علامہ عبدالستارعاصم کو روکنا چاہتا ہوں؟ اس قدر عمدہ اور بہترین کتابیں چھاپ دیتے ہیں کہ رشک آتا ہے۔ اور پھر قیامت یہ کہ جیسے ہی چھپتی ہیں تو مجھے بھجوا دیتے ہیں۔ کتاب سے میرا ختم نہ ہونے والا تعلق ہے۔ اکثر کتابیں خرید کر پڑھتا ہوں۔ بلکہ اب تو عادت سی ہو گئی ہے کہ پڑھے بغیر دل نہیں لگتا ۔ بہرحال عاصم صاحب ‘ قابل تعریف انسان ہیں جو بس ادب کی خدمت کیے جا رہے ہیں۔
دوسری بات ، حددرجہ عاجز اور مٹا ہوا انسان۔ خدا انھیں سلامت رکھے اور وہ اپنے کام میں مزید آگے بڑھیں۔ چند دن پہلے ڈاکٹر خورشید رضوی کی کتاب’’آمیزہ‘‘ ان کی طرف سے موصول ہوئی۔ اب خورشید رضوی صاحب کو کون نہیں جانتا۔ مستند ترین اردودان بلکہ عربی پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ انگریزی میں انھوں نے آقا ﷺ کی سیرت بھی خوبصورت اندازسے لکھی ہے۔
آمیزہ‘ دراصل ‘ خاکے ‘ مختلف جائزے اور تحقیقی کام کا ایک گلدستہ ہے۔ خوشبودار کتاب ۔ بیس سے زیادہ نایاب علمی کام اور مضامین پڑھ کر طالب علم ‘ شاداب سا ہو جاتا ہے۔ رضوی صاحب! آپ کو کس نے مشورہ دیا ہے کہ اس عامی دور میں اتنے بہترین اور جاندار مضامین لکھیں یا مرتب کریں۔ بذات خود‘ خورشید صاحب‘ بہت دیدہ زیب مگر دقیق علمی کام سرانجام دے رہے ہیں۔ ذرا‘ پڑھیے تو سہی کہ اس کتاب میں کیا کیا موجود ہے؟
استاد گرامی: اپنے عربی کے استاد صوفی صاحب کے متعلق لکھتے ہیں: ہر معاملے میں سخت تکمیل پسند تھے۔ اسی زمانے میں ان کی توجہ مخفی علوم کی طرف ہو گئی۔ میری طبیعت میں غیر ضروری متجسس نہ تھا‘ چنانچہ ان مشاغل میں کبھی دخل نہ دیا۔ انھوں نے بھی قطعاً تشویش نہیں فرمائی بلکہ ایک روز باتوں باتوں میں بتا کر گویا مجھے اس میدان سے دور رکھنا چاہا کہ ادب‘ خصوصاً فارسی ادب کا مطالعہ کرتے ہوئے ان علوم کے حوالے آتے رہتے ہیں‘ چنانچہ صرف ادب کو سمجھنے کے لیے ان میں دلچسپی لے رہا ہوں اور واقعی دو ایک برس کے اندر اندر انھوں نے یہ دفتر اٹھا کر طاق نسیاں پر رکھ دیا مگر کسی چیز کو سرسری طور پر دیکھ کر چھوڑ دینا تو ان کی سرشت کے خلاف تھا۔
جب اس طرف متوجہ ہوئے تو نجوم‘ رمل‘ جعفر کوئی میدان نہ چھوڑا۔ رمل کے لیے جو لڈو کے پانسے سے مشابہ‘ دو مضبوط تاروں میں پروئے ہوئے گٹکے سے استعمال ہوتے ہیں، اصولاً انھیں دھاتوں کے ایک متعین آمیزے سے‘ بروج و سیارگاں کی ایک خاص ساعت میں گھڑوایا جانا چاہیے ۔ یہ بات شاید میں نے صوفی صاحب ہی سے سنی تھی اور یہ بھی سننے میں آیا تھا کہ انھوں نے اپنی نگرانی میں انھیں صحیح معیار کے مطابق گھڑوایا تھا۔
