وفاقی آئینی عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف انکوائری، کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز روکنے اور ناکام امیدواروں کے پیپر دوبارہ چیک کرنے سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے عبوری احکامات معطل کر دیے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
وفاقی آئینی عدالت میں سندھ پبلک سروس کمیشن کی اپیل پر سماعت ہوئی، جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہائی کورٹ نے عبوری حکم میں ہی حتمی ریلیف دے دیا، جبکہ آئین کے مطابق درخواست میں کی گئی استدعا سے بڑھ کر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
کمیشن کے وکیل حافظ احسان کھوکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے اور عمومی الزامات کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری جانب ناکام امیدواروں کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن میں کرپشن اور اقربا پروری موجود ہے، ماضی میں سندھ ہائی کورٹ کمیشن کو ختم کرنے کا حکم بھی دے چکی ہے اور بعد ازاں نئے قواعد کے تحت اسے دوبارہ فعال کیا گیا۔
دلائل سننے کے بعد وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے عبوری احکامات معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے اور کیس کی مزید سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