بلوچستان کا امن، پاکستان کی خوشحالی کی ضمانت

پاکستان کے مجموعی رقبے کا تقریباً چوالیس فیصد حصہ رکھنے والا یہ صوبہ معدنی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے


ایڈیٹوریل July 11, 2026
فوٹو : فائل

ہرعہد کی جنگیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ کبھی دشمن سرحدوں پر فوجیں اتارتا ہے اور کبھی وہ خاموشی سے کسی قوم کے مستقبل پر حملہ آور ہوتا ہے۔ آج پاکستان کو جس آزمائش کا سامنا ہے، وہ صرف بارود اور گولیوں کی جنگ نہیں بلکہ قومی وحدت، معاشی امکانات، ریاستی استحکام اور علاقائی حیثیت کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش بھی ہے۔

بلوچستان اس کشمکش کا سب سے نمایاں میدان ہے، کیونکہ یہاں کی زمین اپنے دامن میں صرف معدنی خزانے ہی نہیں بلکہ پاکستان کی آیندہ کئی دہائیوں کی معاشی خوشحالی، بحری طاقت، علاقائی تجارت اور جغرافیائی اہمیت بھی سموئے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی پاکستان ترقی کی نئی منزلوں کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر سر اٹھا لیتی ہے، گویا کچھ قوتیں اس سرزمین کو امن کا استعارہ نہیں بلکہ مسلسل اضطراب کا میدان بنائے رکھنا چاہتی ہیں۔

 کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا خطاب اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کو محض چند منتشر کارروائیاں سمجھنا زمینی حقائق سے صرفِ نظر کرنے کے مترادف ہوگا۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت بیالیس پاکستانیوں کی شہادت اور اس کے جواب میں چون دہشت گردوں کا ہلاک ہونا ،اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف پوری قوت سے برسرپیکار ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی، تمام قومی وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور امن کے دشمنوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ اعلان صرف ایک حکومتی موقف نہیں بلکہ پوری ریاست کے اجتماعی عزم کا اظہار ہے۔

 بلوچستان میں دہشت گردی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اہداف ہمیشہ پاکستان کے بنیادی قومی مفادات سے جڑے رہے ہیں۔ کبھی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کبھی مزدوروں اور انجینئروں کو، کبھی شاہراہوں پر سفر کرنے والے عام شہریوں کو، کبھی ریلوے لائنوں، بجلی کی تنصیبات، گیس پائپ لائنوں یا ترقیاتی منصوبوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔

ان تمام کارروائیوں کا مقصد ایک ہی دکھائی دیتا ہے کہ خوف کی ایسی فضا قائم کی جائے جس سے سرمایہ کاری متاثر ہو، ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار ہوں، مقامی آبادی بے یقینی کا شکار ہو اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچے۔ دہشت گردی کا یہ انداز اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ کارروائیاں محض وقتی تشدد نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

بلوچستان کی اہمیت کو صرف اس کے رقبے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ پاکستان کے مجموعی رقبے کا تقریباً چوالیس فیصد حصہ رکھنے والا یہ صوبہ معدنی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے۔ ریکوڈک کے سونے اور تانبے کے ذخائر کو دنیا کے بڑے معدنی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے، سیندک کے وسائل، کرومائٹ، کوئلہ، لوہا، سنگ مرمر، قدرتی گیس اور نایاب معدنیات مستقبل کی صنعتوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

گوادر بندرگاہ پاکستان کو بحیرہ عرب کے ذریعے عالمی تجارتی راستوں سے جوڑتی ہے، جب کہ وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان رابطے کا قدرتی مرکز بھی یہی خطہ ہے، اگر بلوچستان مکمل امن سے ہمکنار ہو جائے، یہاں ترقیاتی منصوبے بلا تعطل آگے بڑھیں، سرمایہ کاری کو محفوظ ماحول میسر آئے اور مقامی آبادی کو ترقی کے ثمرات پوری طرح حاصل ہوں تو پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پورے خطے کی ایک مضبوط معاشی قوت بن سکتا ہے۔

 یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ دہشت گردی کا ہر بڑا واقعہ ایسے وقت میں رونما ہوتا ہے جب پاکستان معاشی بحالی، سفارتی پیش رفت یا بڑے ترقیاتی منصوبوں کی جانب بڑھ رہا ہوتا ہے۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ دہشت گردی کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی رفتار کو سست کرنا، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کرنا اور ترقی کے سفر کو روکنا بھی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو بلوچستان میں دہشت گردی کو محض داخلی سلامتی کا مسئلہ نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے علاقائی اور بین الاقوامی تزویراتی تناظر سے جوڑ دیتا ہے۔

