سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور
آرٹیفشل انٹیلیجنس نے دنیا بھر کے ہر شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے نئے رجحانات کو فروغ دیکر ایک انقلاب برپا کردیا ہے۔ یہ پرانی روایت ہے کہ جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی متعارف ہوتی ہے تو قدامت پرست طبقات اس کو قبول کرنے میں ٹائم لیتے ہیں یہی معاملہ اے آئی کے ساتھ بھی ہے خاص طور پر کم خواندگی اور سٹیریو ٹائپ ذہنیت کے حامل پاکستانی معاشرہ اس نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے میں سست روی کا شکارہے۔ لیکن پاکستان کو دنیا کے ساتھ چلنے کیلئے اور ترقی کی منازل طے کرنے کیلئے اس میدان میں تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔کیونکہ
آرٹیفشل انٹیلیجنس (AI) پاکستان سمیت دنیا بھر دیگر شعبوں کی طرح روایتی تعلیمی نظام میں بھی ایک خاموش مگر وسیع تر انقلاب برپا کرنے جا رہی ہے۔ جہاں یہ طلباء کو ذاتی نوعیت کی تعلیم (Personalized Learning) اور فوری معلومات فراہم کر رہی ہے وہیں اساتذہ کے روایتی تدریسی طریقوں اور نصاب میں جدید تقاضوں کے مطابق تبدیلی کی اشد ضرورت کا مطالبہ بھی کر رہی ہے۔ پاکستان میں تعلیمی شعبے میں اے آئی کی موجودہ صورتحال اور اثرات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت اے آئی کی تعلیم کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور پرائمری کی سطح سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک نصاب کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ پنجاب حکومت تو سرکاری اسکولوں (جیسے 'اسکولز آف ایمننس') میں طلباء کو اے آئی اور روبوٹکس کی تعلیم دینے کے لیے جدید لیبارٹریاں قائم کر رہی ہے۔ تاہم اس شعبے میں بہتری کی بہت گنجائش ہے کیونکہ حقائق یہ ہیں کہ پاکستان اس وقت عالمی 'اے آئی ریڈینیس انڈیکس' میں 109ویں نمبر پر ہے۔ اے آئی کے ذاتی سطح پر فوائد کو دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اے آئی ٹولز طلباء کی کمزوریوں کو سمجھ کر ان کے مطابق اسٹڈی پلان بناتی ہے جس سے کمزور طلباء کو بھی بہتر انداز میں سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) اور دیگر اے آئی اسسٹنٹس ٹولز اساتذہ کے لیے لیسن پلان بنانے اور امتحانی پیپرز تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ تاہم AI سے استفادہ کیلئے ملک کے دور دراز علاقوں میں کمپیوٹر لیبز اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے علاؤہ سرکاری اور نجی سطح پر زیادہ تر اساتذہ اے آئی ٹولز کا مؤثر استعمال کرنے سے ناواقف ہیں اور آن لائن اے آئی مواد کی زیادہ تر زبان انگریزی ہے جس سے اردو میڈیم طلباء اور سکولز کے اکثر اساتذہ کے لیے سیکھنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے پاکستان کے تعلیمی شعبے میں بہتری لانے کی بہت گنجائش موجود ہے لہذا اس ضمن میں ابھی سرکاری سطح پر بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔تاہم پنجاب حکومت نے سرکاری اسکولز کے طلبا کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور روبوٹس کی تعلیم دینے کیلئے جدید لیبز قائم کرنا شروع کردیں ہیں۔ پنجاب کے سرکاری تعلیمی نظام میں ڈیجیٹل انقلاب لانے کیلئے نواز شریف اسکولز کا قیام اور پہلی مصنوعی ذہانت پالیسی متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت مقامی اے آئی پلیٹ فارم اور جی پی یو کلاوڈ ایائی پر مبنی گورننس سسٹم متعارف کروائے جا رہے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا جس تیز رفتاری سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی دوڑ میں آگے بڑھ رہی ہے کیا ہماری صوبائی حکومتیں اس رفتار کا ساتھ دے پا رہی ہیں،یقینا نہیں۔ جبکہ یہ واضح ہے کہ ہمارے ملک میں ڈیجیٹل ریفارمز کے بغیر تعلیم و گورننس میں بہتری لانا ممکن نہیں۔ تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت کی جانب سے پرائمری کی سطح پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تعلیم متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اس پر اگر درست سمت میں تیزی سے عمل کیا جاتا ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) خاموش انقلاب کے راستے پر گامزن ہے تاہم سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا ہمارے ملک کے موجودہ تعلیمی نظام میں اس کو اپنانے کی صلاحیت مو جود ہے؟
کیا پاکستان میں اے آئی ٹولز کی مدد سے اب طلبہ کے لیے تعلیمی مواد تیا ر کرنے اور نئی ضروریات کے مطابق اساتذہ کی تربیت کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں ؟
اس سلسلے میں کئی ماہرین کے مطابق پاکستان میں اگلے چند سالوں میں روایتی کلاس، روایتی استاد اور روایتی امتحانات سمیت بہت کچھ بدلنے جا رہا ہے۔ان کے مطابق آج کل یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں مختلف مضامین کے لیے کسٹمائزڈ چیٹ جی پی ٹی ٹولز تیار کرنے کے منصوبے پر کام کیا جارہا ہے۔ان کے بقول اس سے طالبعلم اپنے کورس کے مطابق استاد کا لیکچر، اس سے متعلقہ سوالات کے جوابات اور اس مضمون کے حوالے سے دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں کی سفارش کردہ کتابوں کا مواد انگریزی اردو پنجابی یا سرائیکی سمیت مختلف زبانوں میں حاصل کر سکیں گے۔ یوں ان کا وقت بھی بچے گا اور انہیں زیادہ معلومات بھی میسر ہوں گی اور کلاس میں پیچھے رہ جانے والے کمزور طالب علم بھی اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو بہتر کر سکیں گے۔ یہ صورتحال روایتی کتاب، کلاس روم اور استاد کے رول کو تبدیل کر دے گی اور آنے والے دور میں استاد کا کام طلبہ کی نگرانی و رہنمائی کرنا، ان کی ابلاغی اور تجزیاتی مہارتوں میں اضافہ کرنا اور اس کے لیے غیر نصابی سرگرمیوں کا اہتمام کرنا ہوگا۔
یہ ایک حقیقت ہیکہ اے آئی ٹولز کی مدد سے اب طلبہ کے لیے ایسا تعلیمی مواد تیار کیا جا سکتا ہے جو ان کی ذہنی سطح اور سیکھنے کی رفتار کے مطابق ہو۔ ان کے مطابق مشین لرننگ الگورتھمز طلبہ کے رجحانات اور کمزوریوں کو پہچان کر انہیں مخصوص اسباق تجویز کر سکتے ہیں۔ اب چیٹ بوٹس اور ورچوئل ٹیچرز طلبہ کے سوالات کا فوری جواب دے سکتے ہیں جبکہ خودکار تشخیصی نظام اسائنمنٹس کی جانچ کو آسان بنا رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹمز کی مدد سے امتحانی بدعنوانیوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور آن لائن امتحانات کی نگرانی کی جا سکتی ہے اسکے علاوہ خودکار گریڈنگ سسٹمز کے ذریعے اساتذہ کا کام کم کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی یونیورسٹیوں میں اے آئی ٹولز کے تعلیمی استعمال کے حوالے سے سنجیدہ سوچ بچار جاری ہے۔ مصنوعی ذہانت طلبہ اور محققین کے لیے ڈیٹا کے تجزیہ کو آسان بنا سکتی ہے۔ اے آئی ٹولز پر مبنی سافٹ ویئرز تحقیقی مقالوں کی تیاری اور ان کے تجزیے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تعلیمی انقلاب لانے کا یہ سفر اتنا آسان بھی نہیں ہے کہ خاص طور پر پاکستان میں جہاں سرکاری تعلیمی اداروں میں انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی تک طلبہ اور اساتذہ کو رسائی میسر نہیں۔ دوسری طرف تعلیمی و تحقیقی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے موثر سسٹم اور پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ اور اساتذہ کی تحقیق اور معلومات محفوظ رہ سکیں۔
