11 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر کے لاش کے ٹکڑے کرنے والے مجرم کی سزائے موت برقرار

ہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، اس کی لاش کے ٹکڑے کیے گئے، سر اور دھڑ الگ الگ مقامات سے برآمد ہوئے، جج سپریم کورٹ


ویب ڈیسک July 21, 2026

سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے کراچی کے علاقے لانڈھی میں 11 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر کے لاش کے ٹکڑے کرنے کے مقدمے میں مجرم گوہر کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے اس کی اپیل مسترد کر دی۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔

سماعت کے دوران مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نہ ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا اور نہ ہی فنگر پرنٹس لیے گئے۔ جسٹس شہزاد احمد ملک نے ریمارکس دیے کہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، اس کی لاش کے ٹکڑے کیے گئے، سر اور دھڑ الگ الگ مقامات سے برآمد ہوئے۔ استغاثہ کے مطابق مجرم مقتولہ کے والد کا دوست تھا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ بعض اوقات سب سے زیادہ شور مچانے والا ہی اصل ملزم نکلتا ہے، تاہم عدالت کا کام جذباتی ہونا نہیں بلکہ قانون کے مطابق انصاف کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس مقدمے میں بھی سزائے موت نہ ہو تو پھر کس مقدمے میں ہوگی۔

یہ مقدمہ 28 فروری 2005 کو درج ہوا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا، اور اب سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے بھی اپیل خارج کرتے ہوئے سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