سیاست فٹ بال کھیلتی ہے۔۔۔

حکومتوں اور سیاست دانوں نے دنیا کے مقبول ترین کھیل کو کہاں کہاں، کیسے کیسے استعمال کیا



غالب نے کہا تھا،’’کھیل لڑکوں کا ہوا، دیدۂ بینا نہ ہوا‘‘ ۔۔۔۔مگر آج کی دنیا میں لڑکوں کے ساتھ لڑکیاں بھی کھیل رہی ہیں اور رہا دیدۂ بینا کا معاملہ تو کھیل اب دل کے بہلانے کا بہانہ نہیں رہا، بلکہ معاشی یافت سے سیاسی مفادات تک ایک نہایت سنجیدہ سرگرمی بن چکا ہے۔

پاکستان میں تو خیر ہر کھیل پر سیاست کی چھاپ صاف نظر آتی ہے، خاص طور پر کرکٹ، جس کے ایک ’’کپتان‘‘ کھیل میں سیاست کر رہے تھے اور پھر سیاست کو کھلواڑ بنا کر رکھ دیا، اور پھر خود بھی سیاست کا شکار یوں ہوئے کہ جب ملک کی نمایاں کام یابیوں کو مشتہر کیا گیا تو ’’کرکٹ ورلڈ کپ‘‘ کی فاتح ٹیم کے کپتان کا ذکر اور تصویر غائب تھا۔ ہمارے ’’اطمینان‘‘ کے لیے یہ حقیقت بڑی خوش کن ہے کہ عالمی سطح پر بھی کھیل اور سیاست کا بڑا تال میل ہے، بالخصوص فٹ بال کی گولائی اور سیاست کا ٹیڑھا پن اکثر ہم آہنگ ہوجاتے ہیں۔ 

دنیا کے مقبول ترین کھیل فٹ بال اب محض ایک کھیل نہیں عالمی سیاست، معیشت، سفارت کاری، میڈیا، کاروبار اور ثقافتی اثرورسوخ کا طاقت ور ذریعہ بن چکا ہے جس کے اثرات دنیا کے تقریباً ہر خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ آج کسی بڑے فٹ بال ٹورنامنٹ کی میزبانی حاصل کرنا صرف کھیل کا اعزاز نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے بین الاقوامی وقار، معاشی ترقی اور سیاسی طاقت کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک ورلڈ کپ، براعظمی چیمپئن شپ اور دیگر بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں، لیکن یہ مہمان نوازی کا شوق نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے بہت بہت سی اغراض اور مقاصد کارفرما ہوتے ہیں، جن میں دنیا کے سامنے اپنے ملک کی مثبت تصویر پیش کرنا، سیاحت کو فروغ دینا، غیرملکی سرمایہ کاری حاصل کرنا اور عالمی سطح پر اپنا اثرورسوخ بڑھانا شامل ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم تہذیبوں میں بھی کھیلوں کو ریاستی طاقت، قومی وقار اور سماجی اتحاد کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یونان کے اولمپک مقابلے صرف جسمانی صلاحیت کے امتحان نہیں تھے بلکہ مختلف ریاستوں کے درمیان امن اور سفارتی تعلقات کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی سمجھے جاتے تھے۔ اور آج تاریخ خود کو پوری شدت کے ساتھ دہرا رہی ہے۔

فٹ بال کے منظم آغاز کے بعد ہی سے مختلف حکومتوں نے اس کھیل کی عوامی مقبولیت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔ قومی ٹیم کی کام یابی کو ملکی اتحاد اور قومی وقار کی علامت بنایا گیا، جب کہ بعض اوقات شکست کو بھی سیاسی تنازعات سے جوڑ دیا گیا۔ کئی ممالک میں حکومتوں نے عوام کی توجہ معاشی یا سیاسی مسائل سے ہٹانے کے لیے کھیلوں کی کام یابیوں کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔ فٹ بال لیجنڈ پیلے کی زندگی پر بنائی جانے والی فلمPelé: Birth of a Legend آپ کو اس صورت حال کی سرسری سی تفہیم ضرور فراہم کرسکتا ہے۔

بیسویں صدی کے دوران سرد جنگ کے زمانے میں کھیل، خصوصاً فٹ بال، اس نظریاتی مقابلے کا ہتھیار بن گیا جو کمیونسٹ اور سرمایہ داری دنیا کے درمیان جاری تھا۔ مشرقی اور مغربی بلاک کے درمیان ہونے والے مقابلے صرف کھیل تک محدود نہیں رہتے تھے بلکہ انہیں دونوں نظاموں کی برتری کے اظہار کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ اس دور میں کسی ٹیم کی کام یابی کو متعلقہ ملک کے سیاسی ومعاشی نظام کی کام یابی اور شکست کو اس کی ناکامی کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔

