وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف آرگنائزر مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنہوں نے نوجوانوں کے ہاتھوں ڈنڈے تھمائے ہیں وہ آپ کے دوست نہیں ہوسکتے اور جو الزامات لگا رہے ہیں آزاد کشمیر میں ان کی اپنی حکومت ہے۔
مظفر آباد میں جلسے سے خطاب میں مریم نواز نے مظفرآباد کے عوام، ماؤں، بہنوں اور کشمیر کے شہیدوں کو سلام کرتے ہوئے کہا کہ میں آج مظفر آباد میں مہمان بن کر نہیں آئی، کشمیر میرا ہے، یہ وادیاں میری ہیں، یہ کشمیر بہن بھائی بزرگ مائیں بہنیں میری ہیں، یہ آزاد کشمیر میرا ہے، میرا خاندان اور میرا گھر ہے، آزاد جموں و کشمیر کے عوام میرے خاندان کے افراد اور دل کے بہت قریب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں خون، دل، دماغ، میں نسلوں سے کشمیری اور روح سے بھی کشمیر ہوں، اس لیے کشمیر کی بیٹی مریم نواز آج اپنے گھر آئی ہے، اپنے آبائی شہر آئی ہے، کہتے ہیں کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیری عوام کی محبت اور دعائیں کبھی نہیں بھول سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ 2021 میں گزشتہ انتخابات میں دو ہفتے انتخابات کی مہم چلائی تھی، جتنی شفقت اور دعائیں کشمیر کے عوام نے دی تھیں، انہیں بھول نہیں سکتی، اس وقت کے وزیراعظم نے کہا کہ میری کتنی سیٹیں ہیں، تو جواب ملا 3 پھر انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی کتنی سیٹیں تو کہا گیا 17 پھر اس نے کہا اس کو الٹ اور وہ ہماری سیٹیں بھی لے گئے۔
مریم نواز نے کہا کہ اگر کشمیر میں نواز شریف کی حکومت ہوتی تو کشمیر کو یہ مسائل کبھی پیش نہیں آتے، میرے مخالفتین بھی جانتے تھے کہ مریم نواز اور نواز شریف کا آپ سے رشتہ کتنا مضبوط ہے، جب بھارت نے کشمیر کی حیثیت بدلی تو میں اگست 2019 میں یہاں جلسہ رکھا مگر کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملنے گئی تو مجھے وہاں سے گرفتار کرلیا کیونکہ یہ ڈرتے تھے کہ مریم نواز کشمیر نہ چلی جائے اور نواز شریف کے سامنے مجھے گرفتار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ کبھی نہ ختم ہونے والا رشتہ ہے، جتنا مضبوط پاکستان ہوگا، اتنا مضبوط آزاد کشمیر بھی ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے آپ ہاتھوں میں ڈنڈے تھمائے ہیں وہ آپ کے دوست نہیں ہوسکتے ہیں، مریم نواز اور نواز شریف نوجوانوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ، ڈگریاں اور اعلیٰ تعلیم دیکھنا چاہتے ہیں۔
حریف جماعتوں کا نام لیے بغیر مریم نواز نے کہا کہ الیکشن کا موسم ہے، ہر جماعت یہاں آکر دعوے، وعدے اور گلے شکوے بھی کرتی ہے، کچھ لوگ یہاں آکر چند دن سے تقریریں کر رہے ہیں، گلے، شکوے اور شکایتیں کر رہے ہیں اور الزام لگا رہے ہیں تو میں بہت پیار و محبت سے یاد کرانا چاہتی ہوں کہ آپ کس پر الزام لگا رہے ہیں یہاں حکومت آپ کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کوئی بھی قابل ذکر منصوبہ ہے تو وہ مسلم لیگ (ن) کا ہے، کشمیر کی ترقی اور خوش حالی صرف مسلم لیگ (ن) کے وژن سے ہی ممکن ہے، جو وعدے کرتے ہیں پورا کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں صرف وعدے کرنے نہیں آئی بلکہ پنجاب کی دو سال کی اپنی حکومت کی کارکردگی لے کر آپ کے سامنے حاضر ہوئی ہوں، آج کشمیر کا بچہ بچہ سن لے کشمیر کے بزرگ اور نوجوان سن لیں اگر آپ نے مسلم لیگ(ن) کو منتخب کیا تو ہم وعدہ کرکے جا رہے ہیں تو ان شااللہ آزاد کشمیر کی قسمت بدل جائے گی۔
مریم نواز نے کہا کہ جہاں مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے وہاں کے حالات دیکھیں اور جہاں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نہیں ہے وہ بھی دیکھ لیں، لاہور، ملتان، پنڈی، گجرانوالہ اور فیصل آباد دیکھ لو، پنجاب کے 40 شہروں میں سے کسی کو بھی دیکھ لو، چپے چپے پر ترقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 300 نواز شریف اسکول بن رہے ہیں جہاں وہ سہولیات ہوں گی مہنگے ترین اسکول بھی نہیں دے رہے ہیں، اچھی تعلیم صرف امیر کے بچے کا حق نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ مظفر آباد کے لیے 10 بسیں تحفتاً لے کر آئی ہوں، مظفرآباد کے لیے 15 اسپتال آن ویل حاضر ہیں، پنجاب میں اپنی چھت اپنا گھر اسکیم ہے اور دو سال کے اندر اس وقت دو لاکھ گھر تکمیل کو پہنچ چکے ہیں، اگلے تین سال میں 5 سال سے بھی زیادہ کریں گے، وہی اپنی چھت اپنا گھر آزاد کشمیر میں بھی لے کر آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جن کے پاس اپنا پلاٹ اور گھر نہیں ان کو اپنی زمین اپنا گھر کے تحت حکومت پنجاب 5 مرلے کے فری پلاٹس دے رہی ہے، جن کے پاس وسائل نہیں ہیں، چھتیں اور دیواریں کمزور ہیں لیکن ٹھیک کرنے کے وسائل نہیں تو ان کے لیے بھی یہاں اپنی چھت اپنا گھر میسر ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ستھرا پنجاب کی طرح ستھرا آزاد کشمیر بھی ہونا چاہیے، ستھرا مظفر آباد اور ستھرا آزاد کشمیر بھی بن جائے، آزاد کشمیر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک تمام سڑکیں بنیں گی، لاہور میں دنیا کا سب سے بڑا نواز شریف کینسر اسپتال بن رہا جہاں ایک ہزار بستروں کا اسپتال ہے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگوں کو خدا نخواستہ ضرورت پڑے تو وہ اسپتال حاضر ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو ہزار ہونہار اسکالرشپس اور 5 ہزار لیپ ٹاپس لے کر آئی ہوں، پنجاب پہلا صوبہ ہے جس کے وزیر تعلیم کا بیٹا سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ جن کے اپنے صوبوں کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں وہ آزاد کشمیر کی سڑکیں کیا بنائیں گے، جن صوبوں میں لوگ علاج کے لیے رل رہےہیں وہ آزاد کشمیر میں علاج کی سہولتیں کہاں سے دیں گے، جن کے اپنے صوبے میں سارے وسائل کرپشن کی نذر ہوجاتے ہیں وہ آزاد کشمیر کے لوگوں تک ان کا حق کیسے پہنچائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا لمبا چوڑا منشور نہیں ہے بلکہ جو منصوبے پنجاب میں ہیں وہی منشور ہے۔