معصوم بچوں کو نشانہ بناتے ظالم اسرائیلی

پھولوں اور تتلیوں جیسی معصومیت و نرمی رکھتے فلسطینی بچوں کو اسرائیلی حکمران طبقے نے جس وحشت وسفاّکیت سے شہید کیا، اس کی مثال پوری تاریخ ِ انسانیت میں نہیں ملتی



’’بچہ دنیا میں موجود خدا کا حُسن ہے، کسی بھی خاندان کے لیے سب سے بڑا تحفہ ۔‘‘ ( مدر ٹریسا )

 ’’بچے وہ زندہ پیغامات ہیں جو ہم اُس دور کی طرف بھیجتے ہیں جسے ہم خود نہیں دیکھ پائیں گے۔‘‘(امریکی صدر،جان ایف کینیڈی )

 ’’بچے وہ ہاتھ ہیں جن کے ذریعے ہم جنّت تھام لیتے ہیں۔‘‘ (امریکی پادری،ہنری وارڈ بیچر )

٭٭

سنگلاخ دنیا رہنے کی خوبصورت جگہ بناتے شرارتی و چنچل بچوں کی اہمیت اُجاگر کرتے درج بالا اقوال پڑھیے اور پھر اقوامِ متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ دیکھیے تو احساس ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکمران طبقے کو جتنا بھی ظالم، بے حس اور سفاک کہا جائے، اتنا ہی کم ہے۔ اِس لرزہ خیز رپورٹ میں غزہ میں حالیہ جنگ کے آغاز سے اب تک فلسطینی بچوں کے خلاف ہوئے اسرائیلی مظالم کا جائزہ لیا گیا ہے۔یہ انکشاف کرتی ہے کہ اسرائیلی افواج کے ہاتھوں شہید ہونے والے اہل فلسطین میں تقریبا’’ً 30 فیصد بچے ‘‘ہیں۔یہ خوفناک حقیقت مگر دنیا کے امیر ترین انسان، ایلن مسک نے اپنی ٹویٹ میں اُجاگر نہیں کی جو مغرب میں بستے مہاجرین کے معمولی جرائم بھی بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے۔

پچھلے سال ماہ ستمبر میں اسی کمیشن کی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی انجام دی اور وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سمیت اسرائیلی حکام اہل فلسطین کو شہید کرنے کے اقدامات کو ہوا دیتے رہے ۔ نیتن یاہو جنگی جرائم کے الزام میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کو الگ سے مطلوب بھی ہے۔

اہل فلسطین کی نسل کشی

قانونی اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی ماہرین کی تحقیق کے بڑے حصے نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کو تباہ اور اُن کی نسل کشی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان ماہرین میں اقوامِ متحدہ کے تفتیش کار، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندے اور دنیا بھر میں نسل کشی کے ممتاز ماہر شامل ہیں۔نسل کشی دوسری جنگِ عظیم اور ہولوکاسٹ (یہودیوں کے قتلِ عام) کے بعد عالمی سطح پر جرم قرار پائی تھی۔ اِسے سب سے سنگین بین الاقوامی جرم سمجھا جاتا ہے۔نسل کشی کے جرم کی روک تھام اور سزا کے کنونشن کے مطابق اس کی تعریف یہ ہے: ’’کسی قومی، نسلی، لسانی یا مذہبی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کے ارادے سے کیا جانے والا کوئی بھی عمل۔‘‘

اقوامِ متحدہ کے کمیشن نے تیس جون کو جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا کہ جنگ کے دوران اور اکتوبر 2025 ء میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا اور ہلاک کیا گیا۔رپورٹ کی رو سے یہ عمل اسرائیلی حکام اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے غزہ میں فلسطینی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ اور نسل کشی کے ارادے کو ثابت کرنے کے لیے ایک بنیادی عنصر ہے۔

کمیشن کے چیئرمین، سری نواسن مرلیدھر(بھارتی جج) نے رپورٹ کے ساتھ جاری کردہ ایک بیان میں کہا: ’’شواہد سے پتا چلتا ہے کہ فلسطینی بچوں کو اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا اور ہلاک کیا گیا۔‘‘کمیشن نے بتایا کہ بچوں کے جانی نقصان میں مسلسل اضافے کے باوجود اسرائیلی افواج نے گنجان آباد رہائشی علاقوں میں بھاری بارود اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کمیشن کا ماننا ہے، بچوں کو اجتماعی طور پر اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز پوری سویلین آبادی کو حماس اور دیگر مسلح گروہوں سے وابستہ سمجھتی ہے۔

مرلیدھر نے کہا ’’بچوں کو نشانہ بنا کر اسرائیل فلسطینی عوام کے زندہ رہنے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت کمزور کر رہا ہے۔‘‘رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے غزہ پر جو حالات مسلط کیے…بشمول بڑے پیمانے پر حملے، بار بار نقل مکانی اور امداد، خوراک اور ادویہ کی ناکہ بندی کے باعث پیدا ہونے والی فاقہ کشی…انھوں نے بچوں کی صحت اور ان کی نشوونما کو شدید نقصان پہنچایا۔ نتیجے میں بچوں کی ایسی اموات اور ذہنی صدمے (ٹروما) سامنے آئے جن سے بچا جا سکتا تھا۔

اس رپورٹ میں نہ صرف غزہ بلکہ مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) پر بھی توجہ مرکوز کی گئی جہاں بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) کی جانب سے اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے باوجود اسرائیل کا کنٹرول برقرار ہے۔مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں کمیشن نے فلسطینی بچوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں (سیٹلرز) کے تشدد میں شدید اضافہ پایا۔اور بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں اور حراست کے دوران تشدد کے دستاویزی شواہد ریکارڈ کیے جن میں جنسی اور صنف پر مبنی تشدد بھی شامل ہے۔

فلسطینی بچوں کے بچپن کی روح تباہ

 ’’تم مر جاؤ گے، تمہارے بچے مر جائیں گے، تمہارے پوتے پوتیاں مر جائیں گے … کوئی فلسطینی ریاست نہیں ہوگی، بالکل نہیں ہوگی۔‘‘ (اسرائیلی رکن پارلیمنٹ، حنوک ملودسکی، لیکود پارٹی۔21 فروری 2024ء )

7 اکتوبر 2023 ء تک غزہ کی پٹی کی تقریباً نصف آبادی 18 سال سے کم عمر کی تھی۔ یہ بچے پہلے ہی اپنی پوری زندگی اسرائیلی ناکہ بندی اور قبضے کے سائے میں گزار اور جنگ و جدل اور صدمات کے متعدد دور دیکھ چکے تھے۔ 7 اکتوبر 2023 ء سے 7 اکتوبر 2025 ء کے درمیان غزہ میں جاری جنگی کارروائیوں کے براہِ راست نتیجے میں کم از کم 20,179 بچے شہید اور 44,143 بچے زخمی ہوئے جو اس مدت کے دوران شہید ہوئے اہل فلسطین کا 30 فیصد اور زخمی ہونے والوں کا 26 فیصد بنتا ہے۔ کمیشن نے نوٹ کیا کہ ماضی میں ہونے والی کشیدگیوں کے مقابلے میں (شہید ہونے والے) بچوں کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے۔ 2008-2009 ء اور 2014 ء کی جنگی کارروائیوں کے دوران تنازع کے باعث ہونے والی اموات میں بچے تقریباً 24 فیصد تھے۔

اکتوبر 2025 ء تک غزہ میں شہید ہوئے بچے غزہ کے 12 لاکھ بچوں کی کُل آبادی کا تقریباً دو فیصد بنتے ہیں۔ اس عرصے کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے کم از کم 5031 بچے شہید ہوئے جن میں سے 1029 بچے ایک سال سے کم عمر کے اور تقریباً 420 نوزائیدہ بچے تھے۔ کمیشن کا کہنا ہے، غزہ میں جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں شہید اور زخمی ہونے والے بچوں کی اصل تعداد یقیناً رپورٹ کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ تنظیم ،سیو دی چلڈرن کے تخمینے کے مطابق تقریباً 5160 بچے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

مزید برآں نامعلوم تعداد میں فلسطینی بچے ایسے ہیں جو اپنی موت کے اندراج کے بغیر گمنام قبروں میں دفن یا محض لاپتا ہیں۔ دو سالہ مدت کے دوران غزہ میں بچوں کے جانی نقصان میں جارحیت کے مختلف مراحل کے حساب سے نمایاں اتار چڑھاؤ آیا جو جنگ کی شدت، جغرافیائی پھیلاؤ اور اسرائیلی فوجی حکمتِ عملیوں اور کارروائیوں میں تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔

غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں رہائشی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے دھماکہ خیز ہتھیاروں اور بھاری گولہ بارود کا وسیع استعمال دیکھا گیا۔ نتیجے میں پورے کے پورے رہائشی محلے مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ غزہ میں ایسے ہتھیاروں کے وسیع استعمال کا بچوں کے جانی نقصان پر گہرا اثر پڑا ۔ تحقیق سے پتا چلا کہ دھماکہ خیز ہتھیاروں کے اثرات سے بچوں کی موت کا امکان بڑوں کے مقابلے میں سات گنا زیادہ ہے۔ وجہ ان کی جسمانی نزاکت ہے یعنی جسم کا متناسب طور پر بڑا سطحی رقبہ، لچکدار ہڈیاں، چھوٹے اعضا اور پتلی جلد۔ اپنے چھوٹے سائز اور ہلکے وزن کی وجہ سے بچوں کو دھماکوں پر دور گرنے کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں لگنے والے زخموں سے بڑوں کے مقابلے میں چھوٹے بچوں کے ہلاک ہونے کا امکان زیادہ ہے ۔

غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں نے پورے کے پورے خاندانوں کا نام و نشان مٹا دیا ۔ 23 مئی 2025 ء کو خان یونس میں دو اسرائیلی فضائی حملوں نے ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا ۔ نتیجے میں 10 میں سے 9 بچے اور ان کے والد شہید ہو گئے۔ دونوں والدین ڈاکٹر تھے۔ واحد زندہ بچنے والا بچہ ایک 11 سالہ لڑکا، شدید زخمی ہوا اور اسے اس کی والدہ کے ساتھ طبی علاج کے لیے بیرون ملک منتقل کیا گیا۔ مبینہ طور پر اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے کہا تھا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں تاہم کمیشن کو کسی تحقیق کے نتیجے کا علم نہیں ہو سکا۔

لڑائی میں عارضی وقفوں کے دوران بھی بچوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کا سلسلہ جاری رہا۔اس سے ظاہر ہے کہ لڑائی میں ہر وقفہ سب سے زیادہ کمزور طبقے کے تحفظ میں بار بار ناکام رہا ۔ ایک مثال، 18 مارچ 2025ء کو اسرائیل نے بغیر کسی پیشگی وارننگ کے غزہ بھر میں فضائی حملوں کی لہریں شروع کر وقفہ ختم کر دیا جس سے دوپہر تک کم از کم 170 بچے شہید ہو گئے۔ 18 اور 31 مارچ 2025 ء کے درمیان اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے فضائی حملوں، بمباری اور زمینی کارروائیوں میں کم از کم 322 بچے جاں بحق اور 609 بچے زخمی ہوئے۔یہ صرف دو ہفتوں میں روزانہ کم از کم 100 فلسطینی بچوں کے شہید یا زخمی ہونے کے برابر ہے۔

دھماکہ خیز ہتھیار: سنگین زخم ، عمر بھر کی معذوری

’’بغیر کسی انتباہ کے اسکول کے سامنے لگ بھگ چار یا پانچ دھماکے ہوئے۔ میں اپنے تین سالہ بھتیجے کو ڈھونڈنے باہر بھاگا جس کے والدین پچھلے فضائی حملے میں شہید ہوچکے تھے۔ وہ خون میں لت پت تھا اور اس کی ٹانگیں کٹ چکی تھیں، وہ مجھے اٹھانے اور بچانے کے لیے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارے کر رہا تھا۔‘‘ ( ایک تین سالہ یتیم بچے کے چچا کا بیان جوخود تین مختلف حملوں میں شدید زخمی ہوا )

کمیشن کی جانب سے کی گئی ایک تحقیقاتی مثال کے مطابق 20 اور 21 دسمبر 2023 ء کے درمیان شیخ رضوان میں اسرائیلی فوجیوں نے بغیر کسی انتباہ کے ایک گھر کے اندر چار ہینڈ گرنیڈ پھینکے جس میں خاندان کے تیس افراد موجود تھے۔ اس حملے میں ایک پانچ سالہ بچہ شدید زخمی ہوا جس کے پیٹ کے اندرونی اعضا باہر نکل آنے نیز جسم پر متعدد شدید زخم آئے۔ اس کے بعد اسرائیلی سیکیورٹی فورسز زبردستی گھر میں داخل ہوئیں، والدین سمیت خاندان کے آٹھ افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور بچ جانے والوں کو قریبی اسکول میں منتقل ہونے کا حکم دیا۔

 اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے زخمیوں کو نہ تو کوئی طبی امداد فراہم کی اور نہ ہی انہیں وہاں سے نکالنے میں کوئی مدد کی۔ بچے کو شدید زخموں کے ساتھ گھر سے اسکول منتقل کیا گیا۔ اسکول پہنچ کر وہ بے ہوش ہو گیا جہاں ایک ڈاکٹر نے ڈائپرز کا استعمال کرتے ہوئے اس کی باہر نکلی آنتوں کو دوبارہ اندر کیا اور پیٹ پر ٹیپ لگا کر اس کا علاج کیا۔ بعد میں اسے الشفا ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سرجری کی گئی۔ بعد ازاں دسمبر 2025 ء تک کی معلومات کے مطابق بچے کو طبی بنیادوں پر غزہ سے باہر منتقل کیا گیا اور اس کی آٹھ سرجریاں ہوئیں، جبکہ تین مزید سرجریوں کی اب بھی ضرورت تھی۔

 یہ بچہ اپنی ایک ٹانگ سے مستقل طور پر معذور ہو چکا اور اسے وہیل چیئر استعمال کرنی پڑتی ہے۔ یہ بچہ اور اُس کا زندہ بچ جانے والا چھ سالہ بھائی اُس واقعے کے نتیجے میں شدید ذہنی صدمے اور نفسیاتی تبدیلیوں کا شکار ہیں، خاص طور پر اس وجہ سے کہ انہوں نے اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اپنے والدین کا وحشیانہ قتل اپنی آنکھوں سے دیکھا جس میں ان کی حاملہ ماں کے پیٹ اور چھاتی پر اور والد کے سر میں گولی ماری گئی تھی۔ کمیشن نے پایا ، اُس واقعے کے وقت اسرائیلی فوج کے 162 ویں ڈویژن کے فوجی، خاص طور پر 401 ویں بریگیڈ اور شایتیت 13 (Shayetet 13) اس علاقے میں کارروائیاں کر رہے تھے۔

معذور فلسطینی بچوں پہ ظلم

اکتوبر 2023 ء سے پہلے غزہ میں معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچوں کی تعداد 90,000 تھی۔ معذور افراد کے حقوق سے متعلق اقوامِ متحدہ کی کمیٹی (CRPD) نے تخمینہ لگایا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 ء سے 3 ستمبر 2025 ء کے درمیان غزہ میں کم از کم 21,000 بچے نئے معذور ہوئے اور تقریباً 40,500 بچے جنگ سے متعلقہ چوٹوں کا شکار ہوئے۔ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں معذور بچے زیادہ غیر محفوظ ہو گئے اور وہ صحت کی دیکھ بھال سمیت بنیادی خدمات کی معطلی سے بھی شدید متاثر ہوئے ۔

اسرائیل کی ناکہ بندی کی وجہ سے بہت سے معذور بچوں کو وہیل چیئر، سننے کے آلات، بیٹریاں اور دیگر ضروری اوزاروں تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی جس سے ان کے محفوظ طریقے سے انخلا کرنے اور انتہائی نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ۔ مزید برآں کئی رپورٹوں کے مطابق جنگی کارروائیوں نے بچوں کی پہلے سے موجود معذوریوں اور طبی حالتوں کو مزید بگاڑ دیا ۔ نتیجے میں جسمانی کارکردگی میں کمی آئی اور دوسروں پر انحصار بڑھ گیا ۔جبکہ سامان کی ناکہ بندی اور نتیجے میں محدود خدمات نے ان کی کمزوری کو بڑھا دیا اور مناسب دیکھ بھال اور مدد تک رسائی میں رکاوٹ ڈالی ۔

 بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا

 ’’زخموں کے مجموعے اور جسم کے نشانہ بنائے گئے حصوں کی بنیاد پر میرا اندازہ ہے کہ اسرائیلی فوجی نوعمر لڑکوں کو نشانہ بازی کے کھیل (ٹارگٹ پریکٹس) کے طور پر جان بوجھ کر گولیاں مار رہے ہیں ۔ مختلف دنوں میں جسم کے مختلف حصوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے... ایک بہت واضح پیٹرن موجود ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ بچوں کے جسم کے مختلف حصوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا ہے۔‘‘ ( ایک ڈاکٹر جنہوں نے طبی مشن پر غزہ کا دورہ کیا)

کمیشن نے ایسے معاملات کی تحقیقات کیں اور انہیں دستاویزی شکل دی جو غزہ میں اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنائے جانے کا ایک مستقل نمونہ ظاہر کرتے ہیں۔ ان میں ایسے واقعات شامل ہیں جہاں بچوں کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ اپنے خاندانوں کے ساتھ انخلا کی کوشش کر رہے تھے ۔یا پناہ گاہوں جیسے بے گھر افراد کے کیمپوں، خوراک کی تقسیم کے مراکز یا غزہ کے دیگر مقامات پر موجود تھے۔ کمیشن نے ویڈیوز، تصاویر اور طبی رپورٹوں بشمول سی ٹی اسکینز کو جمع، تجزیہ اور محفوظ کیا اور متعدد آزاد اداروں کی تحقیقاتی رپورٹوں کا جائزہ لیا ۔ کمیشن نے کئی گواہوں بشمول طبی ماہرین کے انٹرویو بھی کیے اور درج ذیل واقعات کے تجزیے میں دو آزاد فارنزک پیتھالوجسٹ (فورنزک ماہرینِ امراض) سے بھی مشاورت کی ۔

29 جنوری 2024 کو غزہ شہر کے علاقے تل الہویٰ میں سات افراد پر مشتمل ایک فلسطینی خاندان اور فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی ایمبولینس میں سوار دو پیرامیڈکس (طبی عملہ) پر، جو ان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے حملہ کیا اور انہیں شہید کر دیا۔ کمیشن نے 7 اکتوبر 2023 ء سے جولائی 2025ء کے درمیان غزہ کے مختلف ہسپتالوں میں تعینات کل 17 طبی ماہرین کے انٹرویو کیے جنہوں نے کواڈ کاپٹرز (ڈرون) یا سنائپرز (نشانہ بازوں) کے ذریعے بچوں کو گولی کا ایک ہی زخم لگنے کا ایک مستقل پیٹرن رپورٹ کیا۔ایک ہی گولی سے بچے کو شہید کرنا طاقت کے استعمال میں اعلیٰ درجے کی درستگی (پریسیشن) ظاہر کرتا ہے۔اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ گولی کو اتفاقی یا اندھا دھند فائرنگ کے بجائے احتیاط سے نشانہ بنا کر چلایا گیا ۔ ایسے معاملات میں یہ نمونہ متاثرہ بچے کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی نشاندہی ہے۔

فلسطینی بچے بطور’’دہشت گرد‘‘

کمیشن نے پایا کہ غزہ میں فلسطینی بچوں کو اسرائیلی حکومت نے اپنی تقاریر، بیانات ، اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ)، میڈیا اور سوشل میڈیا پر اپنے بیانیے میں واضح طور پر ’’دہشت گرد‘‘ کے طور پر پیش کیا ۔ 9 اکتوبر 2023 ء کو کنیسٹ کے ایک رکن اور کنیسٹ کے ڈپٹی اسپیکر، نسیم وتوری نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا: ’’غزہ کو مٹا دو۔ اس کے علاوہ کوئی چیز ہمیں مطمئن نہیں کرے گی۔ یہ قابل قبول نہیں کہ ہم اسرائیل کے ساتھ ایک دہشت گرد اتھارٹی کو برقرار رکھیں۔ وہاں ایک بچہ بھی نہ چھوڑیں، آخر میں باقی تمام لوگوں کو نکال باہر کریں، تاکہ ان کا دوبارہ جنم نہ ہو سکے۔‘‘ 30 جنوری 2025 ء کو اس نے دوبارہ کہا: ’’غزہ دہشت گردوں سے بھرا ہوا ہے اور وہاں پیدا ہونے والا ہر بچہ اپنی پیدائش کے لمحے سے ہی پہلے سے ہی ایک دہشت گرد ہے۔‘‘

 16 اکتوبر 2023 ء کو کنیسٹ کی ایک رکن، میراف بین اری نے پارلیمنٹ میں دعویٰ کیا ’’غزہ کے بچوں کا (اسرائیلی بچوں سے)کوئی موازنہ یا برابری نہیں ۔ غزہ کے بچے (اپنی موت) خود اپنے اوپر لے کر آئے ہیں۔‘‘ فروری 2024 میں اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن غفیرنے ، جو کئی اہم کمیٹیوں میں خدمات انجام دینے والا ایک سینیئر اسرائیلی وزیر ہے، مطالبہ کیا کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز غزہ کی سرحد کے قریب آنے والے کسی بھی شخص کو بلا جھجھک گولی مار دیں۔ اس نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ٹویٹ کیا: ’’کوئی معذرت نہیں اور کوئی ہچکچاہٹ نہیں۔ جو بھی باڑ کے قریب آتا اور ریاستِ اسرائیل کے شہریوں اور ہمارے ہیرو سپاہیوں کو خطرے میں ڈالتا ہے، اسے گولی مار دی جانی چاہیے۔ ہر عام ملک میں ایسا ہی کیا جاتا ہے! ہمیں 6 اکتوبر والے تصّور کی طرف واپس نہیں جانا چاہیے!‘‘

یہ بیان اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی ’’کھلی فائرنگ‘‘ (اوپن فائر) کی ہدایت کے لیے بن غفیر کی حمایت کا اظہار تھا ۔اس نے اسرائیلی فوجیوں کو ترغیب دی کہ وہ بچوں سمیت کسی بھی شخص کو جائز نشانہ سمجھیں۔ اس نے حد بندی کے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کو گولی چلانے کا مکمل اختیار دے دیا۔ جولائی 2024 ء کو اسرائیلی کنیسٹ کے رکن امیت ہلیوی نے دعویٰ کیا کہ محصور الشفاء ہسپتال کے میٹرنٹی وارڈ (شعبہ زچگی ) میں موجود 300 فلسطینی بچے ’’سب کے سب پیدائشی دہشت گرد‘‘ ہیں۔

 اسرائیل کی کنیسٹ کے سابق لیکود ممبر اور انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان، موشے فیگلین نے مئی 2025 میں اسرائیل کے چینل 14کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا: ’’غزہ میں ہر بچہ، ہر شیر خوار بچہ ایک دشمن ہے۔ دشمن حماس نہیں اور نہ ہی یہ حماس کا فوجی ونگ ہے... غزہ کا ہر بچہ دشمن ہے۔ ہمیں غزہ کو فتح کرنے اور وہاں اپنی بستیاں بسانے کی ضرورت ہے اور وہاں غزہ کا ایک بچہ بھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری فتح نہیں ہے۔‘‘

ستمبر 2025 ء میں اسرائیلی اخبار،ہاریتز کے ایک مضمون میں اسرائیلی فوجیوں کے اعترافات ریکارڈ کیے گئے، جن میں ناحل بریگیڈ کا ایک سنائپر (نشانے باز) بھی شامل تھا۔اس نے روزانہ 50 سے 60 گولیاں چلانے کا ذکر کیا جس کے نتیجے میں بچوں سمیت کئی لوگ مارے گئے۔ اس نے وضاحت کی کہ کئی بار بٹالین کمانڈر کی طرف سے اسے مجبور کیا گیا اور دھمکی دی گئی کہ وہ متاثرین پر گولیاں چلائے خواہ ان کی عمر کچھ بھی ہو۔

مغربی کنارے میں قتال اور معذور بنانا

 ’’ہم اپنے سپاہیوں کی ہر قیمت پر حمایت کرتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ اس کا نتیجہ کچھ بھی ہو... جنین میں، کوئی بھی بچہ معصوم نہیں ۔ جو لوگ 2006 ء میں گوش کاٹیف کے اخراج (انخلا) کے دوران پیدا ہوئے تھے، وہ 7 اکتوبر (کے حملے) پر 2026 ء کا 'نکبہ' (تباہی) ہیں... میرے دل میں اپنے دشمنوں کے لیے تھوڑی سی بھی ہمدردی کا احساس نہیں ۔‘‘( اسرائیلی کنیسٹ ممبر یتزہاک کروئزر 25 مارچ 2026 ء کو اجلاس کے دوران)

 اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے 7 اکتوبر 2023 ء سے 20 اکتوبر 2025 ء کے درمیان مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں 213 فلسطینی بچوں (206 لڑکے اور سات لڑکیاں) کو شہید کیا۔ ان ہلاکتوں کی اکثریت جنین، طولکرم، طوباس اور نابلس میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران ہوئی، باوجود اس کے کہ وہاں کوئی عمومی جنگی حالات نہیں تھے۔ کمیشن کا اندازہ ہے کہ بڑی تعداد میں لڑکوں کی شہادت اس پالیسی کی عکاس ہے جس کے تحت لڑکوں کو ’’دہشت گرد‘‘ یا ’’مستقبل کے دہشت گرد‘‘کے مبینہ خطرے کے طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

 کمیشن نے پایا کہ فلسطینی لڑکوں کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک الگ گروہ کے طور پر باقاعدہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔یہ سکیورٹی کے اس صنفی ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے جو فلسطینی مرد کی شناخت کو (خواہ وہ بچے ہی کیوں نہ ہوں) خطرے سے جوڑتا ہے۔ لڑکیاں بھی محفوظ نہیں کیونکہ وہ بڑی تعداد میں گھروں کے اندر بھی شہید اور زخمی کی جاتی ہیں ۔ گویا فلسطینی بچوں کے لیے کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ۔

اسرائیلی آباد کاراور بچوں کا قتل

 ’’میں نے دوسروں کو خبردار کرنے کے لیے چلانے کی کوشش کی لیکن ایسا نہ کر سکی کیونکہ آباد کاروں نے میرا منہ بند کر دیا تھا۔انھوں نے عبرانی میں گالیاں دیتے ہوئے مجھے زبردستی اور پرتشدد طریقے سے گھسیٹا۔( ایک بچی جو مسلح اسرائیلی آباد کاروں کے ہاتھوں اغوا اور بدسلوکی کا شکار ہوئیمگر زندہ بچ گئی۔)

. 7 اکتوبر 2023 ء سے مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں فلسطینی شہریوں بشمول بچوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد میں تیزی سے اضافہ ہوا ۔ 2025 ء کی پہلی ششماہی میں اسرائیلی آباد کاروں نے، جنہیں اکثر اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی حمایت یا تحفظ حاصل تھا، 230 فلسطینی بستیوں میں املاک کو نقصان پہنچانے سمیت 1,000 سے زیادہ حملے کیے۔ان میں 11 فلسطینی شہید اور 700 دیگر آباد کاروں یا اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں زخمی ہوئے۔

 یہ اوسطاً تقریباً 133 حملے ماہانہ بنتے ہیں جو 2006 ء میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے ریکارڈ جمع کرنے کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ ماہانہ اوسط ہے۔ جون 2025 ء میں کسی ایک مہینے کے دوران اسرائیلی آباد کاروں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ 7 اکتوبر 2023ء سے 30 ستمبر 2025ء کے درمیان آباد کاروں نے شہید ہونے والے 19 فلسطینیوں میں سے دو لڑکوں کو شہید کیا، اور زخمی ہونے والے 1603 فلسطینیوں میں سے 156 لڑکوں اور آٹھ لڑکیوں کو زخمی کیا۔ بہت سے معاملات میں آباد کاروں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں فرق کرنا مشکل ہے کیونکہ آباد کار اکثر فوجیوں کے ساتھ مل کر یا ان کی چشم پوشی کے سائے میں کام کرتے ہیں جس سے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے درمیان لکیریں دھندلا جاتی ہیں۔

 اسرائیلی حکومت براہِ راست ان آباد کاروں کے حملوں میں ملوث ہے جنھوں نے فلسطینی عوام کو قتل کیا، جسمانی اور ذہنی نقصان پہنچایا اور انہیں بے گھر کیا۔ اسرائیلی حکام نے مالی اور فوجی مدد کے ذریعے ایسے حملوں کو ممکن بنایا جبکہ اسرائیل کے عدالتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہائیوں سے آباد کاروں کے تشدد کے خلاف استثنیٰ (سزا سے چھوٹ) کا جمود برقرار رکھا ہوا ہے۔

گرفتاری کے دوران بچوں سے بدسلوکی

 ’’تم اسرائیل جا رہے ہو؛ تم جہنم جا رہے ہو۔‘‘ (ایک اسرائیلی فوجی نے ایک 15 سالہ فلسطینی لڑکے سے کہا جس کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی اور ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔ وہ اسے اسرائیلی ٹرک میں اسرائیلی جیل منتقل کر رہا تھا۔)

اکتوبر 2023 ء سے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی بڑے پیمانے پر من مانی گرفتاریوں کے طور پر فلسطینی بچوں کو گرفتار اور حراست میں لیا گیا ۔ غزہ سے حراست میں لیے گئے بچوں کی تعداد نامعلوم ہے کیونکہ اسرائیلی حکام نے نہ تو ڈیٹا ظاہر کیا اور نہ ہی گرفتار بچوں کے ٹھکانے کا پتا بتایا ۔

 نومبر 2023ء کے قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کے بعد حراست سے رہا ہونے والے بچوں نے بتایا کہ ان کی رہائی سے قبل اسرائیلی حکام نے انہیں دھمکی دی کہ اگر انہوں نے حراست کے دوران اپنے ساتھ پیش آنے والے سلوک کے بارے میں بات کی تو انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا جائے گا۔ ان دھمکیوں نے حراست کے دوران ہونے والے جسمانی اور نفسیاتی تشدد کو مزید شدید کر دیا ۔ نتیجے میں وہ مسلسل دوبارہ گرفتاری کے خوف اور شدید عدم تحفظ کے احساس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔کچھ بچوں نے بتایا کہ انہیں ایک دستاویز پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا یا اسرائیلی افواج نے انہیں حکم دیا کہ اگر انہوں نے اپنی رہائی کے تین سال کے اندر مخصوص سرگرمیوں میں حصہ لیا (مثال کے طور پر قیدیوں کی رہائی کا جشن منانا یا کوئی علامات یا بینر لہرانا)، تو اسرائیلی افواج انہیں دوبارہ گرفتار کر لیں گی۔

جنسی اور صنف پر مبنی تشدد

 ’’اس قافلے کی قیادت ایک اسرائیلی فوجی جیپ کر رہی تھی جس کے پیچھے تین ٹرک تھے ۔ان پر غزہ کے نیم برہنہ لڑکے اور مرد سوار تھے۔ پیچھے ایک اور فوجی جیپ تھی جس میں اسرائیلی فوجی تصاویر اور ویڈیوز بنا اور ہر پانچ منٹ بعد ٹرکوں کے قریب ہوا میں فائرنگ کر رہے تھے۔‘‘ ( ایک فلسطینی قیدی نے بتایا کہ کس طرح غزہ میں لڑکوں اور مردوں کو ان کے زیر جامہ تک برہنہ کر کے اسرائیل کے فوجی اڈوں پر لے جایا گیا)

کمیشن پچھلی رپورٹ میں پہلے ہی یہ نتیجہ اخذ کر چکا تھا کہ فلسطینی لڑکوں اور مردوں کو ان کی صنف اور فلسطینی شناخت کی بنیاد پر مخصوص جنسی نوعیت کے سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔ مقصد انہیں خاص طور پر 7 اکتوبر 2023 ء کو ہونے والے واقعات کی سزا دینا اور ذلیل کرنا تھا۔ تب سے جنسی نوعیت کے سلوک کا نشانہ بناتے ہوئے بشمول عوامی طور پر زبردستی برہنہ کرنے کی فلسطینی لڑکوں کی تذلیل آمیز اور رسوا کن حالات میں تصاویر اور ویڈیوز بنائی گئی ہیں۔ کمیشن نے اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے ارکان کی جانب سے لڑکوں کے خلاف جنسی استحصال کے واقعات کی تحقیقات کی۔ ایک گواہ نے بتایا کہ کس طرح غزہ میں ایک اسرائیلی خاتون فوجی نے دو نوعمر لڑکوں کو، جنہیں زیر جامہ تک برہنہ کیا گیا تھا، دوسرے قیدیوں کے سامنے ناچنے کا حکم دیا اور ہنستے ہوئے ان کے ناچنے کی ویڈیو بنائی۔