اس زمانے میں کئی اہم بین الاقوامی مقابلے ایسے ہوئے جن میں کھیل سے زیادہ سیاسی ماحول زیربحث رہا۔ بعض ممالک نے سیاسی احتجاج کے طور پر مقابلوں کا بائیکاٹ کیا، جب کہ بعض نے کھیلوں کے ذریعے سفارتی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی۔ اس سے یہ حقیقت مزید واضح ہوئی کہ فٹ بال صرف میدان میں ہونے والا مقابلہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کا بھی ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ سیاست اور فٹ بال کے میل ملاپ نے کتنی ہی کہانیاں جنم دی ہیں، چلیے ایسی ہی کچھ کہانیوں میں چلیں:

  1938 کا ذکر ہے۔۔۔ فرانس میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کا فائنل میچ کھیلا جارہا تھا۔ ہنگری کا گول کیپر ’’انتال سابو‘‘ ( Szabó Antal) دوسری بار اپنی قومی ٹیم کے ساتھ ورلڈ کپ کے معرکے میں شریک تھے۔ ہنگری کے فارورڈز شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے گول داغ کر اپنی ٹیم کو فتح کی طرف لے جا رہے تھے۔ ہنگری نے جس آسانی کے ساتھ اپنے ابتدائی میچ جیتے تھے، اس سے سابو اور ان کے ساتھیوں کو پورا یقین تھا کہ فائنل میں ان کا مدمقابل دفاعی چیمپئن اٹلی بھی ان کا راستہ نہیں روک پائے گا۔ لیکن یکایک بازی پلٹ گئی۔ جس گول کیپر نے فائنل تک پہنچنے کے سفر میں صرف ایک گول کھایا تھا، اس مقابلے میں گیند چار بار اسے جُل دیتی ہوئی گول پوسٹ کا جال چوم آئی اور اٹلی نے یہ دو کے مقابلے میں چار گول سے جیت کر دوبارہ فٹ بال کا عالمی تاج اپنے سر سجالیا۔ یہ دوسری عالمی جنگ سے پہلے کا آخری ورلڈ کپ فائنل تھا۔ ہنگری کی شکست کا بوجھ اٹھائے گول کیپر سابو نے میچ کے بعد ایک ایسا جملہ کہا جس نے تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ کے لیے امر کردیا، وہ جملہ تھا:

’’میں نے چار گول ضرور کھائے، لیکن میں نے گیارہ انسانوں کی جانیں بچالیں۔‘‘

وہ گیارہ انسان اٹلی کے کھلاڑی یعنی نئے ورلڈ چیمپئنز تھے، جنھیں فائنل میچ سے قبل اطالوی آمر بینیٹو مسولینی کا ایک مختصر اور دہشت بھرا ٹیلی گرام موصول ہوا تھا، لکھا تھا، ’’جیتو یا مرجاؤ۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ یہ وہ لمحہ تھا جب سیاست نے ورلڈ کپ کے اسٹیج پر باقاعدہ قدم رکھا، اور یہ ناتا پھر کبھی نہ ٹوٹ سکا۔

 فسطائیت کے زیرتسلط اٹلی وہ پہلا ملک تھا جس نے یہ بھانپ لیا تھا کہ ورلڈ کپ کو سیاسی طاقت کے اظہار کے لیے کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مسولینی کے لیے فٹ بال ایک ایسا خوب صورت نقاب تھا جس کے پیچھے وہ اپنی کام یابیوں کا ڈھنڈورا پیٹ سکتا تھا۔ اس نے 1934 کی اطالوی فتح کو دائیں بازو کی انتہا پسند قوم پرستی کو فروغ دینے کے لیے خوب استعمال کیا۔

