اندرونی خلفشار کو کم کیجیے!

مخالفت برائے مخالفت اور چیز ہے ، ادارہ جاتی غلطیاں بالکل ایک مختلف نوعیت کا کام ہیں


راؤ منظر حیات July 18, 2026

نہیں صاحب ‘ نہیں! ہم گئے گزرے لوگ نہیں ہیں۔ اور نہ ہی ہمارا ملک کسی طرح کمزور ہے ؟ مسئلہ صرف ایک ہے، اگر یہ حل نہ کر پائے تو دائروں کا سفر جاری رہے گا۔ اندرونی اور بیرونی مسائل ہمارے قد سے اوپر نکل جائیں گے ۔

معاملات کی نزاکت کو بھانپ لینے کے بعد‘ اگر ہمارا نظام Self Correctionکی طرف چل پڑتا ہے تو تھوڑے ہی عرصے میں ہم دنیا کے طاقتور ترین اور جدید ملکوں میں شمار ہوں گے۔ حقیقت میں اگر اکابرین ٹھنڈے دماغ سے غور و فکر کریں، اپنی ذات کے تعصب کو کھرچ کر باہر نکالیں، عوام کے فائدے والے مشکل فیصلے کریں تو محض پانچ سے دس برس میں ملک کی قسمت پلٹ جائے گی۔ اگر یہ نہ ہو سکا تو یاد رکھیے دکھوں‘ غموں ‘ بے روز گاری کے بھنور سے ایسا طوفان برپا ہو گا جو سب کو لپیٹ میں لے کر تباہ کر دے گا؟ اللہ نہ کرے کہ ہمارے وطن کو یہ بدنصیبی دیکھنی پڑے۔ آج بھی پر امید ہوں کہ خدا‘ اپنے بندوں کا دل اچھائی کی طرف مائل کر سکتا ہے۔ حکمران طبقے ادنیٰ فیصلوں کے حصار سے نکل کر ملک کی خیر خواہی کے سفر پر قدم رکھ سکتے ہیں۔

غور فرمائیے کہ ایک مکمل مغربی رکھ رکھاؤ والے انسان سے‘ خدا نے مسلمانوں کے لیے ایک نیا ملک بنوا دیا۔ وہ شخص جو مقامی زبان نہیں بول سکتا تھا، اپنے حد درجہ بلند قانونی ذہن کے ذریعے‘ کسی بھی خون خرابے کے بغیر‘ ایک نیا ملک تشکیل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ فسادات اور قتل و غارت تو تقسیم کے مرحلے میں ہوئے تھے۔دراصل یہ انگریز حکمرانوں کی کمزور انتظامیہ کی وجہ سے برپا ہوئے تھے۔ جس سے لاکھوں انسان‘ زندگی کی بازی ہار گئے۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ متحدہ پنجاب کی انگریز انتظامیہ‘ ملک چھوڑنے کا بدلہ ‘ بالواسطہ طور پر لے رہی تھی۔

کسی جگہ بھی فساد کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔ بہر حال یہ میرا آج کا موضوع نہیں ہے۔ آج اس ناامیدی کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔ جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ حکمران متعدد ایسے فیصلے کر رہے ہیں جن سے انتظامی ‘ سیاسی‘ سفارتی‘ اقتصادی سطح پر ملک کو بہت نقصان ہو رہا ہے۔ جزئیات میں جائے بغیر‘ عرض کروں گا کہ طالب علم کے تجزیہ کے مطابق ‘ پورا نظام ‘ ناقابل برداشت بوجھ کے تحت دب کر تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔ اردگرد جو کچھ بھی ہو رہا ہے۔ وہ سب کے علم میں ہے۔ میں کسی بھی سطح پر کوئی نئی بات کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔

سب سے پہلے یہ عرض کروں گا کہ کچھ قوتیں ناکارہ سیاسی بوجھ سے اب کافی بے زار نظر آتی ہیں۔ لازم ہے کہ یہ حساس معاملات ہیں۔ ان کی کوئی ایک جہت نہیں ہوتی‘ بلکہ یہ حد درجہ پیچیدہ ہوتے ہیں ۔ سانپ اور سیڑھی کے اس کھیل میں ‘ کچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔ مگر سیاسی طوفان آنے کے آثار سے تو سب کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ غور کیجیے کہ کیا‘ وزیر خارجہ جتنے اہم ترین شخصیت کے نواسے کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی تھی؟ پھر ایسا کیا ہوا‘ کہ اشرافیہ کا ایک ’’نونہال‘‘ قانون کی گرفت میں آ گیا۔ جواب بہت سادہ سا ہے۔ سمجھداروں کے لیے اشارہ ہی کافی ہونا چاہیے۔

جہاں تک بین الاقوامی دباؤ کا تعلق ہے تو طاقتور خاندانوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ اشرافیائی طبقے قانون‘ اصول اور شفافیت سے کوئی علاقہ نہیں رکھتے۔ بلکہ سچ پوچھیں ‘ تو یہ لوگ تمام قوانین سے بالاتر ہوتے ہیں۔ پھر اس کیس میں ایسا کیا ہوا‘ کہ ایک شہزادہ پابند سلاسل ہو گیا۔ اس انہونی کے علاوہ‘ ایک اور نیا معاملہ بھی سامنے آیا کہ پورے میڈیا نے بھرپور طریقے سے اس کیس کو کور کیا۔ ہر سطح پر یہ کیس موضوع بحث بنا رہا ۔ یہ بات‘ حد درجہ غیر معمولی ہے۔

