اسلام آباد:
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں ریکارڈ 48 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایک سال کے دوران ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد نئے سرمایہ کار مارکیٹ کا حصہ بنے ہیں۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 83 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ نئے سرمایہ کاروں میں 45 فیصد کا تعلق 18 سے 30 سال عمر کے نوجوانوں سے ہے، جبکہ 31 سے 45 سال عمر کے افراد کا تناسب 41 فیصد رہا۔
ایس ای سی پی کے مطابق نئے سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نوجوان طبقے کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کراچی 25 فیصد نئے سرمایہ کار اکاؤنٹس کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ لاہور 16 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی سے مجموعی طور پر 13 فیصد نئے سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ میں شامل ہوئے۔
سہولت اکاؤنٹ کی حد 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کرنے سے سرمایہ کاری کا عمل مزید آسان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بینکوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جبکہ آئی بی اے این ویریفکیشن اور مائنر ٹریڈنگ اکاؤنٹس جیسے اقدامات سے سرمایہ کاروں کو مزید سہولت ملی ہے۔
چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ نوجوانوں کو کیپٹل مارکیٹ سے منسلک کرنا ادارے کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاری کو مزید آسان بنانے کے لیے ڈیجیٹل آن بورڈنگ موبائل ایپ متعارف کرائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیپٹل مارکیٹ عوام کی بچت کو پیداواری سرمایہ کاری میں تبدیل کرکے معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جبکہ ایس ای سی پی کا مقصد سرمایہ کاری کو آسان، تیز اور ہر شہری کے لیے قابلِ رسائی بنانا ہے۔