اسی طرح، ایڈولف ہٹلر نے1936 کے برلن اولمپکس کو نازی جرمنی کے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا۔ دو سال بعد، یعنی 1938 کے ورلڈ کپ سے ذرا پہلے، نازی فوجیں ویانا میں داخل ہوگئیں، جس کی وجہ سے آسٹریا کی قومی ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرسکی۔ آسٹریا کا نام ٹورنامنٹ سے مٹ گیا اور اس کے کئی نامور کھلاڑیوں کو زبردستی جرمنی کی جرسی پہن کر میدان میں اترنا پڑا۔۔۔ جانے وہ کس دل سے کھیلے ہوں گے! تاریخ میں بہت سے حکم رانوں نے یہی راستہ اپنایا؛ وہ جانتے ہیں کہ ہر چار سال بعد قوم پرستی کے جذبات کس طرح اپنی ٹیم کے پیچھے یکجا ہو جاتے ہیں، چناں چہ وہ دنیا کے اس سب سے بڑے اسپورٹس ایونٹ کے اس بہاؤ کا سیاسی فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد اور میڈیا کی ترقی کے ساتھ ہی ورلڈ کپ کا سیاسی رخ بھی بدل گیا۔ اب یہ صرف سرحد پار بھیجے جانے والے ان ٹیلی گرامز تک محدود نہیں رہا جو بس اسکور اور گول کرنے والوں کے نام بتاتے تھے، بلکہ 1970کے میکسیکو ورلڈ کپ تک آتے آتے رنگین لائیو ٹیلی ویژن نشریات نے اسٹیڈیم کے چمکتے رنگوں کو دنیا بھر کے ڈرائنگ رومز تک پہنچا دیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ ٹورنامنٹ جنگ کے بعد کی بٹی ہوئی دنیا کا آئینہ دار بن گیا، جہاں منقسم جرمنی کی دو الگ الگ ٹیمیں میدان میں اتری تھیں۔ اس دور میں عالمی کپ کی میزبانی حاصل کرنے کے لیے یورپی طاقتوں (جو دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنی بحالی کی تگ ودو کر رہی تھیں) اور جنوبی امریکی ممالک (جنھوں نے ورلڈ کپ جیت کر کھیل پر حکم رانی کی تھی) کے مابین مقابلہ شدید سے شدید تر ہوتا چلا گیا۔ 1966 میں برطانیہ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں افریقی ممالک نے ایشیائی ٹیموں کے ساتھ صرف ایک مشترکہ سیٹ دیے جانے کے خلاف سخت احتجاج کیا اور کوالیفائنگ راؤنڈز کا مکمل بائیکاٹ کردیا۔

دوسری طرف، شمالی کوریا کی ٹیم اپنے آمر ’’کم ال سنگ‘‘ کے خوابوں کی تعبیر بن کر ابھری، جو فٹ بال کے میدان میں یورپ اور جنوبی امریکا کی بالادستی کو چیلینج کرنا چاہتے تھے۔ سرد جنگ کے ماحول نے 1974 کے ورلڈ کپ کو ایک ایسا میچ دیا جسے ’’بھوتوں کا میچ‘‘ ( Ghosts of Match) کہا جاتا ہے۔ چلی کی ٹیم اس میچ کے ذریعے ورلڈ کپ میں پہنچی، لیکن اس کے حریف سوویت یونین نے سانتیاگو کا سفر کرنے سے صاف انکار کردیا۔ فیفا نے روس کی اس درخواست کو مسترد کردیا تھا جس میں میچ کو چلی کے نیشنل اسٹیڈیم سے کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ روس کا موقف تھا کہ چلی کے جنرل اگسٹو پنوشے کی فوج نے چلی کے سوشلسٹ صدر سلواڈور الیندے کا تختہ الٹنے کے بعد، اس اسٹیڈیم کو ایک بڑے اذیتی کیمپ اور حراستی مرکز میں تبدیل کردیا ہے۔ اور پھر ہوا یوں کہ چلی کے کھلاڑیوں نے ایک خالی میدان میں، بغیر کسی مخالف ٹیم کے، فٹ بال کو اکیلے ہی گول پوسٹ میں پھینک کر یہ میچ جیتا۔ یہ منظر مضحکہ خیز بھی تھا، ایک سحرانگیز کھیل کے سیاست کے زیراثر آجانے کا المیہ بھی۔

جنوبی امریکا کے فوجی آمروں کو جلد ہی یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کے جادوگر کھلاڑیوں کی فتوحات اخبارات کی سرخیاں بن سکتی ہیں اور ان کے سفاکانہ دورِحکومت کے سیاہ کارناموں پر پردہ ڈال سکتی ہیں۔ برازیل اس وقت فوجی آمریت کے زیراثر تھا، اس نے 1970 میں فٹ بال کی تاریخ کی سب سے شان دار ٹیم تیار کی۔ یہ وہی ورلڈ کپ تھا جو پہلی بار رنگین اسکرین پر دکھایا گیا۔ برازیل کی ٹیم کی قیادت فٹ بال کے بادشاہ پیلے کر رہے تھے، جو ملک کے فوجی حکم راں جنرل ایمیلیو میڈیسی کے شدید دباؤ پر اپنی ریٹائرمنٹ واپس لے کر دوبارہ میدان میں اترے تھے۔ جنرل میڈیسی فٹ بال کے دل دادہ تھے لیکن وہ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ جواؤ سالدانہ کو سخت ناپسند کرتے تھے، کیوںکہ سالدانہ بائیں بازو کے ایک بے باک صحافی تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سالدانہ کو کوچنگ سے ہٹا دیا گیا اور انھیں پریس باکس میں بیٹھ کر اپنی ہی تیار کردہ ٹیم کو ٹرافی اٹھاتے دیکھنا پڑا۔ اس فتح نے جنرل میڈیسی کو وہ مقبولیت دی جس کے وہ خواہاں تھے، اور حکومت کو اپنا پسندیدہ نعرہ فروغ دینے کا موقع مل گیا،’’برازیل سے پیار کرو یا اسے چھوڑ دو۔‘‘