تعلیم کے میدان میں اے آئی سے درست طریقے سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم کے تمام اسٹیک ہولڈرز، استاتذہ، طالب علم ، محقق اور تعلیمی پالیسیاں بنانے والوں کو اس ضمن میں پوری طرح آگاہی ہو ورنہ اس کے بلا سوچے سمجھے استعمال کے نتائج منفی بھی ہو سکتے ہیں۔
اے آئی کے مثبت استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کچھ اصول و ضوابط وضع کرنے کی ضرورت ہے اگر ایسا نہ ہو سکا تو اس کے منفی استعمال مثلاً فیک اسائنمنٹس کی تیاری، سرقے اور نقل کا خدشہ بڑھ جائے گا۔ لہذا حکومت پاکستان کو مصنوعی ذہانت کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی بنانی چاہیے۔ ابھی تک پاکستان کے تعلیمی شعبے میں اے آئی کا استعمال زیادہ نہیں ہو رہا ہے۔ طلبہ اسے انفرادی طور پر استعمال کر رہے ہیں یا کچھ نجی یونیورسٹیاں اس پر کام کر رہی ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز کی مدد سے بہت کم وقت میں ڈیٹا مل جاتا ہے۔ خاص طور پر لٹریچر ریویو میں بہت مدد ملتی ہے لیکن اس پر زیادہ انحصار بہت منفی نتائج کا حامل بھی ہو سکتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال تعلیم کو زیادہ ذاتی، مؤثر اور قابلِ رسائی بنا رہا ہے۔ طلباء کو کسی بھی وقت اور کہیں بھی تعلیمی مسائل کے حل کے لیے ورچوئل ٹیوٹرز (Virtual Tutors) کی سہولت میسر ہے۔ تعلیمی اداروں میں حاضری، داخلے اور شیڈولنگ جیسے انتظامی کاموں کو AI کے ذریعے تیز اور غلطیوں سے پاک بنایا جا رہا ہے۔ان جدید ٹیکنالوجیز کو کلاس رومز میں متعارف کروانے کے لیے معروف کمپنیاں اور ادارے مسلسل نئے ٹولز بنا رہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے بھی مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے جامع نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پالیسی کی منظوری دی ہے۔ اس کے تحت ملک میں اے آئی کا ایک مکمل ماحولیاتی نظام (Ecosystem) تشکیل دیا جا رہا ہے۔حکومت کی جانب سے کئے گئے اہم اقدامات درج ذیل ہیں۔
ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ (R&D) اور اے آئی اسٹارٹ اپس کی مالی معاونت کے لیے ایک خصوصی فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔وفاقی حکومت نے سالانہ 200,000 نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کی جدید مہارتیں سکھانے اور 20,000 طلباء کو اعلیٰ تعلیم اور ہائی ٹیک سرٹیفیکیشن کے حصول میں مدد کے لیے سالانہ 3,000 اسکالرشپس دی جا رہی ہیں۔وزارت آئی ٹی نے گوگل کے ساتھ مل کر "اے آئی سیکھو 2026" پروگرام کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو کوڈنگ اور اے آئی کی تربیت دینا ہے۔ زراعت، صحت، تعلیم، اور گورننس کے شعبوں میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے مقامی حل (لوکل اے آئی پروڈکٹس) تیار کیے جا رہے ہیں۔
امریکہ برطانیہ اور یورپ میں اے آئی کے فروغ کے لیے کئے جانے والے اقدامات کا مختصراً جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں (AI) کو فروغ دینے اور اس کے خطرات کو کنٹرول کرنے کے لیے متوازن اور تیز رفتار حکمتِ عملی اپنائی گئی ہے۔ ریسرچ اور سائنس میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے Science for Strategy AI کے تحت کروڑوں پاؤنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ جس کا مقصد محفوظ، شفاف اور قابلِ اعتماد اے آئی کو فروغ دینا ہے۔ سرکاری سطح پر بنیادی انسانی حقوق اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اُصول لاگو کئے گئے ہیں۔n