گرین پاکستان انیشیٹو کے تعاون سے بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے، کسانوں کی رہنمائی اور زرعی ترقی کے عمل کو فروغ مل رہا ہے۔
محنت کش نوجوان فارم کے مالک عاصم اعوان کے مطابق دو سال قبل ملنے والی مکمل بنجر زمین کا 80 فیصد رقبہ آباد کیا جا چکا ہے جہاں گندم، چنا اور کینولا کی کاشت کی جا رہی ہے۔ اس بنجر زمین کی پیداوار پاکستان کی منڈیوں تک پہنچے گی، جس سے آج کی درآمدات کل برآمدات میں بدلیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ میرے پاس 100 ملازمین نہیں بلکہ 100 خاندان ہیں جو اس منصوبے سے وابستہ ہیں، فصل کے دوران تقریباً 700 سے 800 مزدوروں کو روزگار ملتا ہے جس سے روزگار بڑھا ہے اور لوگ خوشحال ہو رہے ہیں۔
عاصم اعوان نے کہا کہ جب سے جی پی آئی نے ہمیں زمین فراہم کی، اس کے بعدسے ان کی ٹیمیں مسلسل ہماری رہنمائی اور معاونت کر رہی ہیں، سیٹلائٹ کے ذریعے فصلوں، بیجوں اور دنیا میں آنے والی نئی زرعی معلومات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
محنت کش نوجوان فارم کے مالک کا کہنا تھا کہ یہ صرف انفرادی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی کامیابی ہے، اور حکومت کے اس اقدام سے مستقبل میں ملک میں کوئی زمین بنجر نہیں رہے گی۔