کشمیر لاہور یا کشمور نہیں پاکستان کی شہ رگ بنے گا، بیرسٹر گوہر

ٹی ٹی پی جہاں بھی ہے اس کو دہشتگرد سمجھا ہے، کوئی دو رائے نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف ایکشن ہوناچاہیے، چیئرمین پی ٹی آئی


ویب ڈیسک July 28, 2026
فوٹو: فائل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکمران اتحاد پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں جماعتوں کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچے ہیں اور دونوں جماعتیں بڑے بڑے دعوے کر رہی ہیں لیکن کشمیر لاہور یا کشمور نہیں بنے گا بلکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ بنے گا۔

راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بہتری کی کنجی ہے، اگر ملاقاتیں شروع ہوئیں تو حالات بدل جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نورین بی بی کے خلاف بھی مقدمہ درج ہوا، پہلے بھی کہا تھا گھر میں بیٹھے ایسے الفاظ کو ہرزہ سرائی نہیں ہوتی، اس طرح پرچے درج کرانے سے حالات بہتر نہیں ہوتے جبکہ اس وقت دہشت گردی کے خلاف یک جہتی کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، یہ لاہور اور کشمور نہیں بنے گا یہ پاکستان کی شہ رگ بنے گا، دونوں بڑی پارٹیوں نے بڑی سیاست کی اور اس نہج تک لے آئے ہیں، ایک کہتا ہے لاہور بنوا رہا ہوں دوسرا کہتا کشمور بنوا رہا ہوں، دونوں نے اس مقام تک پہنچایا اور آج بھی سیاست ہورہی ہے، لوگ یہاں مرے پڑے ہیں اور ان کو اپنی سیٹوں کی پڑی ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے بائیکاٹ کیا تھا تو کہا تھا کہ پہلے ماحول بناؤ، فری اینڈ فئیر الیکشن ہوگا تو ملک آگے جائے گا، پہلے تاثر ہوتا تھا لیکن اب دیکھتے ہیں لوگ نکلتے ہیں تو گولیاں چلتی ہیں، نہتے لوگوں پر گولیاں چلانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، اس کی مذمت کرتا ہوں، ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیشہ کہا کہ عوام کو بھی پرامن رہنا چاہیے ہے، عوام بھی عوامی اور سرکاری املاک کا تحفظ کرے، سرکار بھی کسی صورت گولی سے کام نہ لے، کیا عوام کو منتشر کرنے کے لیے واحد طریقہ گولی ہے، جو کچھ ہوا یہ پاکستان کا نقصان ہے کسی اور کا نہیں، اس وقت بھی سیاست اور پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنی چاہیے بلکہ مصلحت سے کام کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی صورت ٹی ٹی پی کو سپورٹ نہیں کریں گے، ٹی ٹی پی کا بندہ جہاں بھی ہے ہم نے اس کو دہشت گرد سمجھا ہے، کوئی دو رائے نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے، ہم یہ کہتے ہیں کہ پرامن احتجاج کو ڈیل کرنے کا طریقہ الگ ہے.

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ5  اگست اہم دن ہوگا، اس دن ہمارا پشاور میں بڑا جلسہ ہوگا جس میں لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، ریاست کے تینوں ستون ایک ہوچکے ہیں، ہم اچکزئی صاحب سے ملاقات کریں گے، امید ہے الائنس کی جماعتیں بھی 5 اگست کو ساتھ ہوں گی، بہتری کی جانب بڑھنے کے لیے کہتے ہیں نورین نیازی جیسا کلپ آجائے تو اسے مین اسٹریم میڈیا پر نہ لائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ نورین نیازی نے کہا ان کا ذاتی بیان ہے اور ان کی وضاحت بھی کی ہے، پارٹی نے کہا ہے کہ یہ پارٹی پالیسی کا حصہ نہیں ہے، معرکہ حق اللہ کی طرف سے اس قوم کو انعام ملا ہے جس پر قوم کو فخر ہے، مستقبل میں بھی بھارت ایسی مہم جوئی کرے گا تو اس کو بھرپور جواب دیا جائے گا، اگر یہ جمہوریت سے ملک کو آگے لے کر جانا ہے تو پہلی بات ہے کہ ملاقاتیں ہوں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پی ٹی آئی میں فرق ہے، پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے جو سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عوامی مطالبات کو تسلیم اور سپورٹ کیا ہے، ان کے ساتھ حکومت بھی بیٹھی اور معاہدہ کیا اور ہم نے کہا رہاست مخالف اور کشمیر کاز کے خلاف مطالبات کو سپورٹ نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام ہمارا انٹیگرل پارٹ ہیں، کشمیر کی صورت حال گھمبیر ہے جس پر تشویش ہے، مزید اشتعال نہیں بڑھنا چاہیے، خانہ جنگی کی جانب نہیں جانا چاہیے اور مزید خون ریزی نہیں ہونی چاہیے اور امن و امان کی صورت حال خراب نہیں ہونی چاہیے لہٰذا حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے، حکومت عوام کے ساتھ بیٹھے اور مصالحت کرلے جو ان کے مطالبات ہوں مان لے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا الیکشن آج ہو جائیں یا کل الیکشن دوبارہ بھی ہوجاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ کیا 1977 میں انتخابات دوبارہ نہیں ہوئے،1971  میں الیکشن ہوئے پھر کیا ہوا، الیکشن اہم نہیں کشمیر کاز اور لوگ ہیں اور ان کی پاکستان سے محبت ہے، میں سمجھتا ہوں جو سیاسی جماعتوں نے جو سیاست کھیلی اور ایک دوسرے کے خلاف لفظی گولہ باری کی اداروں کو چاہیے کہ وہ سمجھ لیں، یہ سیاست کا وقت نہیں یہ عوام کی بات سننے کا وقت ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پی ٹی آئی نے الائنس کے طور پر انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کیا، کشمیر الیکشن بائیکاٹ کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر سیاسی فیصلہ کیا، مہاجرین کی سیٹیں ختم کرنے پر کہا کہ یہ آئینی فریم ورک کا معاملہ ہے، اگر الیکشن ہوتے ہیں تو اس کے بعد آنے والی حکومت وہ طریقہ کار اپنا سکتی ہے۔