1976 میں ارجنٹائن میں جنرل جارج رافیل ویدیلا نے بغاوت کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ جب 1978 میں ارجنٹائن نے ورلڈ کپ کی میزبانی کی، تو جنرل ویدیلا برسرِاقتدار تھے۔ اسٹیڈیم میں گونجتے تماشائیوں کے نعروں اور ہوا میں اڑتے ہوئے رنگ برنگے کاغذوں کے ذریعے وہ ایسا شور اور رنگارنگ منظر پیدا کرنا چاہتے تھے جس میں ہزاروں لاپتا سیاسی کارکنوں اور ان کے خاندانوں کی چیخیں گُم ہوجائیں۔ ویدیلا کی حکومت ہر قیمت پر ارجنٹائن کو اپنی دھرتی پر چیمپئن بنتا دیکھنا چاہتی تھی، لیکن جیت کی راہ آسان نہیں تھی۔ گروپ اسٹیج سے آگے نکلنے کے لیے ارجنٹائن کو پیرو کی ٹیم کو کم از کم چار یا اس سے زیادہ گول کے فرق سے ہرانا تھا، جو ناممکن حد تک مشکل ہدف تھا، مگر ارجنٹائن نے وہ میچ صفر کے مقابلے میں چھے گول سے جیت لیا، جس نے دنیا بھر میں شک و شبہات کو جنم دیا۔

میچ شروع ہونے سے چند منٹ پہلے جنرل ویدیلا اور اس وقت کے امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر پیرو کے کھلاڑیوں کے ڈریسنگ روم میں گئے تھے، اور پھر میدان سے پہلے ہی ڈریسنگ روم میں فتح اور شکست کا فیصلہ ہوگیا۔ پیرو کو ’’ہرا کر‘‘ارجنٹائن کی ٹیم فائنل میں پہنچی جہاں ارجنٹائن کے لمبے بالوں والے اسٹار کھلاڑی ’’ماریو کیمپیس‘‘ نے اس میچ میں جادوئی کھیل پیش کرتے ہوئے نیدرلینڈ کو شکست سے دوچار کردیا، اور ارجنٹائن کے عوام آمریت اور اس کے سیاہ کارناموں کو بھول بھال کر جشن منانے سڑکوں پر نکل آئے۔ غرض برازیل ہو یا ارجنٹائن، ورلڈ کپ کی ان فتوحات نے وردی پوش آمروں کو اپنے اقتدار کو طول دینے اور اسے جائز ثابت کرنے کا ایک سنہرا موقع فراہم کیا۔

2018 کا عالمی کپ کا میلہ روس میں سجا، جس نے صدر ولادیمیر پوتن کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ خود کو زارِ روس کا سچا جانشین ثابت کر سکیں۔ پوتن نے دنیا کو دکھایا کہ ان کی نئی سلطنت، جو اولیگارخ (بڑے سرمایہ داروں) کی دولت سے مالا مال ہے، فٹ بال کے سب سے معتبر ٹورنامنٹ کی کتنی شان دار میزبانی کرسکتی ہے۔ ٹورنامنٹ دیکھنے آنے والے لاکھوں غیرملکی شائقین کے سامنے روس کا ایک انتہائی دوستانہ تشخص پیش کیا گیا، حالاںکہ اس سے چار سال قبل ( 2014 میں ) روس نے یوکرین کے علاقے کریمیا کو زبردستی اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ اسی سال روس نے سرمائی اولمپکس کی میزبانی بھی کی تھی، جہاں بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ روسی کھلاڑیوں کو حکومتی سرپرستی میں ممنوعہ ادویات (Doping) کا استعمال کرایا گیا تھا، کیوں کہ فتح یابی روسیوں کو فخر کی سوغات دینے کے لیے ضروری تھی۔

مختلف ثقافتوں کو قریب لاتے کھیل فٹ بال کی اس صلاحیت کا بھی بڑی مہارت سے سیاسی استعمال ہوا۔

