انصاف

اسلامی دور کا نظام عدل و انصاف قرآن پاک کے احکام اور سنت نبی کا ذریعہ انصاف تھے



انصاف کے اردو معنی عدل، فیصلہ اور برابری ہیں کسی معاملے کا غیر جانبداری سے فیصلہ حقیقت پسندی،عدل و داد مجازا حق واجبی حقوق مجازا قانون۔تاریخ کا پہلا تحریری انصاف اور قانون کا نظام میسو پوٹیمیا موجودہ عراق میں درج کیا گیا جس میں سلطنت سومر کا قانون اور بعد میں ہومو رابی کا ضابطہ شامل ہیں۔

دنیا کے قدیم ترین قانونی نظام میں نا ممو کا ضابطہ تھا، یہ اقوام عالم کا سب سے پہلا تحریری قانون ہے جو مٹی کی تختیوں پر تقریبا 2100 قبل مسیح سو مر کے شہر میں لکھا گیا۔اسی طرح ہو مو رابی کا ضابطہ تقریبا 1750 قبل مسیح بابل کے بادشاہ ہومو رابی نے جاری کیا جس میں 282 قوانین اور انصاف کے اصول درج تھے۔

اسلام میں انصاف کا پہلا باقاعدہ نظام حضور محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں قائم ہوا جس کی بنیاد قرآن مجید کی تعلیمات، مساوات اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلوں پر تھی، اس کا عملی مظاہرہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمر فاروق کے دور خلافت میں عدلیہ کو حکومت سے الگ کرنے اور باقاعدہ قاضی مقرر کرنے سے سامنے آیا۔

اسلامی دور کا نظام عدل و انصاف قرآن پاک کے احکام اور سنت نبی کا ذریعہ انصاف تھے ۔عدالتیں حکومت کے اثر سے آزاد تھیںاور قانون سب کے لیے یکساں تھا، کمزور اور طاقتور کے لیے ایک جیسا قانون کا نظام تھا ،فاروقی نظام عدل میں قاضیوں کا تقرر سخت شرائط پر مشتمل تھا ۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں عدالتوں کو الگ کیا گیا تھا اور شہروں میں باقاعدہ قاضی مقرر کیے گئے، ججوں کے لیے سخت شرائط مقرر کی گئیں جن میں تقویٰ، بلند کردار اور قانون کی سمجھ شامل تھی۔

اس دور میں خلیفہ وقت بھی رعایا اور عدالت کو جواب دہ تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا نظام عدل و انصاف، تاریخ اسلام اور اقوام عالم کا ایسا روشن باب ہے جو مساوات ،قانون کی حکمرانی ، حکمران اور عوام کے یکساں احتساب کی عظیم مثال پیش کرتا ہے، آپ کا یہ زریں اصول کے کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا، عادلانہ حکومت کی بنیاد ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور حکومت میں قانون سب کے لیے یکساں تھا ۔عدالت کے سامنے خلیفہ اور ایک عام شہری کا درجہ برابر تھا۔ہم اپنے ملک کے نظام عدل و انصاف کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ پاکستان کا عدالتی نظام سپریم کورٹ ،ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں پر مشتمل ایک متوازن اور مربوط نظام ہے۔ یہ نظام آئین پاکستان کے تحت ملک میں قانون کی بالادستی اور عوام الناس کو انصاف فراہم کرنے کا ذمے دار ہے۔

 پاکستان کی سب سے بڑی عدالت عدالت عظمیٰ ہے جو آئینی تشریح اور اپیلوں کا آخری فورم ہے، اسی طرح وفاقی شرعی عدالت ہے جو یہ دیکھتی ہے کہ ملکی قوانین اسلامی اصولوں کے مطابق ہیں یا نہیں؟ اسی طرح ہر صوبے اور وفاقی دارالحکومت میں ایک ہائی کورٹ موجود ہے جو ماتحت عدالتوں کی نگرانی کرتی ہے۔

ماتحت عدلیہ میں سیشن عدالتیں آتی ہیں جو ضلعی سطح پر فوجداری اور دیوانی مقدمات کی سماعت کرتی ہیں۔ اسی طرح مجسٹریٹ اور سول عدالتیں روزمرہ کے چھوٹے دیوانی اور فوجداری تناظرات کو حل کرنے کے لیے تحصیل و ضلعی سطح پر قائم ہیں۔

عدل و انصاف کا مختصر حوالہ دینے کا مقصد یہاں پر یہ ہے کہ کیا آج پاکستان میں عام شہری کمزور شخص کو حقیقی انصاف ملتا ہے یا نہیں؟ بدقسمتی سے ہمارا عدالتی نظام عوام کو انصاف دینے میں ناکام ثابت ہوا ہے اور یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ یہاں پر کمزور مظلوم کو انصاف نہیں ملتا ۔

 تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات عدالتیں اپنے دائرہ اختیار سے باہر نکل کر آئین کے خلاف عوامل میں پیش پیش رہی ہیں۔ ملک خداداد پر آمریت اور جمہوریت دونوں نظاموں نے راج کیا ہے ۔