مشرقی یروشلم کے ایک واقعے میں مبینہ طور پر ایک 14 سالہ لڑکی کی تلاشی لی گئی ۔ جب وہ اپنے اسکول جاتے ہوئے باب الزاہرہ پولیس اسٹیشن کے پاس سے گزر رہی تھی تو اسے جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔ ایک فوجی نے اسے رکنے کا حکم دیا، پھر اس کے بیگ کا سامان زمین پر پھینک دیا اور اسے ایک قریبی جگہ پر گھسیٹ کر لے گیا جہاں نگرانی کے کیمرے (سی سی ٹی وی) نہیں تھے۔ مبینہ طور پر دو فوجیوں نے اس کے سینے، گردن اور کمر کو چھوا۔ جب اس نے تلاشی کے لیے کسی خاتون فوجی کا مطالبہ کیا تو ایک فوجی نے اسے تھپڑ مارا، جنسی جملے کسے اور کہا ’’تم لوگ قاتل ہو۔‘‘ کمیشن نے پایا کہ ان اقدامات کا مقصد شکار (متاثرہ لڑکی) کو ذلیل اور مغلوب کرنا تھا اور یہ سیکورٹی وجوہ کی بنا پر نہیں کیے گئے۔

صحت مراکزپر حملے اور بچوں پہ اثرات

 ’’میں ایک چھوٹے لڑکے سے ملا جس کے نچلے اعضا(ٹانگوں) پر شدید زخم تھے۔ چند نوعمر لڑکے اس کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ جب میں نے لڑکے سے پوچھا کہ اس کے والدین کہاں ہیں، تو اس نے جواب دیا کہ وہ شمالی (غزہ)میں ہیں، لیکن بڑے لڑکے پیچھے سے اشارہ کر رہے تھے کہ اس سے والدین کے بارے میں نہ پوچھوں۔ بعد میں بڑے لڑکوں نے مجھے بتایا کہ انخلا کے دوران اس کا پورا خاندان مارا گیا اور ان میں اسے اس کے خاندان کے بارے میں بتانے کی ہمت نہیں تھی۔ چنانچہ اب ہسپتال میں ملنے والے انجان لوگ اس بچے کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔‘‘ ( ایک ڈاکٹر جنہوں نے طبی مشن پر غزہ کا دورہ کیا)

7 اکتوبر 2023 ء سے پہلے غزہ میں بچوں کے کم از کم تین بڑے ہسپتال تھے: شمالی غزہ میں النصر چلڈرن ہسپتال، الدرہ چلڈرن ہسپتال اور الرنتیسی سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال جو 12 سال تک کے بچوں کو خصوصی دیکھ بھال فراہم کرتے تھے۔ جنگ کے پہلے دو مہینوں میں ہی بچوں کے ان تینوں ہسپتالوں کو زبردستی بند کر دیا گیا ۔ کمیشن نے نوٹ کیا کہ اکتوبر 2023 ء سے اب تک غزہ کے ہسپتالوں کو بار بار بند ہونے پر مجبور کیا گیا ۔ وہ دوبارہ کھلے، عام طور پر صرف جزوی طور پر لیکن اکثریت مکمل طور پر فعال ہونے کے قابل نہیں رہی۔نومبر 2023 ء میں النصر چلڈرن ہسپتال پر کم از کم تین بار اور 10 نومبر کو حملے کیے گئے۔ جب اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے حملے نے بجلی کی سپلائی منقطع کر دی، تو آکسیجن کی کمی کے باعث ایک بچے کی موت ہو گئی اور آٹھ دیگر بچوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئیں۔

نومولود فلسطینی بچوں کا المیّہ

 ’’اسرائیل کی طرف سے فلسطینی بچوں کی طویل مدتی صحت کے نتائج متاثر کرنے کے لیے براہ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہم حاملہ خواتین اور بچوں کی مدد کے لیے غزہ میں ادویہ نہیں لا سکتیں۔ اس وجہ سے نومولود بچوں میں شرح اموات زیادہ ہے۔‘‘( ایک ایمرجنسی روم اور پیڈیاٹرک (بچوں کی) نرس)

مارچ 2025 ء میں شائع شدہ ایک سابقہ رپورٹ میں کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیلی حکام نے تولیدی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی منظم تباہی کے ذریعے غزہ میں فلسطینیوں کی شرحِ تولید (بچے پیدا کرنے کی صلاحیت) کو جزوی طور پر تباہ کر دیا ہے۔اس میں دسمبر 2023 ء میں غزہ کے سب سے بڑے فرٹیلٹی کلینک، البسمہ ان وٹرو فرٹیلائزیشن سینٹر کی تباہی بھی شامل ہے۔ اس تشدد کے بچوں کی پیدائش پر براہ راست، غیر متناسب اور طویل مدتی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

تولیدی، زچگی، نوزائیدہ اور شیر خوار بچوں کی خدمات متاثر کرنے والے اسرائیلی حملوں کے باعث آلات، ادویات اور صحت کے شعبے کے ماہرین کی شدید قلت پیدا ہو گئی جس نے خاص طور پر نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے یونٹس اور پیدائش سے پہلے اور پیدائش کے وقت ضروری دیکھ بھال فراہم کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ۔ یونیسیف نے رپورٹ کیا ہے کہ تنازع کی وجہ سے وقت سے پہلے پیدا ہونے والے، غذائی قلت کا شکار یا نشوونما کے مسائل اور دیگر طبی پیچیدگیوں کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا جس نے جنین کی نشوونما، پیدائش اور دیکھ بھال کو متاثر کیا ۔

تعلیمی اداروں پر حملے اور بچے

 ’’بچپن میں، میں ہمیشہ اپنے اسکول کو اڑانے کا خواب دیکھتا تھا۔ آج میں ایک اسکول اڑا رہا ہوں۔ واہ!‘‘( ایک اسرائیلی فوجی، ’اسکولوں کو اڑانے میں ہمیشہ مزہ آتا ہے‘‘ کے عنوان سے بنائی گئی ایک ویڈیو میں)

 7 اکتوبر 2023ء اور 11 اکتوبر 2025 ء کے درمیان غزہ میں اسکولوں کی کل 564 عمارتوں میں سے 459 پر براہ راست حملے کیے گئے۔ نشانہ بننے والی عمارتوں میں سے 208 اسکولوں کی عمارتیں غزہ گورنریٹ میں، 125 خان یونس میں، 95 شمالی غزہ میں، 70 دیر البلح میں اور 66 رفح گورنریٹ میں تھیں۔ چونکہ اکتوبر 2023 ء سے پہلے غزہ کے 61 فیصد اسکول دوہری یا تہری شفٹوں میں چل رہے تھے، اس لیے تباہ ہونے والی ہر اسکول کی عمارت نے ہزاروں طلبہ کو متاثر کیا۔ براہ راست نشانہ بننے والی اسکولوں کی459 عمارتوں میں تنازع سے پہلے تقریباً 497,712 طلبہ اور 18,740 اساتذہ موجود تھے۔

7 اکتوبر 2023ء اور 11 اکتوبر 2025 ء کے درمیان پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہونے والی اسکولوں کی عمارتوں میں سے 81.4 فیصد (459 عمارتوں) پر براہ راست حملے کیے گئے۔ نتیجے میں بڑی تعداد میں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ شمالی غزہ اور رفح گورنریٹ سب سے زیادہ متاثر ہوئے جہاں اسکولوں کی 100 فیصد عمارتوں کو یا تو براہ راست نشانہ بننے والی یا تباہ شدہ قرار دیا گیا ۔ اس کے بعد خان یونس گورنریٹ ہے جہاں اکتوبر 2025 ء تک اسکولوں کی کل عمارتوں میں سے 98.4 فیصد تباہ ہو چکیں۔

نومبر 2025 ء تک غزہ میں تعلیمی نظام مکمل طور پر مفلوج (تباہ) ہو چکا تھا۔ 97 فیصد سے زائد اسکولوں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو چکے تھے۔93 فیصد اسکولوں کو دوبارہ فعال ہونے کے لیے بڑے پیمانے پر مرمت یا مکمل تعمیرِ نو کی ضرورت تھی۔ اسکولوں پر ہوئے بہت سے حملوں میں عینی شاہدین نے بتایا کہ کسی قسم کی کوئی وارننگ نہیں دی گئی۔ یا حملوں سے کچھ دیر پہلے ہی انخلا کی وارننگ دی گئی جس سے لوگوں کو وہاں سے بھاگنے کا کافی وقت نہیں ملا۔

