ترکیہ میں غیرقانونی تارکین وطن کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن، گرفتار افراد میں افغان سرفہرست

رواں سال کے پہلے 5 ماہ میں ترکیہ سے13 ہزار سے زائد غیرقانونی افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کیا جاچکا ہے


ویب ڈیسک July 13, 2026

ترکیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے، اس دوران گرفتار کیے گئے افراد میں افغان شہری سرفہرست ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق غیر قانونی تارکین وطن اور انسانی اسمگلرز کے خلاف ترکیہ میں ہنگامی آپریشنز بدستور جاری ہیں۔

ترکیہ کے ڈائریکٹوریٹ آف مائیگریشن مینجمنٹ (محکمۂ ہجرت) نے گرفتار غیر قانونی تارکین وطن سےمتعلق تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں ریکارڈ 70 ہزار غیر قانونی تارکینِ وطن گرفتار کیے جاچکے ہیں، جن میں 19 ہزار 574 غیر قانونی افغان مہاجرین جبکہ 6 ہزار سے زائد انسانی اسمگلرز بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران ترکیہ سے13 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کیا جاچکا ہے۔

معروف افغان نیوز ایجنسی دی خاما پریس کے مطابق طالبان رجیم  میں معاشی بدحالی، بڑھتی بے روزگاری اور صنفی پابندیوں کی وجہ سے لاکھوں افغان باشندے ملک چھوڑ چکے ہیں۔ تمام تر مشکلات اور کریک ڈاؤن کے باوجودافغان مہاجرین کی جانب سے ترکیہ کے راستے یورپ جانے کا سلسلہ اب بھی بدستور جاری ہے۔

عالمی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ غیر قانونی افغان مہاجرین کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ اور منشیات کے جرائم  بڑھ رہے ہیں جو میزبان ممالک کے امن و امان کے لیے مستقل خطرہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم میں افغانستان میں جاری معاشی بربادی اور انسانی حقوق کی پامالی ہی دراصل اس غیر قانونی ہجرت کی اصل جڑ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ  جب تک افغانستان میں جبر کا یہ موجودہ نظام نہیں بدلتا، تب تک تارکینِ وطن کا یہ شدید بحران برقرار رہے گا۔