2 دہائیوں پرانے کسٹمز ٹیکس کیس میں پیشرفت، سپریم کورٹ کا پی ایس او کے حق میں اہم فیصلہ

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ شوکاز نوٹس چھ ماہ کے اندر جاری کیا جاتا ہے، جبکہ اس کیس میں نوٹس ڈھائی سال بعد جاری کیا گیا۔


ویب ڈیسک July 15, 2026

دو دہائیوں پرانے کسٹمز ٹیکس کیس میں سپریم کورٹ نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے حق میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے 24 سال قبل جاری کیا گیا شوکاز نوٹس کالعدم قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ نے پی ایس او کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ اور کسٹمز ٹریبونل کے فیصلے بھی کالعدم قرار دے دیے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ شوکاز نوٹس چھ ماہ کے اندر جاری کیا جاتا ہے، جبکہ اس کیس میں نوٹس ڈھائی سال بعد جاری کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ مقررہ قانونی مدت کے بعد جاری کیے گئے شوکاز نوٹس غیر مؤثر ہوتے ہیں، وقت گزرنے کے بعد ٹیکس کارروائی قانون کے مطابق نہیں ہو سکتی اور کسٹمز حکام کی کارروائی قانونی مدت ختم ہونے کے بعد کی گئی۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ قانون میں مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد کارروائی ناقابلِ قبول ہے اور محکمہ قانونی مدت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

کیس کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل نے 1999 میں پاکستان نیوی کو ہائی اسپیڈ ڈیزل فراہم کیا تھا۔ کسٹمز حکام نے 2002 میں تقریباً 2 لاکھ 57 ہزار روپے ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں کی وصولی کے لیے شوکاز نوٹس جاری کیا۔ پی ایس او نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ نوٹس قانون میں مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد جاری کیا گیا، اس لیے اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ سپریم کورٹ نے پی ایس او کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے شوکاز نوٹس سمیت تمام بعد کی کارروائیاں کالعدم قرار دے دیں۔

فیصلہ جسٹس محمد شفیع صدیقی نے تحریر کیا، جبکہ کیس کی سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بینچ نے کی۔