تل ابیب / واشنگٹن: اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے گرفتاری وارنٹ کے باوجود امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات کریں گے۔
اسرائیل کے عربی زبان کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے مطابق نیتن یاہو یہ دورہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں اسرائیل، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور دونوں ممالک کو درپیش اہم امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نیتن یاہو بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے جاری کردہ گرفتاری وارنٹ کا سامنا کر رہے ہیں۔ آئی سی سی نے نومبر 2024 میں اسرائیل کے غزہ میں فوجی آپریشن کے دوران مبینہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
اسرائیلی حکومت ان الزامات کو مسترد کر چکی ہے اور آئی سی سی کی کارروائی کو غیر منصفانہ قرار دیتی ہے، جبکہ عدالت کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی قانون کے تحت کی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ہونے والی یہ ملاقات اس لحاظ سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ جنوری 2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد یہ نیتن یاہو کی ان سے ساتویں ملاقات ہوگی۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے اپنے موجودہ دورِ صدارت میں کسی بھی عالمی رہنما سے اتنی زیادہ ملاقاتیں نہیں کیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس ملاقات میں غزہ کی صورتحال، ایران سے متعلق امریکی و اسرائیلی پالیسی، خطے کی سکیورٹی اور دو طرفہ تعاون سمیت کئی اہم علاقائی اور بین الاقوامی معاملات زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