فوجی حملوں کے بجائے پابندیاں ایران کو جھکا سکتی ہیں، امریکی حکام

ایران کو معاہدے پر آمادہ کرنے میں وقت لگ سکتا ہے، امریکی حکام


ویب ڈیسک July 28, 2026

واشنگٹن:

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں اور مالی دباؤ ممکنہ طور پر فوجی حملوں سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کا خیال ہے کہ معاشی دباؤ تہران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

رپورٹ میں امریکی انتظامیہ کے سینئر حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق ایران کو پیٹرول کی قلت، بینکوں سے بڑے پیمانے پر رقوم نکلوانے کے خدشات اور اپنے جنگجوؤں کو ادائیگیاں کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی نے ملک پر مالی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ایران کو محکمہ جنگ سے زیادہ امریکی محکمہ خزانہ سے خوف ہے تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کو کسی معاہدے پر آمادہ کرنے میں مکمل فوجی کارروائی کے مقابلے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے لیے بیرون ملک منجمد اثاثوں تک رسائی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی اب بھی مذاکرات کا بنیادی نکتہ ہے۔ یہی معاملات امریکا اور ایران کے درمیان جاری بات چیت میں اہم حیثیت رکھتے ہیں جس کا مقصد حالیہ جنگی وقفے کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل کرنا ہے۔