 برطانوی حکومت نے 1950 کی دہائی میں سرد جنگ کے دوران ایک فٹ بال کا یہ ثقافتی پہلو سوچے سمجھے ہتھیار کے طور پر برتا۔ برطانیہ کو طویل عرصے تک فٹ بال میں اپنی برتری کا اس حد تک گھمنڈ تھا کہ برطانوی فٹ بال ایسوسی ایشن نے 1950 سے پہلے فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کرنا بھی گوارا نہ کیا، لیکن جب برطانیہ کی قومی ٹیم نے پہلی بار1950 اور 1954 کے ٹورنامنٹس میں قدم رکھا، تو اس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ اس سے بھی برا وقت 1953 میں آیا جب تاریخ میں پہلی بار برطانوی جزائر سے باہر کی کسی ٹیم نے انگلینڈ کو اس کے اپنے ہوم گراؤنڈ پر دھول چٹائی۔ یہ ایک نمائشی میچ تھا جس میں ہنگری نے برطانوی غرور کو خاک میں ملا دیا۔ ایک کمیونسٹ ملک کے ہاتھوں اس عبرت ناک شکست نے سرمایہ داری نظام کے گڑھ برطانیہ کی فٹ بال کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا اور پورے ملک میں مایوسی پھیل گئی۔ گویا یہ کھیل کے ساتھ سیاسی اور نظریاتی دھچکا بھی تھا۔ برطانوی حکومت نے انگریز کی روایتی ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے اپنا پتا پھینکا۔ بہت سے برطانوی کلبوں نے سوویت یونین کی ٹیموں کے ساتھ دوستانہ اور نمائشی میچوں کا سلسلہ شروع کیا۔ مقصد غالباً ’’فولادی پردے‘‘ کے پیچھے زندگی کرتے سوویت عوام تک رسائی حاصل کرنا تھا۔ دوسری طرف1950 کی دہائی کے وسط میں جوزف اسٹالن کے سفاکانہ دور کے بعد آنے والی نئی سوویت قیادت بھی دنیا کو یہ باور کرانا چاہتی تھی کہ اب حالات بدل چکے ہیں۔

تاریخ میں اس دور کو ’’برف کا پگھلاؤ‘‘ کہا جاتا ہے، جب سوویت حکومت نے سینسر شپ اور سیاسی جبر میں کچھ نرمی کی اور دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کی کہ کمیونزم لوگوں کی زندگیوں میں کیا مثبت تبدیلیاں لاسکتا ہے۔ اس نرمی نے برطانوی کلبوں اور قومی ٹیم کے لیے اپنے نظریاتی حریفوں کی دھرتی پر جا کر کھیلنے کے نئے راستے کھول دیے۔ برطانوی حکومت ان دوروں سے سیاسی فوائد چاہتی تھی۔ 1954 میں جب ’’آرسنل‘‘ (Arsenal ) کلب کو سوویت یونین کا دورہ کرنا تھا، تو ماسکو میں تعینات برطانوی سفارت خانے نے اپنی فٹ بال ایسوسی ایشن کو پہلے ہی ایک خفیہ مشورہ بھیجا جس میں کہا گیا:

’’ہمیں آرسنل پر زور دینا چاہیے کہ وہ ایک انتہائی فرسٹ کلاس اور مضبوط ٹیم میدان میں اتاریں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ کھلاڑی بہترین جسمانی حالت میں ہوں اور وہ (سفر کے دوران) زیادہ شراب نوشی سے پرہیز کریں... کم از کم اس سے یہ تو یقینی ہوگا کہ ہم میدان میں ایک باوقار اور مضبوط کارکردگی دکھاسکیں۔‘‘

آرسنل کے اس دورے کو اس قدر قومی اہمیت دی گئی کہ حکومت نے کھیل کے میدان میں شکست سے بچنے کے لیے باقاعدہ جاسوسی کا سہارا لیا۔ برطانوی سفارت خانے کے ایک ’’اسکاؤٹ‘‘ نے ماسکو کے فٹ بال کلبوں کی حکمت عملی اور کھیلنے کے انداز پر ایک تفصیلی رپورٹ تیار کر کے بھیجی تاکہ برطانوی ٹیم کو ان کے پینتروں کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔ تاہم، ریاستی سطح کی تمام تر مشاورت اور تدبیروں کے باوجود، آرسنل کو ماسکو ڈائنامو کے ہاتھوں پانچ، صفر سے عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، جسے برطانوی اخبارات ’’مرر‘‘ اور ’’ایکسپریس‘‘ نے ’’قتلِ عام‘‘ سے تعبیر کیا۔ اگرچہ برطانوی شہریوں کے سوویت عوام کے ساتھ یہ رابطے دونوں حکومتوں کی سخت گرفت میں تھے، لیکن انھوں نے اس دور کی ’’ثقافتی سرد جنگ‘‘ میں اہم جیوپولیٹیکل کردار ادا کیا۔

