آزاد کشمیر میں کامیابی ملی تو شہباز شریف سے کہوں گا مجھے وزیراعظم بنا دیں، نواز شریف

آزاد کشمیر میں ہماری حکومت بنی تو ہر 3 ماہ بعد مظفرآباد سمیت ہر شہر جا کر ترقیاتی کاموں کا جائزہ لوں گا، سابق وزیراعظم


ویب ڈیسک July 21, 2026
فوٹو: اسکرین گریب

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آزاد کشمیر میں ترقیاتی کام دوبارہ شروع کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں کامیابی ملی تو وزیراعظم شہباز شریف سے کہوں گا کہ مجھے وزیراعظم بنا دیں۔

مظفرآباد میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں مظفر آباد سے پیار ہے، مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر سے بے پناہ پیار ہے، پاکستان میں موٹرویز، ہائی ویز اور ایکسپریس ویز بنے ہیں لیکن یہاں وہی سڑک ہے جو 30 سال پہلے بنی تھی، کوہالہ سے مظفر آباد کوئی ہائی وے کیوں نہیں بنی۔

انہوں نے کہا کہ میں جب وزیراعظم تھا تو راجا فاروق حیدر بھی آزاد کشمیر کے وزیراعظم تھے اور میں نے کہا کہ مانسہرہ سے مظفر آباد، مظفر آباد سے میر پور دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ ایک خوب صورت ترین موٹر وے بننی چاہیے جبکہ یہ منصوبہ میں نے منظور کیا تھا اور یہ پاکستان کا ایک بہترین اور منفرد منصوبہ ہے اور آزاد کشمیر کے لیے نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کا بہترین تحفہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے آزاد کشمیر میں سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں کا جال پھیلتا  اور یہاں پر خوش حالی ہی خوش حالی ہوتی۔

نواز شریف نے کہا کہ میں نے کبھی آذاد کشمیر اور پاکستان کے دیگر صوبوں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا یا اسلام آباد میں کبھی تفریق نہیں کی،  میرے لیے آزاد کشمیر بھی اتنا ہی عزیز ہے جتنا پنجاب ہے، یہ میرا دوسرا گھر ہے، میرے بزرگ کشمیر سے ہجرت کرکے آئے تھے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں نے مریم نواز کو کہا ہے جیسے کسی کے ہاں مہمان جاتے ہیں تو کوئی فروٹ یا مٹھائی لے کر جاتے ہیں تو آج آپ بھی کشمیر کے لیے مٹھائی لے کرجائیں اور مظفر آباد کے عوام کو پیش کردو، ہمارا منصوبہ بڑا وسیع ہے، جو پروگرام لے کر آئے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت یہاں بنی تو ایک ایک منصوبے کو مکمل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں کامیابی ملی تو میرا دل چاہتا ہے شہباز شریف کو کہوں کہ مجھے آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیں، نواز شریف کو وزیراعظم بنادیں، آئندہ یہاں مسلم لیگ (ن) کی حکومت آتی ہے تو ان شااللہ یہاں کی تمام مشکلیں اور مسائل حل کرکے دم لیں گے اور اگر میں وزیراعظم نہ بن سکا تو اپنی یہاں کی قیادت کو کہتا ہوں کہ میں ہر تین مہینے بعد مظفر آباد اور راولاکوٹ اور دوسرے شہروں میں جاؤں گا کہ منشور پر عمل ہوا کہ نہیں اور وزیراعظم کو ساتھ لے کر جاؤں گا اور آزاد کشمیر کے چپے چپے میں جاؤں گا۔

پنجاب کی وزیراعلیٰ کی جانب سے آزاد کشمیر کے لیے منصوبوں کے حوالے سے نواز شریف نے کہا کہ مریم نواز کی جانب سے مظفر آباد کے لیے 10 گرین بسیں اگلے چند دنوں میں یہاں پہنچ جائیں گی، الیکٹرک بسیں چند دنوں میں مظفر آباد کی سڑکوں میں چلیں گی، اسپتال یا موبائل کلینک بھی ہوں گے، یہاں 15 موبائل اسپتال آئیں گے۔

نواز شریف نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے یہاں کوئی بیمار ہوجائے تو اس کو ابھی بھی چارپائی پر سڑک تک لے آتے ہیں اور پتا نہیں اسلام آباد لے جاتے ہیں بعض اوقات راستے میں دم توڑ دیتے ہیں یہ حال نہیں ہونا چاہیے، اسی لیے جو کام میں چھوڑ گیا تھا مکمل نہیں ہوسکے، جیسے موٹر وے ہے، وہ آج نہ صرف مکمل ہوتے بلکہ اس سے آگے جاتے مگر ہم نے بہت وقت ضائع کیا ہے، جس کا مجھے بہت دکھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام کی خوش حالی اور ترقی کے لیے وقت ضائع نہیں ہونا چاہیے، بہت زیادتی ہوئی ہے، میرے بعد آنے والی حکومت نے کچھ نہیں کیا، صرف نعرےبازی اور لوگوں کے جذبات کو بھڑکایا اور پاکستان کو تباہ کردیا، ہم جیت کر آئے تو پچھلی ساری کسر نکال دیں گے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ میری دعا اور خواہش ہے کہ مظفر آباد اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ سمیت تمام شہروں سے آگے نکل جائے۔