اعلیٰ تعلیم کی سہولیات کو بھی نشانہ بنا کر تباہ یا نقصان پہنچایا گیا جس سے یونیورسٹیوں کے تقریباً 88,000 طلبہ متاثر ہوئے۔ ان میں الازہر یونیورسٹی کا ایک کیمپس شامل تھا جسے دسمبر 2023 ء میں مسمار کیا گیا۔ اسراء یونیورسٹی کا ایک کیمپس شامل تھا جسے جنوری 2024 ء میں مسمار کیا گیا۔ نومبر 2025 ء تک غزہ میں یونیورسٹیوں کے 95 فیصد کیمپس متاثر ہو چکے تھے۔38 میں سے 22 مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور مزید 14 کو مختلف درجوں کا نقصان پہنچا۔

تعلیمی ترقی پر حملوں کے اثرات

’’جب بچے تعلیم حاصل کرنے کا موقع کھو دیں، تو وہ اپنا مستقبل کھو دیتے ہیں۔‘‘( ایک استاد نے کمیشن کو بتایا)

 اسرائیل کے حملوں سے پہلے غزہ تاریخی طور پر دنیا میں سب سے زیادہ شرح خواندگی رکھنے والے خطّوں میں سے ایک تھا۔ اسرائیلی حملوں نے تعلیمی شعبے کو تباہ کر کے رکھ دیا ۔ غزہ میں بچے تین سال کی رسمی تعلیم سے محروم ہو چکے۔ فروری 2025 ء میں ماہرین تعلیم نے رپورٹ کیا، اسرائیل نے غزہ میں اسکول جانے کی عمر کے 668,000 سے زیادہ بچوں کو رسمی تعلیم اور ایک فعال تعلیمی نظام کے ساتھ ملنے والے حفاظتی تعاون سے محروم کر دیا ۔ جنوری 2026 ء تک پانچ سال سے کم عمر 335,000 سے زیادہ بچے ابتدائی بچپن کی خدمات کے مفلوج ہونے سے شدید ترقیاتی تاخیر (نشوونما کے مسائل) کے خطرے سے دوچار تھے۔

 آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم فراہم تو کیے گئے ہیں لیکن وہ رسمی تعلیم کے نقصان کا متبادل ثابت نہیں ہو سکے جس میں زندگی کے معمولات اور استحکام کا ایک اہم احساس بھی شامل ہے۔اقوام متحدہ کی تنظیم، اونروا نے عارضی تعلیمی مراکز اور اپنے فاصلاتی تعلیم کے اقدام کے ذریعے سیکھنے کی خدمات فراہم کی ہیں۔ جنوری 2026 ء تک یونیسیف کے قائم کردہ 100 عارضی تعلیمی مراکز میں تقریباً 136,000 بچے زیرِ تعلیم تھے۔ 15 مارچ 2026 ء تک 59,980 بچوں نے جن میں 34,165 لڑکیاں، 25,815 لڑکے اور 838 معذور بچے شامل تھے، اونروا کی 75 ہنگامی پناہ گاہوں میں قائم 609 کمروں میں فراہم کردہ تعلیمی اور تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں حالات

 اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں مخصوص اسکولوں کے خلاف بندش اور مسماری کے احکامات جاری کیے ۔ 8 اپریل 2025 ء کو اسرائیلی حکام اور سیکورٹی فورسز زبردستی مشرقی یروشلم میں اونروا کے زیر انتظام چھ اسکولوں میں داخل ہوئے اور انہیں 30 دن کے اندر بند کرنے کا حکم دیا۔8 مئی 2025 ء کو اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے شعفاط کیمپ میں اونروا کے تین اسکولوں پر چھاپہ مارا۔اس کے 550 سے زائد بچوں کو بے دخل کر دیا گیا اور چھ اسکولوں کو خالی کرنے پر مجبور کیا گیا۔ وہ چھ اسکول آج تک بند ہیں جس سے تقریباً 800 طلبہ متاثر ہو رہے ہیں۔

متاثرہ طلبہ کو ان کے علاقے کے دیگر دستیاب اسکولوں میں منتقل ہونا پڑا یا اونروا کی آن لائن تعلیم تک رسائی حاصل کرنی پڑی۔ 20 اکتوبر 2025 ء تک مغربی کنارے کے سب سے زیادہ کمزور علاقوں میں 85 اسکول (جہاں تقریباً 13,000 طلبہ، بشمول 6,557 لڑکیاں پڑھتی ہیں، اور کم از کم 1,089 اساتذہ، بشمول 649 خواتین اساتذہ تعینات ہیں) جزوی یا مکمل مسماری کے احکامات کا سامنا کر رہے تھے یا انہیں کام روکنے کے احکامات موصول ہوئے تھے۔تنظیم، اوچا (OCHA) کے مطابق یہ مسماریاں اور مسماری کے خطرات ایک جابرانہ ماحول پیدا کرتے ہیں جس سے رہائشیوں پر علاقہ چھوڑنے کا دباؤ بڑھتا ہے اور وہ زبردستی منتقلی کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔

اسرائیلی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں اسکولوں پر براہ راست حملے کیے ۔ کمیشن کی طرف سے دستاویزی شکل میں محفوظ کیے گئے ایک واقعے میں، جنوبی ہیبرون (الخلیل) کی پہاڑیوں میں واقع خربت زنوطہ گاؤں کے ایک اسکول کو آباد کاروں نے متعدد مواقع پر تباہ کیا، خاص طور پر نومبر 2023ء اور دوبارہ اپریل 2025 ء میں جس کے دوران اسکول کے مرمت شدہ حصوں اور فرنیچر کو چوری یا نقصان پہنچایا گیا۔ گاؤں پر بشمول اسکول کے خلاف آباد کاروں کے بار بار ہونے والے حملوں کی وجہ سے 120 بچوں سمیت 285 رہائشی 28 اکتوبر 2023 ء کو وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ کمیشن نے 2024 ء کی ایک ویڈیو فوٹیج کا جائزہ لیا جس میں گاؤں کا اسکول بڑے پیمانے پر مسمار، جلا ہوا اور دیواروں پر چاکنگ (وال گرافٹی) کے ذریعے خراب حالت میں دکھایا گیا ۔ ذمے دار آباد کاروں کو ان کے اقدامات پر کسی قسم کے قانونی نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

یتیم خانے بھی نہ چھوڑے گئے

’’ شہید والدین کے بچوں کے معاملے میں اخلاقی کمیٹی کی مدد سے انھوں(ہسپتال والوں نے) خاندان کے دیگر افراد یا پڑوسیوں کو تلاش کیا تاکہ وہ ان کی دیکھ بھال کر سکیں کیونکہ ہسپتال میں کوئی جگہ نہیں تھی اور یتیم خانے اپنی کم گنجائش کے ساتھ پہلے ہی بھر چکے تھے۔ اس لیے اب اُن بچوں کی کوئی شناخت نہیں ہے۔‘‘( بچوں کے امراض اور نومولود بچوں کے ماہرِ ڈاکٹر)

اکتوبر 2023 ء سے غزہ میں دسیوں ہزار بچے نئے سرے سے یتیم ہو چکے یا اپنے خاندانوں سے بچھڑ چکے جس کی وجہ سے وہ بے سہارا اور اکیلے نابالغ رہ گئے ہیں۔ فلسطینی مرکزی بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق 2020 ء میں غزہ میں 26,349 بچے (عمر 0 سے 17 سال) یتیموں کی زندگی گزار رہے تھے۔انھوں نے اپنے والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کو کھو دیا تھا۔ 7 اکتوبر 2023 ء اور 7 اکتوبر 2025 ء کے درمیان ایک اندازے کے مطابق 58,554 بچے اپنے والدین میں سے ایک یا دونوں سے محروم ہو گئے۔17,000 سے 18,000 کے درمیان بچے ایسے تھے جو اکیلے رہ گئے یا اپنے والدین سے بچھڑ گئے۔