پراسرار محبتوں کا امین: یہ مضمون دراصل صاحبزادہ غلام نظام الدین کی بابت ہے جو فارسی کے استاد تھے:وہ اعلیٰ ترین انسان تو بلاشبہ تھے ہی‘ فنی حوالے سے بھی ان کا مقام بہت بلند ہے۔ انھوں نے اپنی کتابیں ’’شعر ناب‘‘ اور’’شاخ گل‘‘ مجھے عنایت کی تھیں۔ ’’شعر ناب‘‘ نے مجھے بے حد متاثر کیا ہے۔ ان کی طبیعت میں شائستگی‘ سلیقہ مندی ‘ جمال پسندی‘ نفاست‘ نزاکت اور سلاست بے پناہ تھی۔ یہ تمام تر خصوصیات شعر ناب میں موجود ہیں۔ مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے شعر ناب ان کے مزاج ہی کا عکس جمیل ہے۔یہ بلا شبہ فارسی ‘ پنجابی اور اردو شاعری کا بہت عمدہ انتخاب ہے۔ فارسی شاعری کا اتنا اچھا انتخاب بہت کم ہوا ہے۔
محمود ابوالوفا: جو یہ مصر کا ایک اہم شاعر:1930 میں اچانک محمود ابو الوفا کا بہت چرچا ہوا۔ وہ اس طرح کہ رسالہ ’’المقتطف‘‘ نے اس کی نظم’’الایمان‘‘ شائع کی جسے زبردست مقبولیت حاصل ہوئی اور یکے بعد دیگرے ‘ پانچ نمایاں مجلات نے اس نظم کی اشاعت مکرر کا اہتمام کیا۔ المقتطف کے اس وقت کے مدیر اعلیٰ‘ ڈاکٹر فواد صروف نے ابوالوفا کو رسالے کی مجلس ادارت میں شرکت کی دعوت دی اور تبصرۂ کتب‘ بعنوان ’’مکتبۃ المقتطف‘‘ کا قلم دان اس کے سپرد ہوا۔ روایت ہے کہ اسی زمانے میں شوقی کا مجموعہ’’الشوقیات‘‘ بھی تبصرہ کے لیے اس کے پاس آیا اور اس نے کھلے دل سے اس پر موافقانہ تبصرہ لکھا۔
احمد شوقی کو شاید خلش تو اسی روز سے محسوس ہوتی ہو گی جب اس نے اپنے اعزاز میں منعقد ہونے والی تقریب میں بے ساکھی پر آنے والے ایک دیہاتی وضع کے نوجوان شاعر کو نگاہ کم سے دیکھا تھا ۔ اب تلافی کا خیال پیدا ہوا۔ چنانچہ ادبی تنظیم ’’رابطۃالادب الجدید‘‘ کی طرف سے ابوالوفا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جب حدیقۃ الازبکیہ میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تو گویا اسی کے تسلسل میں 21فروری کے اخبار ’’الاھرام‘‘ میں شوقی کی ایک نظم شائع ہوئی جس میں ابوالوفا کے ادبی کمال کا اعتراف کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اگرچہ وہ بے ساکھی کے سہارے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا چلتا ہے مگر اس کا تخیل آفاق گیر ہے۔
غالب اقبال کی نظر میں:علامہ اقبال‘ فن شعر میں‘ غالب کی روایت کے آدمی تھے ۔ اس فنی رشتے کی نشان دہی کرتے ہوئے ‘ شیخ عبدالقادر نے بانگ درا پر اپنے دیباچے کا آغاز یوں کیا: ’’کسے خبر تھی کہ غالب مرحوم کے بعد ہندوستان میں پھر کوئی ایسا شخص پیدا ہوا جو اردو شاعر ی کے جسم میں ایک نئی روح پھونک دے گا اور جس کی بدولت غالب کا بے نظیر تخیل اور نرالا انداز بیان پھر وجود میں آئیں گے اور ادب اردو کے فروغ کا باعث ہوں گے مگر زبان اردو کی خوش اقبالی دیکھئے کہ اس زمانے میں اقبال سا شاعر اسے نصیب ہوا‘‘۔