اگلے ہی سال (1955 میں) برطانوی فرسٹ ڈویژن کے چیمپئن کلب ’’وولور ہیمپٹن وانڈررز‘‘ (Wolverhampton Wanderers) نے سوویت یونین کا رخ کیا۔ اس بار ٹیم کے ساتھ سو کے قریب برطانوی شائقین، اخبارنویس اور ٹی وی رپورٹرز بھی ماسکو پہنچے۔ اگرچہ اس کلب کو بھی شکست ہوئی، لیکن اس دورے کی سب سے دل چسپ چیز وہ فلمی کلپس تھے جنھوں نے برطانوی عوام کو پہلی بار ماسکو کی جھلک دکھائی۔ سوویت یونین نے شائقین کے سامنے اپنا بہترین رخ پیش کیا۔ جب برطانوی ٹیم نے روس کے صدارتی محل ’’کریملن‘‘ کا دورہ کیا۔ محل کے اندر لگی توپ، ریڈ اسکوائر، اور لینن اور اسٹالن کے مقبروں کے مناظر نے برطانوی ناظرین کے لیے کمیونسٹ ماسکو کی بڑی دل فریب تصویر کشی کی۔ لینن کے مقبرے کے باہر برطانوی شائقین کو سوویت عوام کو قریب سے دیکھنے کا نادر موقع ملا، جن میں قازقستان اور منگولیا کے کسان بھی شامل تھے۔

اس منظر نے برطانوی عوام کو یہ احساس دلایا کہ سوویت دنیا ان کی اپنی دنیا سے کتنی مختلف ہے۔ ماسکو کی ان تصاویر نے برطانوی عوام کے دلوں میں سوویت یونین کے ساتھ بہتر تعلقات اور سرد جنگ کے خاتمے کی امیدیں جگا دیں۔ ان دوروں نے دونوں ممالک کے عام شہریوں کے مابین پیدا ہونے والی اس گرم جوشی نے سیاسی برف پگھلانے کا کام شروع کردیا تھا۔ تاہم بعد کے حالات نے پگھلتی برف کو دوبارہ منجمد کردیا، لیکن اس سارے معاملے سے فٹ بال کے ایک اچھے سفارت کار ہونے کے تصور کو جلا بخشی۔ یوں فٹ بال کو ’’غیررسمی سفارت کاری‘‘ کا وسیلہ کہا جانے لگا۔

یہ طلسم طاری کرتا کھیل ممالک میں داخلی ثقافتی یگانگت کی تدبیر بھی بن جاتا ہے۔  1998 میں جب فرانس نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر عالمی کپ جیتا، تو فاتح ٹیم کو ’’بلیک، بلانک، بیور‘‘ (سیاہ فام، سفید فام اور عرب) کا نام دیا گیا۔ ساتھ ہی فرنچ ٹیم کے کھلاڑی زین الدین یزید زیدان، جو زیڈان کے نام سے معروف اور الجزائری النسل ہیں، فرانس کے قومی ہیرو بن گئے۔ فرانس، جہاں نسلی فسادات ہوتے رہیں ہیں، نے اپنی ٹیم کو کثیرالثقافتی نام دے کر اسے اپنی رنگارنگی اور ثقافتی تنوع کی علامت بنادیا۔

ایک طرف فٹ بال نے امن کے نقیب کا کردار ادا کیا تو دوسری طرف یہ کھیل بعض اوقات چپقلش، تصادم اور جنگ کا سبب بھی بن جاتا، جیسے ایک مرتبہ یہ سو گھنٹے کی جنگ کا باعث بنا۔ یہ اس دور کا ذکر ہے جب وسطی امریکا کے دو پڑوسی ممالک، ہونڈوراس اور ایل سلواڈور کے درمیان سرحد اور امیگریشن کے مسائل پر شدید کشیدگی تھی، ایسے میں1970کے فیفا ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ میچوں کے دوران دونوں ممالک کی ٹیمیں ایک دوسرے کے سامنے آگئیں۔ اُدھر کھیل جاری تھا اور ادھر دونوں ممالک کے تماشائی آپس میں بھڑگئے۔ تماشائیوں کے مابین تصادم اور دنگا فساد کے بعد دونوں ممالک کے ذرائع ابلاغ نے نفرت انگیز مہم شروع کردی۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایل سلواڈور نے ہونڈوراس پر حملہ کردیا، جس میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے۔ اگرچہ جنگ کی اصل وجوہات سیاسی اور معاشی تھیں، لیکن فٹ بال کا میچ وہ چنگاری ثابت ہوا جس نے بارود کے ڈھیر میں آگ لگا دی۔1986 کے ورلڈ کپ کا کوارٹر فائنل میچ فٹ بال کی تاریخ کا سیاسی طور پر حساس ترین میچ مانا جاتا ہے۔