 غزہ میں بچے خود کو اپنے خاندانوں سے الگ، تنہا اور بے سہارا پا رہے ہیں۔ کچھ بچے حملوں کے دوران بچھڑ گئے اور ہسپتالوں میں اکیلے داخل رہے یا اجنبیوں کے رحم و کرم پر تھے۔ ایک مثال میں ایک ڈاکٹر نے کمیشن کو الاقصیٰ ہسپتال میں وہیل چیئر استعمال کرنے والے ایک زخمی لڑکے کے بارے میں بتایا جس کی دیکھ بھال نوجوانوں کا ایک گروپ کر رہا تھا۔ ان نوجوانوں نے لڑکے کو تکلیف سے بچانے کے لیے یہ نہیں بتایا تھا کہ اس کا پورا خاندان مارا جا چکا اور وہ خاندان کا واحد زندہ بچ جانے والا فرد ہے۔

 مارچ 2024 ء میں کمیشن نے مصر میں ایک ہسپتال کے بستر پر ایک ایسے ہی تنہا فلسطینی بچے سے ملاقات کی جو شدید پٹیوں میں جکڑا ہوا اور مکمل طور پر حرکت کرنے سے قاصر تھا۔ اسے غزہ سے طبی بنیادوں پر نکالا گیا تھا اور بیس سال کے لگ بھگ عمر کا ایک اجنبی لڑکا اس کی دیکھ بھال کر رہا تھا،وہ اس زخمی بچے سے ہسپتال میں تب ملا تھا جب وہ ساتھ والے کمرے میں داخل اپنے سگے زخمی بھائی کے ساتھ آیا ہوا تھا۔

 بچوں پر نقل مکانی اور محاصرے کے اثرات

 ’’ایک وقت ایسا بھی آیا جب ہمیں بلی کی خوراک کھانی پڑی اور روٹی بنانے کے لیے گدھے کی خوراک (چارہ) پیسنی پڑی۔ اُس کا ذائقہ انتہائی ناگوار تھا لیکن ہمیں زندہ رہنے کے لیے، بقا کے لیے اسے کھانا پڑا۔‘‘ ( ایک ساڑھے تیرہ سالہ لڑکا جو دسمبر 2023 ء میں اپنے گھر پر ہونے والے فضائی حملے میں شدید زخمی ہوا تھا)

13 اکتوبر 2025 ء تک کم از کم 19 لاکھ فلسطینی جو کل آبادی کا تقریباً 90 فیصد بنتے ہیں، غزہ کی پٹی کے اندر ہی زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیے جا چکے تھے۔ کمیشن نے اسرائیلی حکام کے بیانات اور فوجی کارروائیوں کے دوران اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے طریقوں اور طرزِ عمل کا تجزیہ کیا اور اپنی پچھلی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل نے بطور قابض طاقت غزہ کے اندر سویلین آبادی کو زبردستی منتقل کیا جو ایک جنگی جرم اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

 کمیشن نے یہ بھی نوٹ کیا کہ زبردستی نقل مکانی کے نتیجے میں بچوں سمیت عام شہری پناہ گاہوں اور کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہو گئے،ایسے حالات میں جو نہ صرف غیر انسانی، ذلت آمیز اور رسوا کن تھے بلکہ انتہائی خطرناک اور غیر محفوظ بھی تھے۔ اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے نقل مکانی کے ان مقامات پر بھی حملے جاری رکھے جنہیں محفوظ قرار دیا گیا تھا۔

خاندانوں کو متعدد بار وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا، اور مارچ 2026 ء تک کے حالات کے مطابق حالیہ فضائی حملوں نے نقل مکانی کے مقامات پر پناہ گاہوں کو تباہ کر دیا جہاں ضرورت سے زیادہ بھیڑ، سیوریج (گندے پانی) کے پھیلاؤ اور بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی کی وجہ سے زندگی کے حالات انتہائی ابتر بنے ہوئے ہیں۔ ہر بار کی نقل مکانی نے وہاں سے نکلنے والوں کی غیر محفوظ صورتحال اور ان کے ذہنی صدمے (ٹروما) میں اضافہ کیا۔ بچوں کو اپنے خاندانوں کے ساتھ بار بار محفوظ جگہ، کھانے پینے کی اشیا اور پانی اور بیمار یا زخمی ہونے کی صورت میں طبی امداد کی تلاش کے مشکل عمل سے گزرنا پڑا۔ کمیشن نے ایسے بہت سے لوگوں سے بات کی جنہیں بار بار نقل مکانی کرنی پڑی اور براہ راست ان سے ان کے تجربات کے صدمے کے بارے میں سنا۔ ایک ماں نے کمیشن کو بتایا کہ وہ اپنے چار چھوٹے بچوں کے ساتھ کتے کے ایک پنجرے میں رہی جس کے اوپر بارش اور سردی سے بچنے کے لیے ایک کور ڈالا ہوا تھا۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ وہ دس دس افراد کے ساتھ ایک ہی گدھے پر سوتے تھے یا باری باری نیند لے لیتے ۔ سینکڑوں لوگ ایک ہی باتھ روم استعمال کرتے ۔ نتیجے کے طور پر بہت سے فلسطینی، خاص طور پر بچے جلد کی بیماریوں، انفیکشنز اور دائمی اسہال (ڈائریا) کا شکار ہو گئے۔

بچوں کی قابلِ علاج امراض سے اموات

 ’’بھوک سے مارنے کی مہم؟ یہ ایک رسوائی اور شرم کی بات ہے۔ یہ ہمارا قصور ہے کہ وہ بھوکے ہیں؛ وہ مرنے کے ہی لائق ہیں! پورا غزہ اس کے ’’معصوم‘‘ باشندوں سمیت جلایا جانا چاہیے، بڑے سے لے کر چھوٹے تک جو شیطان کے بچے ہیں!‘‘ ( 18 مارچ 2024 ء کو ایک اسرائیلی فوجی کا بیان)

. کمیشن نے جون 2024 ء کی اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل نے جنگی حربے کے طور پر جان بوجھ کر شہریوں کو بھوکا رکھنے کے جنگی جرم کا ارتکاب کیا۔ اس سے بچوں پر، بشمول بچوں کے امراض اور نوزائیدہ مریضوں پر شدید جان لیوا اثرات مرتب ہوئے ۔ صحت کے نظام بشمول انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچے) کی تباہی نے ان خطرات کو مزید بڑھا دیا جس سے معمولی اور قابلِ علاج بیماریاں بھی مہلک اور جان لیوا صورتحال میں تبدیل ہو گئیں۔

 2025 ء میں تقریباً 95,000 بچوں میں شدید غذائی قلت کی تشخیص ہوئی۔ دسمبر 2025 ء تک پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 320,000 بچوں کو غذائی قلت کا شکار ہونے کا خطرہ لاحق پایا گیا جن میں سے لگ بھگ 100,000 بچوں کو جسمانی کمزوری اور سوکھے پن کے لیے خصوصی علاج کی ضرورت تھی۔ اگرچہ اکتوبر 2025 ء کی جنگ بندی کے بعد غزہ کا کوئی بھی علاقہ قحط کی صورتحال میں نہیں لیکن غزہ کی تقریباً تمام آبادی اب بھی غذائی عدم تحفظ کی ہنگامی صورتحال سے دوچار ہے۔ مزید اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دسمبر 2025 ء سے 2026 ء کے وسط تک، چھ سے 59 ماہ کی عمر کے تقریباً 101,000 بچوں کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کی توقع ہے جن میں 31,000 سے زیادہ انتہائی شدید کیس شامل ہیں۔

 فلسطینی بچوں کو پہنچانفسیاتی نقصان

 ’’ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ (شعبہ حادثات) میں لائے جانے والے بچے اپنے ارد گرد بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں کی افراتفری دیکھتے جہاں لوگ چیخ رہے تھے، اعضاء کٹ کر اڑ چکے تھے، ہر طرف خون تھا... یہ بچے ایک کونے میں بیٹھے خالی نظروں سے گھورتے رہتے، خاموش تھے اور یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے، بغیر کسی ایسے بالغ فرد کے جو ان کے اس صدمے کو سنبھالنے میں مدد کرتا یا انہیں تحفظ کا احساس دلاتا۔ بچوں کی ذہنی صحت مکمل طور پر داؤ پر لگ چکی ۔‘‘ ( ایک ڈاکٹر جنہوں نے طبی مشن پر غزہ کا دورہ کیا) اسرائیلی حملوں کے آغاز سے ہی غزہ میں فلسطینی بچوں کو موت اور زخمی ہونے کی بڑھتی ہوئی شرح، بھوک، نقل مکانی، صحت کے غیر متناسب خطرات اور شدید بیماریوں کا سامنا رہا ۔ کئی معاملات میں وہ یتیم ہو چکے ، اکیلے رہ گئے یا اپنے خاندانوں سے جدا ہو چکے ۔ نومبر 2024 ء میں ایک سروے میں پایا گیا کہ پانچ سال سے کم عمر کے بچے جنگ سے نفسیاتی طور پر سب سے زیادہ متاثر ہوئے جن کے بعد 6 سے 10 سال کی عمر کے بچے ہیں۔ جنگ کے تلخ تجربات اور اس کے سامنے بے بس ہونے کی وجہ سے بچے گہرے ذہنی کرب کا شکار ہوئے ۔

