دماغی صحت کو برقرار رکھنے کا راز

 ذہنی مسائل صرف بڑھاپے کی وجہ سے نہیں بلکہ زندگی بھر کی عادات کا نتیجہ بھی ہو سکتے ہیں


رانا نسیم July 12, 2026

انسانی جسم میں موجود ایک عضو کو اگر کائنات کا سب سے پیچیدہ شاہکار کہا جائے تو شاید یہ مبالغہ نہ ہو، یہ عضو صرف تین پاؤنڈ وزنی ہوتا ہے، مگر اسی کے اندر یادوں کے خزانے محفوظ ہوتے ہیں، خواب جنم لیتے ہیں، فیصلے تشکیل پاتے ہیں اور شخصیت کا پورا نقشہ مرتب ہوتا ہے۔

جی ہاں! یہ دماغ ہی ہے جو انسان کو باقی مخلوقات سے ممتاز بناتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ جسمانی صحت کے بارے میں تو فکرمند رہتے ہیں۔ بلڈ پریشر، شوگر، دل اور ہڈیوں کی صحت پر توجہ دیتے ہیں، لیکن دماغی صحت کو عموماً اْس وقت اہمیت دی جاتی ہے جب یادداشت کمزور ہونے لگے، توجہ بٹنے لگے یا بڑھاپے میں بھولنے کی شکایت پیدا ہو جائے۔

حالانکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ کی حفاظت کا عمل جوانی ہی سے شروع ہونا چاہیے۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں دماغی صحت سے متعلق تشویشناک رجحانات سامنے آئے ہیں۔ ایک طویل المدتی تحقیق، جو امریکہ کی ییل یونیورسٹی میں دس برس تک جاری رہی، یہ ظاہر کرتی ہے کہ یادداشت، توجہ، فیصلہ سازی اور دیگر ذہنی صلاحیتوں میں کمی کے مسائل پہلے کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان مسائل میں سب سے زیادہ اضافہ 18 سے 39 سال کی عمر کے نوجوانوں میں دیکھا گیا۔ یہ نتائج اس تصور کو چیلنج کرتے ہیں کہ دماغی کمزوری صرف بڑھاپے کا مسئلہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دماغ کی صحت زندگی کے ہر مرحلے میں متاثر ہو سکتی ہے، اور آج کی عادات ہی آنے والے کل کے ذہنی معیار کا تعین کرتی ہیں۔ اسی پس منظر میں مختلف ماہرینِ اعصاب (Neurologists) اور نیورو سائیکالوجسٹس سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی دماغی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے کون سی عادت کو سب سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے متعدد مفید مشورے دیے، مگر ایک جواب ایسا تھا جس پر تقریباً سب کا اتفاق تھا کہ ؛

’’اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ دماغ کو تیز رکھنے کے لیے صرف کتابیں پڑھنا، پہیلیاں حل کرنا یا دماغی کھیل کھیلنا کافی ہیں تو ہماری رائے اس سے کچھ مختلف ہے‘‘ دماغی صحت کے سات مختلف ماہرین نے متفقہ طور پر کہا کہ باقاعدہ ورزش اور جسمانی سرگرمی دماغ کو صحت مند رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

امریکہ کے معروف نیورو سائیکالوجسٹ ڈاکٹر ڈینیئل فینٹن کے مطابق ایروبک ورزش (جیسے تیز چہل قدمی، دوڑنا، سائیکل چلانا یا تیراکی) دماغی صحت کے لیے سب سے زیادہ ثابت شدہ طریقوں میں سے ایک ہے۔ یہ دماغ تک خون کی بہتر فراہمی کو یقینی بناتی ہے اور دماغی خلیات کے درمیان نئے روابط بنانے میں مدد دیتی ہے۔

ورزش

ماہرین کے مطابق ورزش صرف پٹھوں کو مضبوط نہیں بناتی بلکہ دماغ کے اندر ایک اہم پروٹین بی ڈی این ایف (brain-derived neurotrophic factor) کی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے۔ یہ پروٹین دماغی خلیات کی نشوونما، مرمت اور بقا کے لیے انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے، خصوصاً یادداشت سے متعلق حصوں میں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ورزش کا فائدہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب اسے قدرتی ماحول میں انجام دیا جائے۔ مشی گن یونیورسٹی (امریکا) کی ایک تحقیق کے مطابق قدرتی مناظر میں چہل قدمی کرنے والے افراد کی یادداشت اور توجہ میں تقریباً 20 فیصد زیادہ بہتری دیکھی گئی، بہ نسبت اْن لوگوں کے جو شہری ماحول میں چہل قدمی کرتے تھے۔

