زراعت کی بہتری: وزیراعظم کا مزید ایک ہزار طالب علموں کو حکومتی خرچ پر چین بھیجنے کا اعلان

ہمارے لائیو اسٹاک اور زراعت کے ادارے مردہ گھوڑے بن چکے، ان کی بہتری کے لیے چین سے مدد مانگی ہے، شہباز شریف


ویب ڈیسک July 15, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ لائیو اسٹاک اور زراعت کے شعبے میں جدید تربیت کیلیے اس سال بھی مزید ایک ہزار طالب علموں کو حکومتی خرچ پر چین بھیجا جائے گا۔

اسلام آباد میں منعقدہ لائیو اسٹاک کی استعداد سے متعلق قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملکی لائیو اسٹاک کے شعبے سے متعلق سیمینار کا انعقاد خوش آئند ہے جس پر منتظمین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کسان چاروں صوبوں، گلگلت بلتستان، آزاد کشمیر میں دن رات محنت کرتے اور ملکی ترقی میں حصہ ڈال رہے ہیں مگر جدید آلات اور ٹیکنالوجی نہ ہونے کی وجہ سے خطے میں دوسرے ممالک سے بہت پیچھے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو اللہ نے بے شمار وسائل سے نوازا ہے، دودھ کی زیادہ پیداوار کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک ہے جبکہ گوشت میں ہمارا پوٹینشنل موجود ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ماضی میں زراعت اور لائیو اسٹاک کے حوالے سے پاکستان میں ادارے قائم کیے گئے مگر وہ اقربا پروری کی نذر ہوئے اور آج مردہ گھوڑے بن چکے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کو مل کر طویل سفر طے کرنا اور محنت کرنا ہوگی۔ ہمیں باتوں سے آگے بڑھ کر عمل کی طرف تیزی سے بڑھنا ہوگا۔

شہباز شریف نے بتایا کہ زراعت اور لائیو اسٹاک میں جدت کو اپنانے کیلیے چین سے مدد کرنے کی بات کی ہے، زراعت اور لائیو اسٹاک پر ایک سال محنت کی جائے تو معیشت میں بہت بہتری ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لائیو اسٹاک کے کام سے وابستہ لوگوں نے ایک بیماری کا ذکر کیا جس کی ویکسین پاکستان میں نہیں مگر اب میں اعلان کرتا ہوں کہ ویکسین کیلیے جو بھی چاہیے حکومت اُس کی فنڈنگ کرے گی مگر اس شعبے کو آؤٹ سورس کریں گے تاکہ ماضی کے اداروں کی طرح کا حال نہیں ہوجائے۔

وزیراعظم نے ویکسین کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک اس مرض کا مقابلہ نہیں کریں گے تب تک آگے نہیں بڑھ سکتے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جس طرح گزشتہ سال ملک بھر سے حکومتی خرچ پر ایک ہزار طالب علموں کو زراعت اور لائیو اسٹاک کی تربیت کیلیے چین بھیجا اسی طرح رواں سال بھی بھیجیں گے۔

شہباز شریف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جو بچے چین میں تربیت مکمل کرکے آئے ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اُن کے تجربے سے استفادہ کیا جائے اور لائحہ عمل مرتب کریں تاکہ فوائد حاصل کیے جاسکیں۔