بھارتی سفارتی ترجیحات پر عالمی تحفظات، نئی دہلی کیلئے واشنگٹن کا رویہ تبدیل

امریکہ اب بھارت کو اسٹریٹجک شراکت دار نہیں بلکہ ایک ممکنہ معاشی حریف کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے، بھارتی جریدہ


ویب ڈیسک July 20, 2026

ہندوتوا کے انتہا پسند نظریہ پر قائم مودی سرکارنے دفاع اور معیشت کیساتھ خارجہ پالیسی کو بھی تباہ کردیا، بھارتی سفارتی ترجیحات کے باعث نئی دہلی کیلئے واشنگٹن کے رویے میں تبدیلی نمایاں ہونے لگی۔

بھارتی جریدے اوپن میگزین کے مطابق واشنگٹن کی بھارت سے متعلق حکمت عملی تبدیل ہوچکی اوردونوں ممالک کے تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے، امریکہ اب بھارت کو اسٹریٹجک شراکت دار نہیں بلکہ ایک ممکنہ معاشی حریف کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے۔

بھارتی جریدے کے مطابق ٹرمپ کی واپسی کے بعد تعلقات میں بہتری کی توقعات پوری نہ ہو سکیں بلکہ کئی معاملات پر کشیدگی مزید نمایاں ہوئی، امریکی پالیسی میں پاکستان کی اہمیت بڑھ رہی ہے جبکہ اسلام آباد نے تہران کیساتھ امریکی رابطوں میں بھی اہم کردارادا کیا۔

بھارتی جریدے کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے امریکی "ڈیپ اسٹیٹ" پر بھارت کوغیر مستحکم کرنے کیلیے جھوٹے بیانیے استعمال کرنے کاالزام عائد کیا، امریکہ نے 2024 میں سابق بھارتی انٹیلی جنس افسر کیخلاف گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کا مقدمہ بھی قائم کیا۔

امریکہ کی جانب سے گوتم اڈانی پر فراڈ کے الزامات کو نئی دہلی میں مودی حکومت کے خلاف بالواسطہ اقدام سمجھا گیا۔

بین الاقوامی امور کے ماہر کانتی باجپائی کے مطابق امریکا بھارت خصوصی تعلقات اب مفادات پر مبنی سرد معاملہ بن چکے ہیں، مودی کی ہندوتوا پالیسی، دوغلی خارجہ حکمتِ عملی اور تجارتی تنازعات نے بھارت امریکہ تعلقات کو شدید دباؤ سے دوچار کردیا ہے۔