تشنہ تاریخ پر گراں قدر اضافہ
انیس شیخ نے ایک بہ ظاہر عام اور ہماری تاریخ کے کچھ روایتی سے موضوع پر یہ کتاب بہ عنوان ’ہندوستان کیوں تقسیم ہوا؟‘ مرتب کی ہے، لیکن اس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے خود براہ راست مختلف تحقیقی ماخذ سے تحقیق کی ہے اور اس کے لیے انھوں نے پاکستان ہی نہیں بلکہ برطانیہ میں موجود تاریخی دستاویزات کو بھی خوب کھنگالا ہے۔ جہاں ضروری سمجھا ہے ان تحقیقی اور سرکاری کاغذات اور قانونی دستاویزات کے عکس بھی اس کتاب میں محفوظ کردیے ہیں۔ اس کتاب کی ضخامت دراصل اس موضوع کی گیرائی اور وسعت کی بھی غمازی کرتی ہے۔ انیس شیخ کی دل چسپی ہندوستان سے ہجرت اور ہجرت سے جڑے ہوئے مسائل اور بہت سے غلط تاثرات اور کھوکھلے مفروضات کی بیخ کنی کرنے میں رہی ہے اور وہ اپنے ’فیس بک‘ پر لاتعداد ویڈیو کے ذریعے اپنی تحقیق تاریخ کے طالب علموں تک پہنچاتے رہے ہیں۔ اس لیے یوں تو یہ اُن کی پہلی باقاعدہ کتاب ہے، لیکن ان کا تحقیق سے شغف بالکل بھی نیا نہیں، ہمیں یقین ہے کہ اس شغف کی گواہی اس کتاب کا ہر قاری بھی دے گا۔ اس کتاب پر سابق ڈائریکٹر قائداعظم اکادمی جناب خواجہ رضی حیدر کی رائے ایک سند کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ انھوں نے بھی اس کتاب کو بہت سے نئے زاویوں پر روشنی ڈالنے والا پایا ہے۔ وہ رقم طراز ہیں کہ ’’اس کتاب نے میرے اندر معلومات کے ایسے دریچے کھول دیے ہیں کہ جن سے آتی ہوئی روشنی میں مجھے برصغیر پاک وہند کی تاریخ کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع ملا اور میں اس نتیجے پر پہنچا کہ سکہ بند محققین اور مورخین بھی اس موضوع پر اتنی جاں فشانی اور ایسی تاریخی بصیرت کے ساتھ کام کرنے میں عجلت کا شکار ہوگئے اور یہ موضوع ہنوز تشنہ تحقیق رہا۔‘‘ اس کتاب کی ورق گردانی کیجیے تو اس کے پہلے باب میں آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام، کانگریس سے اتحاد اور خلافت تحریک جیسے بنیادی موضوعات کا نہایت تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں ہندوستان میں مسلمانوں کی نمائندگی کے معاملے سے لے کر 1937ء کے انتخابات اور اس کے نتائج تک کے امور کا ذکر شامل کیا گیا ہے۔ تیسرے باب میں 1940ء کی قرارداد لاہور سے 1946ء کے اہم ترین انتخابات تک کا احوال درج کیا گیا ہے۔ کتاب کے چوتھے باب میں ہندوستان میں فسادات کو بطور تقسیم کے ایک اہم محرک کے دیکھا گیا ہے، اس میں ’گائو رکشا‘ شدھی تحریک، ہندو مہا سبھا اور ’آر ایس ایس ‘ سے لے کر ’کیبنٹ مشن‘ اور ’یوم راست اقدام‘ تک کے نشیب وفراز کو قلم بند کیا گیا ہے۔ اگلے ابواب میں ہندوستان کی تقسیم کے عمل کے حوالے سے مختلف حالات و واقعات کی بات کی گئی ہے، متحدہ ہندوستان کے مختلف صوبوں اور علاقوں کی تقسیم اور الحاق وغیرہ سے لے کر سرحدی حد بندی تک کے حوالے سے بہت سے تاریخی حقائق سامنے لائے گئے ہیں۔ ساتھ میں کتاب کے عنوان یعنی تقسیم ہندوستان کے مختلف اسباب بھی بہ حسن وخوبی مذکور کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد آؒخر میں ’کتابیات‘ کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ آنے والے محققین کے لیے تقسیم ہند جیسے اہم ترین موضوع پر یہ کتاب کئی اعتبار سے ایک بڑا حوالہ بنے گی، کیوں کہ اس میں ہر مفروضے اور متن کے لیے باقاعدہ تحقیق اور مکمل حوالوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ سرورق پر تقسیم ہند کے پس منظر میں ایک ریل گاڑی آتی ہوئی دکھائی گئی ہے، ایک طرف تاج محل، حیدرآباد (دکن) کی معروف ’مکہ مسجد‘ اور دوسری طرف لاہور کی بادشاہی مسجد دکھائی گئی ہے۔ 715 صفحات تک دراز اس کتاب کو فکشن ہائوس، لاہور (0330-4201999) سے شائع کیا گیا ہے، اس کتاب کی قیمت دو ہزار روپے ہے۔
نشیب وفراز کا ’ڈاکٹر نامہ‘
’تہہ گرد‘ پروفیسر فیاض شیخ کی سوانح عمری صرف ایک معالج کی زندگی بھر کی بِپتا نہیں، بلکہ اس میں کراچی شہر میں جنم لینے والے ایک ایسے شخص کی داستان ہے، جس نے اس شہر کی سیاست اور سماج کا گہرائی مشاہدہ کیا۔ اس نے بچپن سے لے کر نوعمری اور پھر ’ڈی جے سائنس کالج‘ سے لے کر طب کی تعلیم کی، اس دوران کراچی کی کروٹ لیتی ہوئی سماجیات اور سیاست سے لے کر دائیں اور بائیں بازو کے ’ایشیا سبز ہے‘ اور ’ایشیا سرخ ہے‘ کے نعروں کی گونج میں آتشیں اسلحے کی زور آوری بھی دیکھی۔ طاقت کے زور پر عمل داری اور سارے و سائل کی بندر بانٹ ہوتی ہوئی دیکھی۔ پھر اس شہر میں مہاجر سیاست کا آغاز ہوتے ہوئے بہت قریب سے دیکھا۔ ساتھ ہی تعلیمی اداروں میں لسانی گروہ بندیوں سے مارکٹائی بھی ان کے مشاہدوں اور تجربات کا حصہ بن گئی۔ اپنے حقوق کے مطالبوں کے بیچ میں طلبہ سیاست میں بہ ظاہر بہت پارسا دکھائی دینے والے ’عناصر‘ کی جانب سے اسلحے کے استعمال کے تذکرے ایک خاصے کی چیز ہے۔ پھر انھی تعلیمی اداروں کی راہ داری میں ’جوانی دیوانی‘ ہونے کے بہت سے دل پذیر قصے ہیں، سماج کی طبقاتی لکیر میڈیکل کی تعلیم کے دوران بھی انگریزی اور اردو میڈیم والوں کے درمیان ’طویل فاصلوں‘ کی صورت میں سامنے آنے کی کتھا انھی صفحات میں رقم ہے۔ ڈائو یونیورسٹی میں پڑھتے ہوئے مصنف خود بھی ایک مذہبی طلبہ تنظیم سے وابستہ رہے، اپنے اس تجربے کو بھی انھوں نے بلا کم وکاست سپردِ تحریر کیا۔ اس کے بعد اُن کی زندگی میں ایک اور موڑ آتا ہے اور وہ اس ملک سے کوچ کر جاتے ہیں۔ اس کے بعد گوروں کے دیس میں ان کے ملازمتی اور دیگر پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے بھی مختلف حقائق عیاں ہوتے ہیں۔ پھر کوویڈ 19 کی وبا کی بازگشت بھی انھی صفحات میں ملتی ہے۔ یہ کتاب ایک طرف عام قاری کے لیے کراچی میں صرف ایک ڈاکٹر کی تعلیمی زندگی اور جدوجہد کی کہانی ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے روز وشب اور زندگی کے نشیب وفراز کے ساتھ 1980ء کی دہائی میں کراچی کے ’بدلائو‘ کے باب میں بھی ایک اہم حوالہ کہی جا سکتی ہے۔ یقیناً آنکھوں دیکھی گواہی کسی بھی معاملے میں اپنی ایک اہمیت اور منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس کتاب کے اوراق پلٹتے جائیے اور اس وقت کے احساسات، خدشات اور ایسے تضادات جو کبھی دیدہ دلیری سے، تو کبھی تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے نظر انداز کردیے جاتے ہیں، یہاں سب کے سب دست یاب ہو جاتے ہیں۔ اور قاری کو بہت سے فراموش کردہ اور ’غیرمقبول‘ بیانیوں سے بھی بہ خوبی آگاہی ہوتی ہے۔ کتاب گھوم گھوم کر قدیم کراچی میں کھارادر کی ان گلی کوچوں میں بھی آتی ہے، جہاں لیکھک کا جنم ہوا اور بچپن کے بے فکری کے دن گزرے۔ فطری بات ہے کہ انسانی زندگی کا یہ وقت جہاں بھی گزرے، وہ زمین وآسمان ساری دنیا سے مختلف اور دل فریب لگتا ہے۔ یہی صورت اس کتاب میں بھی نمایاں ہوتی ہے۔ کتاب میں رنگین صفحات پر مصنف کی زندگی کے مختلف موضوعات پر لاتعداد تصاویر کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ بَڑھیا چکنے کاغذ اور عمدہ طباعت اس کتاب کی پیش کش کو اور بھی قابل توجہ بناتے ہیں۔ 360 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو فضلی بک، کراچی (0336-2633887) نے شائع کیا ہے، قیمتدو ہزار روپے ہے۔
تین دیشوں کا تکون
شاہین کمال صاحبہ پیشے کے لحاظ سے ایک مدرس رہی ہیں۔ وہ ایک ایسی قلم کار ہیں، جنھوں نے خود کو فقط چند سال پہلے ہی دریافت کیا اور پھر کچھ اس طرح اس قلم دنیا کا حصہ بنیں گویا یہاں طویل عرصے سے موجود ہوں۔ ان کی زندگی مختلف نشیب وفراز اور کئی ہجرتوں سے گزرتی رہی، جس میں مشرقی پاکستان سے براستہ ہندوستان اور نیپال پاکستان آمد اور اس کے بعد پاکستان سے کینیڈا نقل مکانی ہوئی۔ کچھ عرصے قبل جب انھوں نے ’فیس بک‘ پر لکھنا شروع کیا، تو یہ جانا کہ وہ بہت خوبی سے لکھ سکتی ہیں اور پھر انھوں نے اپنی تحریروں کو کتابی صورت دینا شروع کی۔ ان کی تازہ تصنیف ’تیری میری کہانی‘ اپنے عنوان کی طرح آسان اور ہمیں اپنے اردگرد کا بیان ہی معلوم ہوتی ہے۔ اس کتاب کی ورق گردانی کیجیے، تو کہیں محبت کی کوئی کہانی اِس شہر کے پرانے گھر سے نکل کر جامعہ کراچی کی راہ داریوں میں سانس لیتی ہے اور پھر اس جذبے کی تشنگی کے اَسرار میں ہی تمام ہو جاتی ہے۔ کوئی قصہ روایتی خاندان کے رِیتی رواج میں زندگی کرتا ہے۔۔۔ کہیں فکرِ معاش میں خود کو تج دینے والے ’نوجوان‘ کا المیہ اور درد دکھائی دیتا ہے، کسی کہانی میں سماج کے متوسط طبقے کے مسائل مذکور ہیں، تو بہت سے مندرجات کا مرکزی خیال معاشرے کے طبقاتی تنائو اور ثقافتی اور تہذیبی متغیرات بھی ہیں۔۔۔ جیسے مصنفہ مشرقی پاکستان سے باقی ماندہ پاکستان اور پھر کینیڈا کی مکین ہوئیں، ویسے ہی ہمیں ان کی یہ کہانیاں بھی اکثر انھی تین دیشوں کے تکون میں سفر کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم کہیں کوئی خاص احساس بھی دل فریب افسانوی انداز میں خوب رنگ جماتا ہوا نظر آ جاتا ہے۔ اس کتاب میں عام طور پر تو بہت سادہ پیرائے میں اظہارخیال کیا گیا ہے، تاہم کہیں کہیں علامتی اظہار قاری کی اِبلاغی صلاحیت کی آزمائش کرتا ہوا بھی دکھائی دے جاتا ہے۔ یہ کتاب معمول سے زیادہ جلی حروف میں شائع کرائی گئی ہے، جس سے باریک خَط میں پڑھنے میں دشواری محسوس کرنے والوں کی شکایت بھی دور ہوگی۔ کتاب کی اشاعت کا اہتمام ’گفتگو فورم پبلی کیشنز‘ لاہور (0336-5861605) سے کیا گیا ہے، جب کہ قیمت ایک ہزار روپے رکھی گئی ہے۔
’ٹاٹا‘ کی دریافت
یہ کتاب حقیقتاً اختر شہاب کی خصوصی دریافت ہے۔ انھیں یہ سب کرنا بھی چاہیے تھا کہ یہ کتاب ان کے اپنے چچا اسد اللہ علیگ ہی کی دست یاب کلیات شعر ونثر پر مشتمل ہے، جو 1974ء میں وفات پا گئے۔ انھوں نے اپنی زندگی میں اپنی شاعری اور تحریروں کو مرتب نہیں کیا۔ یہ کام اب ان کی وفات کی نصف صدی کے بعد ان کے ہونہار بھتیجے کے ذریعے انجام پایا ہے۔ اس میں حمد ونعت اور نظموں سے لے کر ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے ان کے مختلف ڈرامے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ مرتب اختر شہاب بھی کئی کتب کے مصنف اور شعر وادب کے آدمی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان کی کتابوں کی پذیرائی ہوئی، تو انھیں خیال آیا کہ انھیں لکھنے پڑھنے کی تحریک تو اپنے چچا سے ہوئی تھی، یوں انھوں نے اس اہم کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے بیڑا اٹھایا اور ہم اپنی ابتدائی تاریخ میں گُم ہوجانے والی ایک ادبی شخصیت سے متعارف ہو سکے۔ یہ اختر شہاب کا ایک فرض بھی تھا اور قرض بھی کہ وہ اپنے چچا اسد اللہ علیگ کی نگارشات کو مجتمع کریں۔ کتاب کا عنوان انھوں نے ’ٹاٹا‘ رکھا ہے، جو وہ بچپن میں اپنے چچا کو کہتے تھے، وجہ یہ تھی کہ وہ آتے جاتے ہوئے انھیں ’ٹاٹا‘ کرتے تھے، یوں انھوں نے اپنے ایک ذاتی تعلق اور تاثر کو کتاب کے عنوان پر سجا کر ہم سب تک پہنچا دیا ہے۔ اس کتاب میں غزلیں، نظمیں، اس کے بعد ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے ڈراموں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ڈراموں میں ہلکے پھلکے موضوعات کی نوک جھوک خوب محسوس ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ اسد اللہ علیگ کے لکھے گئے مختلف ملی نغمے بھی اس کتاب میں موجود ہیں۔ یہاں تک کہ کتاب کے آخری حصے میں بچوں کے لیے لکھی گئی تحریریں بھی جمع کی گئی ہیں، جو بچوں کے جریدے ’بھائی جان‘ میں شائع ہوئیں یا ریڈیو پاکستان سے نشر ہوئیں، جب کہ آخر میں اسد اللہ علیگ کی کچھ مسودات کے عکس بھی شائع کیے گئے ہیں۔ 230 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی اشاعت حسنِ ادب پبلشر، (0321-3556953) فیصل آباد سے کی گئی ہے۔ قیمت 1750 روپے ہے۔
نگری جامعہ کراچی کی!