 پاکستان کی سلامتی کے ادارے طویل عرصے سے اس جانب توجہ دلاتے رہے ہیں کہ دہشت گرد عناصر سرحد پار موجود محفوظ ٹھکانوں، سہولت کاری اور جدید اسلحے کی بدولت اپنی کارروائیاں جاری رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ سرحدی علاقوں کی پیچیدہ جغرافیائی ساخت، دشوار گزار راستے اور غیر قانونی آمدورفت ایسے عناصر کو نقل و حرکت کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان مسلسل اس امر پر زور دیتا آیا ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ علاقائی امن اسی وقت ممکن ہے جب تمام ریاستیں اس اصول کی یکساں پابندی کریں۔

حالیہ برسوں میں تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ مسلح علیحدگی پسند تنظیموں کے درمیان تعاون سے متعلق سامنے آنے والی معلومات نے خطرات کی نوعیت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مختلف کارروائیوں میں ایک دوسرے کی معاونت، جدید اسلحے کا استعمال، مربوط منصوبہ بندی اور حملوں کے انداز نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر مشترکہ اہداف کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ریاستی اداروں کے لیے صرف عسکری کارروائیاں ہی کافی نہیں بلکہ ان تنظیموں کے مالی ذرائع، ابلاغی نیٹ ورک، بھرتی کے نظام اور بیرونی روابط کو بھی مؤثر انداز میں ختم کرنا ناگزیر ہے۔

 دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک اہم اور حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ آج پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت قومی سلامتی کے بنیادی معاملات پر یکسو نظر آتی ہے۔ ماضی کے تلخ تجربات نے یہ سبق دیا کہ جب قومی مفادات سیاسی اختلافات کی نذر ہو جائیں تو دشمن کو دراڑیں تلاش کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ آج سیاسی قیادت، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس نظام ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔ یہی ہم آہنگی دہشت گردی کے خلاف کامیابی کی بنیادی ضمانت بن سکتی ہے، کیونکہ قومی سلامتی کے معاملات میں یکجہتی ہی سب سے موثر قوت ہوتی ہے۔

نیشنل ایکشن پلان، انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں، سرحدی نگرانی، مالیاتی نظام کی سخت نگرانی اور دہشت گردی کے سہولت کاروں کے خلاف اقدامات نے گزشتہ برسوں میں قابل ذکر نتائج بھی دیے ہیں۔ متعدد خطرناک نیٹ ورک توڑے گئے، بڑی تعداد میں دہشت گرد ہلاک یا گرفتار ہوئے اور کئی منصوبہ بند حملے بروقت ناکام بنائے گئے۔ تاہم دہشت گردی کی بدلتی ہوئی نوعیت اس امر کی متقاضی ہے کہ ریاست بھی اپنی حکمت عملی کو مسلسل جدید خطوط پر استوار کرے، مصنوعی ذہانت، سائبر نگرانی، جدید فرانزک سہولتوں اور بین الاقوامی انٹیلی جنس تعاون کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ دہشت گردی کے ہر نئے طریق کار کا بروقت توڑ کیا جا سکے۔

بلوچستان کی ترقی صرف بلوچستان کی ترقی نہیں بلکہ پاکستان کی مجموعی معاشی خودمختاری کا راستہ ہے، اگر معدنی وسائل کی شفاف اور موثر منصوبہ بندی کی جائے، گوادر کو حقیقی معنوں میں علاقائی تجارتی مرکز بنایا جائے، مقامی صنعتوں کو فروغ دیا جائے اور سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تو یہ صوبہ قومی معیشت کا سب سے طاقتور ستون بن سکتا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنے قدرتی وسائل کو امن، اچھی حکمرانی اور قومی اتحاد کے ساتھ جوڑا، انھوں نے چند ہی دہائیوں میں حیران کن ترقی کی منازل طے کیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صرف بندوق کی جنگ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے قومی تعمیر، ریاستی استحکام، معاشی خودانحصاری، سفارتی فعالیت اور سماجی ہم آہنگی کی جامع حکمت عملی کے طور پر دیکھا جائے۔ پاکستان کے دشمنوں کی خواہش یہی ہے کہ یہ ملک مسلسل داخلی انتشار کا شکار رہے، لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جو قومیں آزمائش کے وقت متحد رہتی ہیں، وہ بالآخر اپنے مخالفین کے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیتی ہیں۔

 شہداء کا لہو اس وطن کی بقا کی ضمانت ہے، سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ریاست کی مضبوطی کا استعارہ ہیں، بلوچستان کے عوام کا صبر قومی وحدت کی علامت ہے اور سیاسی و عسکری قیادت کی یکسوئی مستقبل کے اعتماد کی بنیاد، اگر یہی عزم برقرار رہا، دہشت گردی کے ہر سہولت کار کا راستہ روکا گیا، ترقی کے ثمرات بلوچستان کے ہر گھر تک پہنچے اور قومی مفاد کو ہر اختلاف پر ترجیح دی گئی تو وہ دن دور نہیں جب بلوچستان بدامنی کی سرزمین نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی طاقت، قومی استحکام اور روشن مستقبل کا سب سے درخشاں باب بن کر دنیا کے سامنے کھڑا ہوگا۔