ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ پیغامات کا فعال تبادلہ جاری ہے لیکن واشنگٹن ماضی میں مذاکرات میں دھوکا دے چکا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے غیرملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں بتایا کہ پاکستان اور قطر سمیت ثالث ممالک تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں لیکن ایران کی ترجیح اب بھی حملوں کے جواب میں اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داری 30 دن کے اندر پوری کر دی تھی، تاہم اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے ہی امریکا نے مبینہ بحری واقعات کو جواز بنا کر نئے حملے شروع کر دیے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران یہ تیسرا موقع ہے کہ مذاکرات کے دوران حملوں کے ذریعے ایران کی سفارت کاری کو دھوکا دیا گیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا نے مفاہمت کی یادداشت کے تحت ایران کے منجمد اثاثے بھی جاری نہیں کیے حالانکہ معاہدے میں یہ شق طے پائی تھی۔
قبل ازیں میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے پاکستان کو آگاہ کردیا ہے کہ وہ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ایران پاکستان کو تصدیق کرچکا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اوریہ مذاکرات مفاہمتی یادداشت کے تحت جاری رہنے چاہئیں۔
مزید بتایا گیا کہ ایران چاہتا ہے کہ مذاکرات پہلی سطح پر آبنائے ہرمز پر ہوں، دوسرے مرحلے میں ان کے منجمد اثاثوں اور آخری سطح پر جوہری پروگرام پرمذاکرات ہوں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ایران نے بتایا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے ایک نئی راہداری بنانے کے اقدام کو مسترد کردتا ہے۔