ایک طرف جہاں ضخیم کتابوں اور دستاویزات کی اہمیت مسلّمہ ہے، وہیں اختصار کی بھی اپنی ضرورت اور اہمیت رہتی ہے۔ بالخصوص وقت کی تنگی میں شاید اب شاید اختصار کی زیادہ اہمیت ہوگئی ہے۔ ایسی ہی ایک کتاب جامعہ کراچی کی میرٹوریس پروفیسر ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ نے رقم کی ہے اور اس کا موضوع بھی جامعہ کراچی ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے جامعہ کی تاریخ اور اس کے قیام اور کردار اور اس مادر علمی سے جڑے ہوئے مختلف اہم موضوعات اور عوامل پر قلم اٹھایا ہے اور مختصر انداز اختیار کرتے ہوئے پوری ایک جامع کتاب ترتیب دے دی ہے۔ یہ کتاب جامعہ کے ہر طالب علم کے لیے تو دل چسپ ہے ہی، لیکن عام قارئین بھی اس میں جامعہ کراچی کے حوالے سے چیدہ چیدہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ جامعہ کراچی کے مختلف کلیہ جات اور شعبوں اور ان کا مختصر پس منظر، مرکزی کتب خانے کا قیام، یہاں کے قابل اور ماہر اساتذہ سے لے کر شیوخ الجامعہ کے مختلف ادوارتک کا احوال اس کتاب میں موجود ہے۔ 1950ء کی دہائی میں جامعہ کراچی کی سول اسپتال کے علاقے سے موجودہ جگہ پر منتقلی اور اس کے بعد جامعہ کراچی کا پہلا جلسہ تقسیم اسناد۔ جامعہ کراچی کے اندر ’آئی بی اے‘ سے لے کر مختلف تخصیصی اور تحقیقی مراکز کا قیام، اور ان کے مقاصد کے ساتھ مختلف ’چیئرز‘ کے قیام کے حوالے سے بھی بات کی گئی ہے۔ جامعہ کراچی کے طلبہ کے لیے ضابطۂ اخلاق، مشیران امور طلبہ سے لے کر طلبہ یونین کے عہدے داران تک کا ذکر ماضی کے دل فریب دور کی یادوں میں لے جاتا ہے کہ اب تو ’طلبہ یونین‘ پر پابندی لگے ہوئے بھی 40 برس سے زائد ہو چکے ہیں۔ اس کتاب میں جامعہ کراچی کے حوالے سے اختر حسین رائے پوری، ڈاکٹرابو للیث صدیقی، ڈاکٹر منظور احمد اور دیگر کے رشحات قلم بھی جمع کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جامعہ کراچی کی ٹرانسپورٹ، جامعہ میں موجود بینک، ملازمین کے لیے ڈے کیئر سینٹر اور طلبہ کے ہاسٹل کے حوالے سے معلومات ملتی ہیں۔ مختلف ہم نصابی پروگرام، ڈگریاں، کتب خانے، اور اس کے علاوہ چیدہ چیدہ اہم واقعات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ جامعہ کراچی میں مساجد اور امام بارگاہوں سے لے کر گرجے اور مندر تک کی موجودگی بھی قارئین کو ایک ’خبر‘ کی طرح ملتی ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ کراچی کا قبرستان اور وہاں مدفون شیوخ الجامعہ اور دیگر اہم شخصیات، ملازمین کی انجمنوں اور اس مادرعلمی سے فارغ التحصیل مختلف نمایاں شخصیات کے اسم ہائے گرامی بھی اس کتاب کی زینت ہیں۔ گویا جامعہ کراچی کے ہر طالب علم کے لیے یہ اس مادر عملی کی جامع معلومات کا ایک خزانہ ہے۔ جامعہ کی بہت سی اہم تصاویر بھی اس کتاب میں شامل ہیں۔ اشاعت انجمن ترقی نسواں (0300-2124055) جامعہ کراچی سے کی گئی ہے، قیمت 1000 روپے ہے۔