وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایف بی آر اصلاحات پر جائزہ اجلاس ہوا، جس میں جاری اصلاحات اور ٹیکس نظام میں بہتری پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے، رواں سال معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال ہوگا۔ کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، انہیں زیادہ پیداوار اور برآمدات کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایف بی آر کاروباری طبقے کے ساتھ تعاون کرے اور ان کے جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ ایف بی آر کے سینئر افسران ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں کراچی کا دورہ کریں تاکہ کاروباری برادری سے براہِ راست رابطہ ہو اور ان کے مسائل بلاتاخیر حل کیے جا سکیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والی کمپنیوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے گا۔ حکومت کا مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا اور ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور آسان بنانا ہے تاکہ کاروباری برادری کا اعتماد بڑھے۔
اجلاس کو ایف بی آر کی کارکردگی اور جاری اصلاحات کے نفاذ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ شوگر، سیمنٹ، ٹوبیکو، ٹائلز اور فرٹیلائزرز کی صنعتوں میں پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے، جبکہ ٹیکسٹائل اور مشروبات کی صنعتوں میں پروڈکشن مانیٹرنگ نظام کی تنصیب کا عمل جاری ہے۔
بریفنگ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران شوگر انڈسٹری میں پروڈکشن مانیٹرنگ کے ذریعے 42 ارب روپے کا اضافی ٹیکس، سیمنٹ انڈسٹری میں 38 ارب روپے اور بیوریجز انڈسٹری میں 15 ارب روپے کا اضافی ٹیکس اکٹھا کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی برائے وزیراعظم ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