ایک طرف یہ ماحول اور دوسری طرف مولانا فضل الرحمن کی تقریر ۔ جسے سوشل میڈیا پر بہت پذیرائی ملی ہے۔اس کا ایک ایک لفظ ریاستی اداروں کے خلاف ہے بلکہ اس میں شہداء کے مقدس خون کی بھی نفی کی گئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مولانا اتنے غیر سنجیدہ سیاست دان ہیں کہ اپنے زور بازو پر اتنی بڑی بات کہہ ڈالیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ قوتیں ایسی ہیں، جس کے بل بوتے پر انھوںنے حد درجہ متنازعہ زبان استعمال کی ہے۔ مولانا کے اسٹیبلشمنٹ پر حملے سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ کچھ قوتیں بلواسطہ طور پر اداروں پر حملہ کرا رہی ہیں۔ دوسری بات یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ قوتیں اپنی ڈوبتی ہوئی کشتی کو سہارا دلوانا چاہتی ہوں ۔ کوئی بھی شخص جو مولانا کی سیاست کو جانتا ہے، اسے بخوبی علم ہے کہ مولانا کبھی بھی گیلی مٹی پر پاؤں نہیں رکھتے ۔

حالیہ تقریر کو میں کئی اعتبار سے اداروں پر ایک منظم شب خون سمجھتا ہوں ۔ جس میں وہ ایک بڑے کھیل کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ ایک اور نکتہ توجہ طلب ہے وہ یہ کہ مولانا کا یہ اعلان فرمانا کہ انھیں لڑنے والے گروہ یا جتھے بنانے کے لیے کہا گیا ہے۔ یہ نکتہ حد درجے اہم ہے۔ طالب علم کی حیثیت سے تمام سیاسی راہنماؤں کی حد درجے عزت کرتا ہوں ۔ میری سوچ صرف اور صرف ملکی مفاد کے تابع ہے۔ کسی سیاسی گروہ یا جماعت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ جتھے بنا کر کس سے لڑنا ہے ؟ انھیں کس نے مسلح گروہ بنانے کا کہا ہے؟ مولانا کی اس کے اندر کتنی صلاحیت موجود ہے؟یہ وہ حد درجے اہم سوال ہے جس کی طرف اس تقریر میں کوئی اشارہ نہیں کیا گیا۔ جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے کہ ایک سیاسی جماعت‘ مسلح جتھے مرتب کرے ۔ تو زمینی حقائق کے مطابق یہ صلاحیت ان کی سیاسی جماعت میں بالکل موجود نہیں ہے۔

ایک اور نکتہ ذہن میں بار بار آتا ہے کہ شاید حضرت صاحب کی سیاسی جماعت کو اداروں نے اس حدکی پذیرائی نہیں بخشی جو مولانا کی خواہش کے مطابق ہو۔ انھیں کسی بھی صوبے میں اتنی عددی طاقت نہیں دی گئی جس سے وہ حکومت بنانے یا گرانے کا کردار ادا کر سکیں۔ بلکہ وہ اپنی آبائی سیٹ جو کہ کے پی کے اندر واقعہ ہے اس میں بھی شکست کھا گئے۔ حد درجے غم و غصے اور جذباتیت میں وہ حرکت کی ہے جس سے مستقبل میں ان کے لیے بے پناہ مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں اگر آپ اپوزیشن کے مرکزی قائدین کی طرف دیکھیں تو ان میں سے کسی نے بھی اتنی سخت گیری سے کام نہیں لیا ۔ یہاں عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کسی بھی صورت میں شہداء کے مقدس خون اور قربانی کو متنازعہ بنانے کی حرکت نہیں کرنی چاہیے۔ مخالفت برائے مخالفت اور چیز ہے ، ادارہ جاتی غلطیاں بالکل ایک مختلف نوعیت کا کام ہیں۔ مگر جو سپاہی اور جوان وطن کی مٹی پر اپنی جان نچاور کر گئے ، ان کی شہادت کو تنخواہ سے منسلک کرنا کسی بھی سیاسی قائد کو زیب نہیں دیتا۔ قطعاً یہ عرض نہیں کر رہا کہ ریاستی ادارے ہر کام درست کر رہے ہیں۔ ان کو بھی اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ مگر ذرا سوچیے کہ مولانا کے الفاظ کی گونج جب شہداء کے وارثوں تک پہنچی ہو گی تو ان کی کیا کیفیت ہو گی۔

یہ درست بات ہے کہ ہر ادارے کا ایک دائرہ کار ہے جس سے اسے باہر نہیں نکلنا چاہیے۔ مگر کیا ہمارا کوئی سیاسی قائد یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ ادارہ جاتی مددکے بغیر وزارت عظمیٰ یا کسی بھی صوبے کی وزارت اعلیٰ تک پہنچ پایا ہے۔ معذرت کے ساتھ مولانا بھی ہمیشہ اسی طرح کی بیساکھیاں استعمال کرتے رہے ہیں۔اختتام پر یہی گزارش کروں گا کہ ایک سیاسی جماعت کے قائد اور اسٹیبلشمنٹ کو‘ہر قسم کی غلط فہمی کو ادب آداب کے دائرے میں حل کرنا چاہیے۔ آگے دیکھئے یہ چپقلش کیا رنگ لے کر آتی ہے؟