انھوںنے مزید کہا کہ:’’غالب اور اقبال میں بہت سی باتیں مشترک ہیں۔ اگر میں تناسخ کا قائل ہوتا تو ضرور کہتا کہ مرزا اسد اللہ خان غالب کو اردو اور فارسی کی شاعری سے جو عشق تھا اس نے ان کی روح کو عدم میں جا کر بھی چین نہ لینے دیا اور مجبور کیا کہ وہ پھر کسی جسد خاکی میں جلوہ افروز ہو کر شاعری کے چمن کی آبیاری کریں اور اس نے پنجاب کے ایک گوشے میں ‘ جسے سیالکوٹ کہتے ہیں ‘ دوبارہ جنم لیا اور محمد اقبال نام پایا‘‘۔
لارنس کی قبر تک:روش پر سیدھے چلتے ہوئے‘ ہم اس چار دیواری کی آخری حد کے قریب جا پہنچے۔ جہاں آ کر پختہ روش ختم ہو رہی تھی وہاں ‘ دائیں ہاتھ کی پہلی قبر لارنس کی تھی۔ سادہ سی قبر جس پر ایک سفید سنگی حاشیہ لگا ہوا تھا۔ سرہانے کے پتھر پر ایک عبارت ساری کی ساری بڑے حروف ( Capitals) میں درج تھی جس میںان لکھے ہوئے الفاظ کا نقش اور دونوں کے لیے مشترک تھا۔ عبارت کا متن یوں تھا:
To the dear memory of/ T.E/ Lawrence Fellow of All souls College/ oxford. Born 16 August 1882/ Died 19 May 1935./ The hour is coming & now is / when the dead shall her / the voice of the / Son of God/ and they thet hear shall live-
آخر کے یہ الفاظ یوحنا کی انجیل کے باب پنجم کی پچیسویں آیت کے ہیں۔قبر کے تعویذ پر دو ظروف دھرے تھے جن میں اگے ہوئے پھول گلدستے سے بنا رہے تھے۔ سرہانے کی جانب لوح مزار سے متصل رکھے ایک سفید کاغذ پر چار قطاروں میں چار چار سرخ گلاب بنے ہوئے تھے اور ان کے اوپر‘ سرنامے کی صورت میں‘ ایک تحریر تھی جسے جہاں دیکھ کر تعجب ہوا۔ اس لیے کہ یہ عربی میں تھی:۔
عید میلاد سعید رأی
الا اذا کانوا قد استعموا
زاہد منیر عامر‘ دانشگاہ تہران نے اس کتاب کے بارے میں کیا خوب لکھا ہے۔ڈاکٹر خورشید رضوی تحقیق کے میدان میں سربکف دکھائی دیں یا شخصیہ نگاری کی وادیاں قطع کریں‘ تنقید کے نشیب و فراز سے گزریں یا ترجمہ کی کٹھنائیاں سہل کرتے دکھائی دیں ان کی شخصیت کا عکس ان کی ہر تحریر میں دکھائی دیتا ہے‘ وہی شائستگی ‘ تہذیب ‘ رکھ رکھاؤ اور احساس فرض جو انھیں کسی بھی اظہار کے وقت دیانت داری کے معیاروں سے سر موانحراف نہیں کرنے دیتا‘ ان کی تحریر میں چمکتا دکھائی دیتا ہے۔ آج کے قاری ہی کو نہیںآج کے محققین اور مصنفین کو بھی اس روشنی کی اشد ضرورت ہے۔