کراچی:
جامعہ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبا کی جانب سے پاکستان کھپے ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں طلبا کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
ریلی کے شرکاء نے قومی پرچم ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے، اس موقع پر جامعہ کراچی میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔
جامعہ کراچی میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات رہی جبکہ مختلف مقامات پر سیکیورٹی گاڑیاں بھی موجود تھیں، جامعہ میں آنے اور جانے والے افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی گئی۔
اس موقع پر ناظم اسلامی جمعیت طلبا جامعہ کراچی حذیفہ صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کراچی علم، تحقیق اور قومی وحدت کا مرکز ہے۔ پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں دوبارہ پاکستان مخالف نعرے لگانے یا قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکن اس کا بھرپور اور مؤثر جواب دیں گے، امن اور پاکستان سے وفاداری ہی اسلامی جمعیت طلبہ کا بنیادی پیغام ہے۔
واضح رہے کہ کراچی یونیورسٹی میں جمعرات کو اسلامی جمعیت طلبا اور ایک قوم پرست گروپ کے درمیان مبینہ طور پر پاکستان مخالف نعرے لگانے کے معاملے پر تصادم ہوا تھا، جمعیت نے قوم پرست گروپ کے طلبا پر پاکستان مخالف نعرے لگانے کا الزام عائد کیا تھا۔
تصادم کے نتیجے میں 3 طلبا شدید زخمی ہوئے تھے جس پر پولیس نے متعدد طلبا کو گرفتار کرکے واقعے کا مقدمہ تھانہ مبینہ ٹاؤن میں درج کیا تھا۔
وزیرِ جامعات سندھ اسماعیل راہو نے بھی جامعہ کراچی میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان ہونے والے تصادم کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے 5 رکنی اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو 15 روز کے اندر اپنی رپورٹ اور سفارشات محکمہ جامعات و بورڈز سندھ کو پیش کرے گی۔