیں۔
23 مارچ کو آئل فیوچرز میں 580 ملین ڈالر مارکیٹ میں جھونک دیے گئے جس کے نتیجے میں تجارتی حجم میں اچانک اضافہ ہوا جو معمول سے نو گنا زیادہ تھا…اور یہ سب ٹرمپ کی جانب سے ایرانی پاور پلانٹس پر حملے روکنے کے اعلان سے تقریباً 16 منٹ پہلے ہوا۔ بعد میں پولی مارکیٹ نامی یہ پریڈکشن پلیٹ فارم انوکھی’’ ان سائڈر ٹریڈنگ‘‘(اندرونی معلومات پر مبنی غیر قانونی تجارت) کے اسکینڈل کے مرکز میں آ گیا جو ٹرمپ خاندان کے مفادات کے ٹکراؤ سے جڑا ہوا ہے۔
ماہ اپریل میں کم از کم 50 نئے بنائے گئے اکاؤنٹس نے اجتماعی طور پر امریکہ-ایران جنگ بندی پر شرطیں لگا کر اُس وقت سینکڑوں ہزاروں ڈالر کمائے جب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اس کا باقاعدہ اعلان بھی نہیں کیا تھا۔
پیسا لگانے کے ان طریقوں پر ییل یونیورسٹی کے ایک تجزیے سے معلوم ہوا کہ مشکوک اکاؤنٹس نے دو لاکھ سے زیادہ نشان زدہ معاملات میں سے تقریباً 70 فیصد شرطیں جیتیں…یہ کامیابی کی ایک ایسی شرح ہے جو عام قسمت یا تکّے سے حاصل ہونے والے امکانات سے کہیں زیادہ ہے۔اس پر محققین کا کہنا ہے کہ یہ شماریاتی طور پر پہلے سے موجود معلومات کے بغیرہونا ناممکن ہے۔ ان سودوں سے حاصل ہونے والا متوقع منافع 143 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔
بڑھتی غذائی قیمتیں اور بڑی زرعی کمپنیاں
جنگ نے صرف توانائی کو ہی متاثر نہیں کیا، اس نے غذائی نظام بھی ہلا کر رکھ دیا۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق مشرقِ وسطیٰ تنازع کے باعث اپریل میں خوراک کی قیمتیں 2023ء کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کیونکہ جب توانائی اور کھاد کی قیمتیں ایک ساتھ بڑھتی ہیں، تو غذائی مہنگائی کاشتکاری، نقل و حمل، پیکیجنگ اور سپر مارکیٹ کے شیلفوں تک تیزی سے پھیل سکتی ہے۔
ماہ مارچ میںتنظیم، گرین پیس نے خبردار کیا تھا کہ جنگ اور آبنائے ہرمز بند ہونے کے خطرے سے کھاد کی سپلائی چین میں پیدا شدہ خلل دنیا بھر میں غذائی قیمتوں کے ایک نئے جھٹکے (شاک) کا سبب بن سکتا ہے۔ اس رپورٹ نے واضح کیا کہ کس طرح یہ بحران ایک ایسے غذائی نظام کی کمزوری بے نقاب کر رہا جو فوسل فیول سے بننے والی کھادوں اور طویل و غیر محفوظ سپلائی چینز پر منحصر ہے۔
ماہ مئی تک ناجائز منافع خوری کا طریقہ کار مزید واضح ہو گیا۔ ایران جنگ کے باعث سپلائی کے بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کھاد بنانے والی کمپنیوں نے ریکارڈ توڑ منافع کمایا، جبکہ دوسری طرف کسانوں کا روزگار شدید متاثر ہوا۔ کسانوں کو مہنگی کھاد اور ایندھن کا سامنا ہے۔ دنیا بھر میں خاندانوں کو راشن کے زیادہ بلوں کا سامنا ہے۔ اور تیل کی طرح چند بڑی زعی کمپنیوں نے اِس بحران کو اپنے لیے آمدنی کا ایک اور ذریعہ بنا لیا۔ اس کا نتیجہ ایک ایسا غذائی نظام تشکیل پانا ہے جو شیئر ہولڈرز کے لیے تو انتہائی منافع بخش لیکن باقی سب کے لیے خطرناک حد تک نقصان دہ ہے۔