1982 میں ارجنٹائن اور برطانیہ کے درمیان فاک لینڈ جزائر‘‘ کے تنازع پر ایک خونریز جنگ ہوچکی تھی، جس میں ارجنٹائن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کی قومی انا کو شدید ٹھیس پہنچی تھی۔ جب 1986میں یہ دونوں ٹیمیں میکسیکو کے میدان میں آمنے سامنے آئیں، تو ارجنٹائن کے کھلاڑیوں اور عوام کے لیے یہ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ جنگ کا میدان تھا۔ ڈیاگو میراڈونا نے اس میچ میں دو ایسے گول کیے جو تاریخ کا حصہ بن گئے، جن میں پہلے گول نے ’’دستِ خدا‘‘ کا نام پایا، کیوں کہمیراڈونا نے بڑی چابک دستی سے ہاتھ کا استعمال کرتے ہوئے یہ گول کیا تھا۔ بعد میں میراڈونا نے اعتراف کیا کہ وہ گول برطانوی فوجیوں کے ہاتھوں مارے جانے والے ارجنٹائنی نوجوانوں کا ایک علامتی بدلہ تھا۔ دوسرا گول صدی کا بہترین گول قرار پایا۔ ارجنٹائن کی جیت نے پورے ملک کو وہ خوشی اور غرور دیا جو وہ جنگ کے میدان میں کھو چکے تھے۔

جوش وجذبے سے بھرے اس کھیل نے لوگوں کے سیاسی جذبات اور ردعمل کو زبان دینے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ اس طرح یہ عالمی بساط پر مہرہ بننے کے ساتھ ممالک کی داخلی سیاست میں بھی سیاسی، نسلی اور ثقافتی اظہار کا ذریعہ بن کر سامنے آیا۔

اسپین کے فٹ بال کلب بارسلونا ایف سی (FC Barcelona) کا سلوگن ہے، ’’MÉS QUE UN CLUB‘‘ (ایک کلب سے بڑھ کر)۔ یہ نعرہ اس کلب کی سیاسی اور ثقافتی حقیقت کا اظہار ہے۔ اسپین کے دورِآمریت میں جب جنرل فرانسسکو فرینکو، بارسلونا میں بولی جانے والی ’’کاتالان‘‘ زبان اور ثقافت کو کچل رہاتھا، تو بارسلونا کا اسٹیڈیم ’’کیمپ نو‘‘ (Nou Camp ) واحد ایسی جگہ تھی جہاں کاتالان بولنے والے عوام جمع ہوکر اپنی زبان بول اور اپنی آزادی کا اظہار کرسکتے تھے۔ آج بھی، جب بارسلونا میں فٹ بال میچ ہوتا ہے، تو اس اسٹیڈیم میں کاتالونیا کے علاقے کی آزادی کے جھنڈے لہرائے جاتے ہیں۔ یوں بارسلونا کلب دراصل ہسپانوی مرکزیت کے خلاف کاتالان قوم پرستی کی علامت بن گیا ہے۔ دوسری بارسلونا ایف سی اور ریال میڈرڈ کے درمیان ہونے والا ہر معرکہ ’’ایل کلاسیکو‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اسے دنیائے فٹ بال کا ایک بڑا اور نہایت دل چسپ مقابلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی جڑیں بھی سیاست میں پیوست ہیں۔ تاریخی طور پر ریال میڈرڈ کو ہسپانوی دارالحکومت اور جنرل فرینکو کی آمرانہ حکومت کا پسندیدہ کلب سمجھا جاتا تھا، جب کہ بارسلونا مظلوموں اور باغیوں کی علامت تھا۔ یہ میچ فٹ بال کے روپ میں دو بالکل مختلف سیاسی نظریات کا ٹکراؤ تھا۔

سیاسی اکھاڑا اور دل فریب سفارتی ذریعہ ہونے کے ساتھ فٹ بال حکومتوں، ممالک اور اقوام کو خوش نما اور ’’ملائم تاثر‘‘ (سوفٹ امیج) بنانے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ عالمی کپ کا شرفِ میزبانی حاصل کرنے کی دوڑ اس موقع کو ہاتھ میں لینے کے لیے کی جاتی ہے۔ عالمی کپ میزبان ملک کے لیے عالمی تجارت اور سیاحت کے در وا کرتا ہے، اور دنیا میں بھر میں اس کے لیے زاویہ نگاہ بدل جانے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے، اس ملک کی غیرجمہوری حکومتیں، اس سے منسوب انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور دیگر منفی پہلوؤں پر عالمی کپ کے دوران کی جانے والی سج دھج اور رنگارنگی حاوی آجاتی ہے۔ جیوپولیٹیکل مباحث میں اس عمل کو ’’اسپورٹس واشنگ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ’’اسپورٹس واشنگ‘‘ یا ’’بہ ذریعہ کھیل دُھلائی‘‘ سے مراد وہ عمل ہے جس میں کوئی حکومت، ریاستی ادارہ یا بڑی کمپنی کھیلوں میں سرمایہ کاری، عالمی مقابلوں کی میزبانی یا معروف کلبوں کی سرپرستی کے ذریعے اپنی بین الاقوامی ساکھ بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے۔

