پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک 2.0، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
شنگھائی میں ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے دوطرفہ ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات، اقتصادی تعاون، مصنوعی ذہانت اور علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے ساتھ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے مصنوعی ذہانت اور خصوصی اقدامات علی مصطفی ڈار، پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب، وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری (ایشیا پیسفک) ڈاکٹر سید اسد علی گیلانی اور چین میں پاکستان کے ناظم الامور اعزاز خان بھی موجود تھے۔
دونوں رہنماؤں نے پاک چین تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا اور باہمی شراکت داری کی مسلسل مضبوطی اور مستحکم پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے پاک چین آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے سی پیک 2.0 کے تحت اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس مقصد کے لیے تجارت، سرمایہ کاری، سائنس و ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں عملی تعاون اور باہمی اشتراک کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
اسحاق ڈار اور وانگ یی نے تازہ ترین علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطے برقرار رکھنے، مشاورت کے عمل کو جاری رکھنے اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دی جائے۔ علاوہ ازیں اس موقع پر جدت پر مبنی ترقی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