سرسبز درخت، کھلے آسمان اور قدرتی مناظر دماغ کو اضافی سکون فراہم کرتے ہیں اور ذہنی تھکن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ عام طور پر دماغی صحت کے حوالے سے لوگ واک یا دوڑ کو اہم سمجھتے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ طاقت بڑھانے والی ورزشیں بھی کم اہم نہیں۔ ریزسٹنس ٹریننگ یا وزن اٹھانے والی ورزشیں دماغی سوزش کم کرتی ہیں، خون میں شوگر کے استعمال کو بہتر بناتی ہیں اور عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی رفتار اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ہفتے میں کم از کم پانچ دن، روزانہ تیس منٹ معتدل شدت کی ورزش دماغی صحت کے لیے مثالی سمجھی جاتی ہے۔ ایک عام مسئلہ یہ ہے کہ لوگ کسی نئی عادت کا آغاز تو بڑے جوش سے کرتے ہیں لیکن چند ہفتوں بعد اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغی صحت کے لیے کامل منصوبہ بندی سے زیادہ اہم مستقل مزاجی ہے۔ اگر مصروفیت کی وجہ سے چند دن ورزش نہ ہو سکے تو خود کو موردِ الزام بنانے کے بجائے دوبارہ آغاز کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔ حتیٰ کہ دفتر کی سیڑھیاں چڑھنا، مختصر واک کرنا یا روزمرہ کے کاموں میں جسمانی سرگرمی بڑھانا بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

ورزش کے علاوہ دماغ کو جوان رکھنے والی اہم عادات

اگرچہ ورزش کو سب سے اہم قرار دیا گیا، لیکن ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دماغی صحت کسی ایک عادت کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی مثبت طرزِ زندگی کے عوامل کا مجموعہ ہے، جیسے؛

نئی چیزیں سیکھتے رہنا

انسانی دماغ حیرت انگیز حد تک لچکدار ہے۔ یہ پوری زندگی نئے روابط بنانے اور نئی معلومات جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہرین اس صلاحیت کو کگنیٹو ریزرو (Reserve Cognitive) کہتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں یہ دماغ کی اضافی طاقت یا ذخیرہ ہوتا ہے جو عمر بڑھنے یا کسی بیماری کی صورت میں انسان کی ذہنی صلاحیتوں کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک ماہر نیورو سائیکالوجسٹ نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں واٹر کلر پینٹنگ سیکھنا شروع کی۔ وہ خود اعتراف کرتی ہیں کہ وہ اس فن میں ماہر نہیں، لیکن مقصد بہترین مصور بننا نہیں بلکہ دماغ کو نئے چیلنج دینا ہے۔ نئی زبان سیکھنا، موسیقی بجانا، سفر کی منصوبہ بندی کرنا، رضاکارانہ سرگرمیوں میں حصہ لینا، لکڑی کا کام سیکھنا یا کسی نئے ہنر پر ہاتھ آزمانا دماغ کو متحرک رکھنے کے بہترین طریقے ہیں۔

سماجی تعلقات کو مضبوط رکھنا

تنہائی صرف دل کو ہی نہیں بلکہ دماغ کو بھی متاثر کرتی ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے افراد جو خاندان، دوستوں اور معاشرے سے جڑے رہتے ہیں، ان میں یادداشت کی خرابی اور ڈیمنشیا کے خطرات کم ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایک بامقصد گفتگو کے دوران دماغ کو بیک وقت یادداشت، زبان، جذباتی توازن اور توجہ کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سماجی روابط دماغی صحت کے لیے حیرت انگیز حد تک مفید ثابت ہوتے ہیں۔ کئی مطالعات نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ مستقل تنہائی ڈیمنشیا کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔

اپنی سماعت کی حفاظت کریں

اکثر لوگ آنکھوں کی کمزوری کو تو سنجیدگی سے لیتے ہیں، مگر سماعت کے مسائل کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سماعت میں کمی اور اس کا علاج نہ کروانا دماغی کمزوری کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔ جب کان کم سننے لگتے ہیں تو دماغ کو عام آوازوں کو سمجھنے کے لیے اضافی توانائی صرف کرنا پڑتی ہے۔ نتیجتاً وہ توانائی یادداشت اور سوچنے سمجھنے جیسے اہم کاموں سے ہٹ جاتی ہے۔ اسی لیے اگر سماعت میں کمی محسوس ہو تو بروقت معائنہ اور مناسب علاج ضروری ہے۔ بلند آواز موسیقی، شورشرابہ یا طویل فضائی سفر کے دوران کانوں کی حفاظت کے لیے ایئر پلگ کا استعمال بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

نیند کو مقدس سمجھیں

آج کی مصروف زندگی میں بہت سے لوگ نیند کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں، حالانکہ دماغ کے لیے نیند اتنی ہی ضروری ہے جتنی جسم کے لیے خوراک۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف نیند کے گھنٹے ہی اہم نہیں بلکہ اس کا باقاعدہ ہونا بھی ضروری ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بے ترتیب سونے جاگنے کے اوقات دماغی کمزوری کے خطرات بڑھا سکتے ہیں، چاہے نیند کا دورانیہ کافی ہی کیوں نہ ہو۔ گہری نیند کے دوران دماغ ایک طرح کا ’’صفائی کا عمل‘‘ انجام دیتا ہے۔ اس دوران وہ ایسے فاضل پروٹینز کو خارج کرتا ہے جن کا تعلق الزائمر جیسی بیماریوں سے جوڑا جاتا ہے۔ اسی لیے روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا دماغی صحت کے لیے نہایت مفید عادت ہے۔

سوشل میڈیا کا استعمال محدود کریں

جدید دور کا سب سے بڑا مسئلہ مسلسل معلومات کا سیلاب ہے۔ ہر چند سیکنڈ بعد نئی ویڈیو، نئی پوسٹ یا نیا پیغام دماغ کی توجہ کو منتشر کرتا رہتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق مسلسل اسکرولنگ دماغ کے قدرتی سوچنے، غور کرنے اور معلومات کو منظم کرنے کے عمل میں مداخلت کرتی ہے۔ کبھی کبھار موبائل فون کو ایک طرف رکھ کر خاموشی میں وقت گزارنا، کتاب پڑھنا یا محض غور و فکر کرنا بھی دماغ کے لیے ضروری ہے۔

ڈبہ بند خوراک سے پرہیز

حالیہ تحقیق نے آنتوں اور دماغ کے درمیان حیرت انگیز تعلق کو واضح کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہماری آنتوں میں موجود کھربوں جرثومے دماغ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ یہ رابطہ اعصابی راستوں اور مدافعتی نظام کے ذریعے قائم رہتا ہے۔ الٹرا پراسیسڈ فوڈز یعنی ایسی خوراکیں جو صنعتی طریقوں سے بہت زیادہ تیار اور محفوظ کی جاتی ہیں، اس نظام کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ایک بڑی تحقیق کے مطابق جو افراد سب سے زیادہ پراسیس شدہ غذائیں استعمال کرتے تھے، ان میں ذہنی صلاحیتوں میں کمی کی رفتار نمایاں طور پر زیادہ دیکھی گئی۔ تازہ پھل، سبزیاں، دالیں، گریاں، مچھلی اور متوازن غذا دماغی صحت کے لیے زیادہ مفید سمجھی جاتی ہیں۔

اپنی مجموعی جسمانی صحت کا خیال رکھیں

دماغ جسم سے الگ کوئی چیز نہیں۔ جسم کے دیگر نظام جتنے صحت مند ہوں گے، دماغ بھی اتنا ہی بہتر کام کرے گا۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ باقاعدگی سے ڈاکٹر اور دانتوں کے معالج سے معائنہ کروایا جائے، بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھا جائے اور حفاظتی ٹیکوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

ہم اکثر بڑھاپے کے بارے میں یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ابھی بہت وقت باقی ہے مگر دماغی صحت اچانک ایک دن خراب نہیں ہوتی بلکہ یہ زندگی بھر کی عادات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ آج صرف ایک مثبت تبدیلی بھی اختیار کر لیں تو یہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔ کیونکہ دماغ کی حفاظت کسی ایک بڑے فیصلے کا نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے اچھے انتخابات کا مجموعہ ہے۔ اور شاید یہی راز ہے کہ انسان عمر کے آخری حصے تک بھرپور زندگی گزار سکے۔