 2024 ء میں یونیسیف نے تخمینہ لگایا تھا کہ غزہ کے انیس لاکھ بچوں میں سے تقریباً تمام کو ڈپریشن، بے چینی اور خودکشی کے خیالات کے باعث ذہنی صحت اور نفسیاتی سماجی مدد کی ضرورت تھی۔ مارچ 2026 ء تک یو این ایف پی اے (UNFPA) نے رپورٹ کیا کہ غزہ میں 96 فیصد بچوں کو یہ احساس تھا کہ موت بالکل قریب ہے۔ متعدد ذرائع نے یہ رپورٹ دی کہ بچے موت اور مرنے کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور بچوں میں خودکشی کے خیالات عام ہیں۔ ایک نرس نے کمیشن کو بتایا کہ تل السلطان کلینک میں انہوں نے ایک نوعمر لڑکے کو دیکھا جس نے کیمیکل پی کر خودکشی کی کوشش کی تھی۔

 بہت سی طبی رپورٹوں سے یہ اشارہ ملا ہے کہ غزہ میں بچوں میں شدید صدمے (ٹروما) کے ردعمل ظاہر ہو رہے ہیں جن میں ہر وقت خوف کا احساس، ساکت ہو جانا (منجمد ہو جانا)، گونگا پن، جھٹکے لگنا، الجھن، مثانے کے کنٹرول کا ختم ہو جانا (بستر گیلا کرنا) اور مختلف محرکات جیسے تیز آوازوں کا خوف شامل ہیں۔ اپریل 2025 ء میں ڈبلیو ایچ او کی جانب سے شائع ہونے والی ایک تحقیق میں غزہ کے بچوں میں پائی گئی نفسیاتی علامات کے وسیع تر نمونوں پر روشنی ڈالی گئی، جیسے جذبات پر قابو نہ پانا، ہر وقت حد سے زیادہ محتاط رہنا، سماجی دوری اختیار کرنا اور مایوسی۔ چونکہ بچوں میں اپنے ان تکلیف دہ تجربات کو سمجھنے اور سنبھالنے کے لیے نفسیاتی تیاری اور مقابلہ کرنے کی مہارتوں کی کمی ہے لہذا وہ ممکنہ طور پر طویل مدتی جذباتی، علمی اور طرزِ عمل کے چیلنجوں کا سبب بنیں گے۔

فلسطینی بچپن کی تذلیل اور انسانیت کی موت

 ’’اس سے پہلے کہ میری ماں (ایک فضائی حملے میں) شہید ہوتیں، انہوں نے مجھ سے کہا تھا’میں چاہتی ہوں کہ تم معاشرے میں ایک اچھے انسان بنو جیسے ڈاکٹر یا انجینئر، اور دوسروں کے لیے اچھا کرو۔‘ میرے خاندان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ،اس کے باوجود میں ہر وہ کام کروں گا جو معاشرے کے لیے اچھا ہو۔‘‘ ( ایک تیرہ سالہ فلسطینی لڑکا جو دسمبر 2023 ء میں اپنے گھر ہوئے فضائی حملے میں شدید زخمی ہوا جس میں اس کی ماں اور دو بہنیں شہید ہو گئی تھیں۔)

 کمیشن نے اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کا ایک وسیع تر رویّہ نوٹ کیا جس میں وہ غزہ میں بچپن کی علامتوں کا مذاق اڑاتے، انہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے اور ان کی بے حرمتی کرتے ہوئے اپنی ویڈیوز بناتے ہیں۔ کمیشن نے کم از کم 35 ایسے واقعات دستاویزی شکل میں جمع کیے جن میں اسرائیلی فوجیوں نے نجی خاندانی مقامات (مثال کے طور پر رہائش گاہوں، خاص طور پر بچوں کے بیڈ رومز میں)،عوامی مقامات (مثال کے طور پر اسٹیشنری کی دکانوں، اسکولوں، یونیورسٹیوں اور تباہ شدہ محلوں) اور فوجی تنصیبات (بشمول فوجی ٹینکوں اور ہتھیاروں) میں اپنی ویڈیوز بنائیں۔

 یہ کوئی اِکادُکا واقعات نہیں ، یہ مجموعی طور پر فلسطینیوں اور خاص طور پر فلسطینی بچوں کے معاملے میں اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے غالب غیر انسانی رویّے ظاہر کرتے ہیں۔ کمیشن کا اندازہ ہے کہ اسرائیلی کمانڈروں کے واضح علم میں ہونے کے باوجود ان کارروائیوں کا بار بار ہونا اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے خاموش قبولیت کی نشاندہی کرتا ہے جس نے اِن کارروائیوں کو انجام دینے میں مدد یا سہولت فراہم کی۔

 کمیشن نے اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے نجی خاندانی مکانات کے اندر، بشمول غزہ میں خالی چھوڑے گئے اپارٹمنٹس اور گھروں کے بیڈ رومز میں بنائی گئی ایسی کئی ویڈیوز کو دستاویزی شکل دی ۔ دسمبر 2024 ء کی ایک ویڈیو میں ایک اسرائیلی فوجی نے ایک فلسطینی اپارٹمنٹ کے بیڈ روم میں اپنی ویڈیو بنائی جس میں ایک گڑیا دکھائی گئی جس کی آنکھوں پر ٹیپ لگی ہوئی تھی اور ایک ٹیڈی بیئر چھت کے پنکھے سے گردن کے گرد لٹکا ہوا تھا۔ اس کے بعد وہ کیمرہ کھڑکی کی طرف گھماتا ہے جس سے ارد گرد کا تباہ شدہ محلہ دکھائی دیتا ہے۔

 ایک اور ویڈیو میں کئی اسرائیلی فوجی ایک تباہ شدہ اپارٹمنٹ کے اندر ایک کھلونے کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔وہ مذاق اڑاتے ہوئے عربی الفاظ جیسے ’’حمود، حبب، حمود!، مع السلامۃ!‘‘ بول اور ہنس رہے ہیں ۔ کھلونا حرکت کرتا اور ان الفاظ کو دہراتا ہے۔ ایک اور مثال میں کمیشن نے ایک گروپ فوٹو دیکھا جس میں اسرائیلی فوجی مکمل جنگی لباس میں ایک تباہ شدہ کنکریٹ کے فرش پر بچوں کے کھلونوں اور کھیلوں کے ساتھ پوز دے رہے تھے۔

 ایک ویڈیو میں ایک اسرائیلی فوجی کو دکھایا گیا جو مکمل فوجی جنگی لباس میں ملبے سے بھرے ایک فلسطینی اپارٹمنٹ میں بچوں کے لکڑی کے کھلونے والے گھوڑے پر سوار ہے جہاں گدے بکھرے ہوئے ہیں اور لکڑی کے ایک کھلے دروازے پر دوسرا مسلح اسرائیلی فوجی سائے کی شکل میں پہرہ دے رہا ہے۔ کمیشن نے پایا کہ یہ ویڈیو 14 ستمبر 2025 ء کو غزہ شہر کے ابتدائی جارحانہ مرحلے کے دوران پوسٹ کی گئی اور اس نے یہ تعین کیا کہ ویڈیو میں موجود فوجی ممکنہ طور پر اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے 98 ویں، 99 ویں یا 162 ویں ڈویژن کے اہلکار ہیں۔ کیونکہ شیخ رضوان میں فوجی کارروائیوں کی قیادت شہری حملوں کے لیے 98 ویں ڈویژن نے کی تھی۔اسے سینٹرل کمانڈ کے تحت 99 ویں ڈویژن (ریزرو انفنٹری) اور 162 ویں ڈویژن کے عناصر کی مدد حاصل تھی جو گھرصاف کرنے (سرچ آپریشن) کی حکمتِ عملی سے مطابقت رکھتا ہے۔