پینٹاگون کا بڑا اعتراف، ایران جنگ میں 18 امریکی فوجی ہلاک، زخمیوں کی تعداد 624 تک پہنچ گئی

زخمی اہلکاروں میں 461 آرمی، 86 نیوی، 58 ایئر فورس اور 19 میرین کور سے تعلق رکھتے ہیں


ویب ڈیسک July 27, 2026

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق امریکی فوجیوں کے جانی نقصانات کی تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 624 زخمی ہو چکے ہیں۔

پینٹاگون نے ہفتے کے روز اپنے ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے 140 سے زائد مزید زخمی اہلکاروں کا اندراج کیا۔ اس کے علاوہ حالیہ ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کو بھی دوبارہ سرکاری فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے اپنے ریکارڈ میں ’اوورسیز آپریشنز‘ کے نام سے ایک نئی کیٹیگری بھی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت 7 جولائی سے بیرون ملک فوجی کارروائیوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کا الگ ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر اس نئی کیٹیگری کے اعداد و شمار کو آپریشن ایپک فیوری کے ریکارڈ کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں مجموعی طور پر 18 امریکی فوجی ہلاک اور 624 زخمی ہوئے ہیں۔

پینٹاگون کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں میں 11 کا تعلق امریکی آرمی، 6 کا امریکی فضائیہ (ایئر فورس) اور ایک کا امریکی بحریہ (نیوی) سے ہے۔

اسی طرح زخمی اہلکاروں میں 461 آرمی، 86 نیوی، 58 ایئر فورس اور 19 میرین کور سے تعلق رکھتے ہیں۔

امریکی میڈیا اور بعض قانون سازوں نے پینٹاگون کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، کیونکہ اس وقت سرکاری ریکارڈ میں ایرانی حملوں کے باوجود ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کم ظاہر کی گئی تھی۔

نئی ’اوورسیز آپریشنز‘ کیٹیگری میں 7 جولائی کے بعد ہونے والے نقصانات شامل کیے گئے ہیں، تاہم اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہر واقعہ کس مخصوص فوجی آپریشن یا تنازع سے متعلق ہے۔

رپورٹ میں شامل ناموں کے مطابق ان ہلاکتوں میں اردن میں ایرانی حملے کے دوران مارے جانے والے تین امریکی فوجی اور شمالی عراق میں ایرانی ڈرون کو ناکارہ بنانے کی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والا ایک فوجی بھی شامل ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے انسانی اور عسکری اثرات پہلے سے زیادہ سنگین ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