اس کی ایک مثال 2022 کا قطر ورلڈکپ ہے، جو فٹ بال کی تاریخ کا مہنگا ترین عالمی کپ قرار پایا۔ بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری کے نقطہ نظر سے، یہ قطر کے لیے ایک بہت بڑی کام یابی تھی، کیوںکہ عالمی کپ کے ذریعے قطر نے خود کو مشرقِ وسطیٰ کے ایک چھوٹے سے ملک کی حیثیت سے اٹھا کر دنیا کے نقشے پر ایک اہم سفارتی اور سیاحتی مرکز کے طور پر پیش کیا۔ اگرچہ قطر کو مغربی میڈیا کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مزدوروں کے استحصال کے حوالے سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ٹورنامنٹ کے کام یاب انعقاد نے قطر کا جو دل کش چہرہ دنیا کو دکھایا اس سے قطر کو بے پناہ فائدہ پہنچا۔

اسی طرح محمد بن سلمان کی زیرقیادت سعودی عرب نے جہاں ثقافتی سرگرمیوں کی مدد سے اپنے ’’دقیانوسی‘‘ تاثر کو بدلا ہے وہیں اس نے کھیلوں کو بھی اپنی اس حکمت عملی کا حصہ بنایا ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب نے فٹ بال کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ کرسٹیانو رونالڈو، نیمار اور کریم بنزیما جیسے عالمی ستاروں کو اپنی لیگ میں شامل کرنا اور 2034 کے عالمی فٹ بال کپ کی میزبانی کے حقوق حاصل کرنا محض کھیل کا شوق نہیں ہے۔ یہ سعودی عرب کی جیوپولیٹیکل حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ملکی معیشت کا رخ تیل سے ہٹاکر سیاحت کی طرف کرنا اور دنیا کے سامنے ملک کا ایک جدید، روشن خیال اور سرمایہ کار دوست تصور پیش کرنا ہے۔

اب ذرا ادھر کا رُخ کرتے ہیں جہاں اس کھیل کی بابت فیصلے ہوتے ہیں۔ دنیا میں فٹ بال کی سیاسی، معاشی، سماجی، ثقافتی اور سفارتی اہمیت کے باعث عالمی سطح پر اس کھیل کے بین الاقوامی مقابلوں کے انعقاد کے ذمے دار اور اس کے قواعدوضوابط طے کرنے والی تنظیم فیفا یعنی ’’Fédération Internationale de Football Association‘‘ ایک غیرمرئی ریاست کا روپ دھار چکی ہے۔

کہنے کو تو فیفا ایک کھیل کی تنظیم ہے، لیکن اس کی جیوپولیٹیکل طاقت کسی بڑی حکومت سے کم نہیں ہے۔ فیفا کے پاس اپنے قوانین ہیں، اپنا بجٹ ہے، اور اس کے رکن ممالک کی تعداد (211) اقوامِ متحدہ کے اراکین (193) سے بھی زیادہ ہے۔ اگرچہ فیفا نے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’’کھیل میں سیاست کی کوئی جگہ نہیں‘‘، لیکن وہ خود سیاست کی جگہ بن چکی ہے اور اس کا ہر بڑا فیصلہ خالصتاً سیاسی اور جیوپولیٹیکل ہوتا ہے۔ ورلڈ کپ کی میزبانی کس ملک کا مقدر ہوگی، یہ اکثر پردے کے پیچھے ہونے والی سفارتی سودے بازیوں کے ذریعے طے پاتا۔ 2015 میں فیفا کے اعلیٰ حکام کی گرفتاریوں نے یہ ثابت کیا کہ کس طرح روس (2018) اور قطر (2022) کو ورلڈ کپ کی میزبانی دینے کے لیے اربوں ڈالر کی رشوت اور سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال ہوا۔ روس کو ورلڈ کپ کی مہم اس لیے دی گئی تھی تاکہ وہ جزیرہ نما کریمیا کے پر قبضے اور الحاق کے بعد اپنے اوپر لگنے والی عالمی پابندیوں کے اثرات کم کرسکے اور اپنا عالمی تاثر بہتر بناسکے۔

تو صاحب! سمجھ میں آیا۔۔۔ یہ چھوٹی سی گول گیند جسے ہم فٹ بال کہتے ہیں عالمی وداخلی سیاست، ثقافت اور معیشت سمیت جانے کتنے دائروں کو لپیٹے فضاؤں میں اچھل رہی ہے۔