افغان طالبان کیخلاف مسلح مزاحمت میں شدت، ہزاروں نوجوان رجیم کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے

مسلح مخالف گروپس کی جھڑپوں نے رجیم کے افغانستان پرمکمل کنٹرول کے دعوؤں کا پول کھول دیا


ویب ڈیسک July 28, 2026

افغان طالبان کیخلاف مسلح مزاحمت میں شدت، ہزاروں نوجوان رجیم کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔

افغان طالبان کیساتھ حالیہ دنوں میں مسلح مخالف گروپس کی جھڑپوں نے رجیم کے افغانستان پرمکمل کنٹرول کے دعوؤں کا پول کھول دیا، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے بھی  دعویٰ کیا ہے کہ طالبان رجیم کیخلاف افغان نوجوانوں کی بڑی تعداد ان کیساتھ شمولیت اختیار کر رہی ہے۔

این آرایف کے دعوے کے مطابق بدخشاں، بلخ، پنجشیرسمیت مختلف علاقوں سے 2 ہزار سے زائد نوجوان مزاحمتی تنظیموں میں شامل ہوچکے ہیں۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے مطابق بدخشاں وطن کے حقیقی فرزندوں کے ہاتھوں میں جا رہا ہے۔

دوسری جانب افغان صحافی عثمان بازگر کے مطابق فریڈم فرنٹ نےزیباک میں طالبان کی چوکی پر قبضے کا اعلان کردیا۔

سابق افغان سفارت کار فیاض غیاثی نے افغان طالبان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں آزادی کو کچل دیا گیا تاہم بدخشاں سمیت شمالی وشمال مشرقی صوبے طالبان سے آزاد کرائے جائیں گے۔

افغانستان  کے صوبہ بدخشاں میں عسکری جھڑپوں اورطالبان مخالف گروپس کی پیش قدمی نے رجیم  کے امن واستحکام کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