حکومت کی جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے یومیہ اعلان کے فیصلے پر سیاسی جماعتوں نے شدید تنقید کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کچھ دیر قبل وزیر اطلاعات کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومتی فیصلے سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کل سے عالمی منڈی کے حساب سے یومیہ بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اوگرا کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اب قیمتوں کے تعین کا اختیار حکومت نے اوگرا کے سپرد کردیا ہے۔
حکومتی اعلان پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کا روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا مطلب کیا ہے؟ یہ حکومت کا روزانہ کی بنیاد پر لوٹ مار اور عوام کی جیب پر ڈاکا ڈالنے کا فیصلہ ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اتحادی حکومت قیمتوں میں اضافے کے بجائے پٹرول پر 120 روپے کے ٹیکسز کا خاتمہ کیوں نہیں کرتی، لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت لیوی کے نام پر بھتہ خوری کیوں ختم نہیں کرتی، ناکام حکومت اپنی ناکامی کا بوجھ مسلسل عوام پر ڈال رہی ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکریٹری حسن مرتضیٰ نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ روزانہ پیٹرول قیمتوں کا نظام معاشرتی انتشار کا باعث بنے گا، اس کے تعین کے اثرات صرف پیٹرول ڈیزل تک محدود نہیں رہیں گے۔
حسن مرتضی نے کہا کہ حکومتی فیصلے سے زراعت، صنعت،سفر سمیت متعدد شعبے متاثر ہوں گے جبکہ عام آدمی کا بجٹ تلپٹ ہوجائے گا اور اس سے بے روزگاری و بے یقینی میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی بنیادی ذمہ داری سے دستبردار ہو چکی ہے، حکمران نیا نظام نافذ کر کے عام آدمی کو خود کشی پر مجبور کر رہے ہیں جبکہ پاکستانیوں کو امریکا ایران جنگ ثالثی کی سزا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں اور ارکان اسمبلی کی مراعات پر پابندی لگا کر عوام کو ریلیف دیا جائے۔