بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی بدستور جاری

چپراڑ سیکٹر کے گاؤں نند پور میں ایک حویلی میں تین گولے گرے جس سے 7 مویشی ہلاک جب کہ تین افراد شدید زخمی ہو گئے ...


Editorial August 24, 2014
چپراڑ سیکٹر کے گاؤں نند پور میں ایک حویلی میں تین گولے گرے جس سے 7 مویشی ہلاک جب کہ تین افراد شدید زخمی ہو گئے. فوٹو: رائٹرز/فائل

NEW YORK: بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر گزشتہ کچھ عرصے سے گولہ باری جاری ہے۔پاکستانی ذرایع کے مطابق بھارتی فوج نے ایک بار پھر سیالکوٹ کے چارواہ سیکٹر میں بلااشتعال گولہ باری کی جس میں خاتون سمیت 3 پاکستانی شہید اور خواتین و بچوں سمیت9 افراد زخمی ہوگئے۔

اخبارات نے عینی شاہدین کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب سے پاکستانی حدود پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا، بھارتی فوج نے چارواہ اور چپڑار سیکٹر کے مختلف دیہاتوں پر بلا اشتعال فائرنگ اور مارٹر گولے فائر کیے جو گھروں پر گرے، جس سے سیالکوٹ کے گاؤں جاجراں گڑھی، گاؤں کھدرال، موضع بینی سلہریاں میں عورتوں سمیت متعدد افراد شہید و زخمی ہوگئے۔

چپراڑ سیکٹر کے گاؤں نند پور میں ایک حویلی میں تین گولے گرے جس سے 7 مویشی ہلاک جب کہ تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد سرحدی علاقے کے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور دیہاتی اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔اس حوالے سے عجیب بات یہ ہے کہ جب بھی دونوں ملکوں میں افہام و تفہیم کی کوئی بات چلتی ہے تو سرحد پر حالات کشیدہ ہو جاتے ہیں یا قصداً کشیدہ کر دیے جاتے ہیں۔

بھارت کی چالاکی یہ ہے کہ وہ اس موقع پر مغربی خبر رساں ایجنسیوں کے ذریعے اپنی بے گناہی کا موقف دنیا بھر میں پھیلا دیتا ہے جب کہ ہم دبی زبان میں تردیدیں ہی کرتے رہ جاتے ہیں حالانکہ ہمارے پاس لاشوں اور زخمیوں کی صورت میں ٹھوس ثبوت بھی موجود ہوتے ہیں۔اس سے قبل بھارت ایک سفارتی بہانہ بنا کر خارجہ سیکریٹریوں میں ہونے والی طے شدہ ملاقات کو منسوخ کر چکا ہے۔ پاکستان کو سرحدی خلاف ورزیوں پر عالمی سطح پر بھی آواز اٹھانی چاہیے اور بھارت کے ساتھ بھی پر زور احتجاج کرنا چاہیے۔