یہ دیکھنے میں بھی آیا ہے کہ آمریت کے زمانے میں عدالتیں آمریت کے سامنے بے بس ہو کر آئین کی پاسداری نہیں کرتیں، عدالتوں میں پینڈنگ کیس کئی کئی سالوں سے فائلوں میں بند ہیں جن کا آج تک فیصلہ نہیں ہو سکا۔

سابقہ وزیراعظم اور بانی پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کو عدالت نے پھانسی دی اور کئی دہائیوں کے بعد عدالت نے اپنے ہی دیے گئے فیصلے پر نظرثانی کی اور کہا کہ یہ عدالتی قتل تھا۔ سابقہ وزیراعظم لیاقت علی خان کے قاتلوں کا آج تک نہیں پتہ چلا ۔سابقہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قاتل بھی آج آزاد گھوم رہے ہیں۔

 بدقسمتی سے ہمارا سارا معاشی نظام سود پر قائم دائم ہے تو کیا عدالت نے اس پر کوئی ایکشن لیا؟ یہ تو ایک غیر اسلامی عمل ہے۔ ہمارا نظام عدل و انصاف مفلوج ہو کر رہ گیا ہے جس ملک کے بنانے میں ہمارے سیاسی اکابرین نے اتنی انتھک محنت و جدوجہد و قربانیاں دیں۔درحقیقت ایک ملک میں دو ملک ہیں ایک اشرافیہ کا اور ایک غریب کا ۔

پاکستان میں عوام کو نہ معاشی حقوق حاصل ہیں نہ آئینی حقوق حاصل ہیں۔ صاحبان اختیار سب چیزوں کو دیکھ رہے ہیں ملک تباہی کے دہانے پہ کھڑا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فیصلے لیں۔

ایسا نہیں ہے کہ ہمارے نظام عدل میں صرف خامیاں ہی ہیں۔ میں کسی پر تنقید نہیں کر رہا ،ایک عام شہری ہونے کی حیثیت سے بس یہ سوال پوچھ رہا ہوں کیا انصاف پر بھی اس ملک میں امیروں کا حق ہے، غریبوں کو انصاف نہیں ملتا ۔

 مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ اس ملک میں کیا سلوک کیا گیا ؟تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔ خدارا پاکستان پر رحم کریں اور غریب کو جینے دیں ۔ ایک عام شہری کی زندگی اجیرن بن چکی ہے،دو وقت کی روٹی کھانے کے پیسے نہیں ہیں غریب کے جیب میں۔ اچھی تعلیم ،روزگار، صحت یہ ہمارا آئینی حق ہے لیکن بدقسمتی سے تمام سیاسی جماعتوں نے عوام کے دیے گئے ووٹ کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے اپنی جیبیں بھری ہیں۔

 میری درخواست ہے کہ عدلیہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔ عدلیہ ملک کے حالات سے ناواقف نہیں ۔خدارا، سیاست دانوں کو غلط فیصلوں سے روکیں ۔اہل دانش کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ عوام الناس میں شعوری تحریک کا آغاز کریں، جو آگے چل کر معاشی آزادی کی تحریک میں تبدیل ہو، بیرونی ممالک میں اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے ساتھ زیادتی ظلم یا جبر کرتا ہے تو وہ اسے کہتا ہے کہ میں تمہیں عدالت میں دیکھوں گا، ملوں گا اور یہاں پاکستان میں اس کا الٹ ہے جو مظلوم ہوتا ہے، وہ ظالم سے کہتا ہے کہ میں تم سے انصاف آخرت والے دن لوں گا۔

عدالتوں میں کچھ کیس تو ایسے ہیں کہ جنھوں نے یا جن پر وہ کیس فائل کیے گئے وہ لوگ اب اس دنیا میں ہی نہیں ہے، لہٰذا وکلا اور معزز جج صاحبان سے عوام یہ بھرپور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملکی حالات میں اپنا کردار ادا کریں اور سیاست دانوں کو ملک کے خلاف فیصلوں سے روکیں ۔

اس موقع پر مجھے حبیب جالب کا ایک شعر یاد آگیا ۔

یہ منصف بھی تو قیدی ہیں

ہمیں انصاف کیا دیں گے

لکھا ہے ان کے چہروں پر

جو ہم کو فیصلہ دیں گے

اسی طرح احمد فراز صاحب کا مشہور شعر ہے ۔

منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے

مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے

 میں درخواست کرتا ہوں کہ بااختیار لوگ معاشرے کے تمام طبقوں سے منتخب نمائندوں جن میں وکلا ،جج ، سیاست دان، معیشت دان، اساتذہ، تاجر اور اس کے علاوہ جو معاشرے کے بنیادی عنصر ہیں، ان تمام کو بٹھا کر ملک کا معاشی و عدالتی روڈ میپ تشکیل دیں ۔یہ ملک ہے تو ہم ہیں، اگر ملک نہیں تو کچھ بھی نہیں اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔(آمین، ثم امین)