ابلاغ اور ابلاغِ عامہ (دوسرا اور آخری حصہ)

پاکستان بننے کے بعد بھی مختلف ادوار کے سیاسی و سماجی رجحانات کے تنقیدی جائزوں کے لیے اداریوں سے مدد لی جاتی رہی ہے



ڈاکٹر جعفر احمد نے ’’اداریہ کے خاتمہ اور روبہ زوال اخباری صحافت‘‘ کے موضوع پر یوں قلم اٹھایا ہے کہ مولانا ابو الکلام آزاد کے اداریے بھی مختلف کتابوں میں محفوظ کیے جاتے رہے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد بھی مختلف ادوار کے سیاسی و سماجی رجحانات کے تنقیدی جائزوں کے لیے اداریوں سے مدد لی جاتی رہی ہے۔ ڈاکٹر طاہر مسعود نے ’’اردو زبان میں سائنسی صحافت ‘‘کے موضوع پر یوں لکھا ہے کہ نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام نے اپنے ایک مقالے میں لکھا تھا کہ برصغیر میں مسلم قوم کسی بھی عہد میں سائنس کے معاملہ میں مضبوط نہیں تھی۔ ایک نام ایسا نہیں ہے جو ہم ساری افغان اور مغل تاریخ میں بطور عالمی سائنس دان کے لے سکتے ہیں۔

صرف البیرونی ہی ایک استثنیٰ ہے جو 1000ء کے قریب ہندوستان آیا تھا۔ جعفر احمد نے ’’پاکستان میں نظریاتی صحافت ‘‘کے عنوان سے لکھا ہے کہ پاکستان میں نظریاتی صحافت کے عنوان سے ذہن پہلے پہل جس طرف جاتا ہے وہ مختلف نظریاتی و سیاسی جماعتوں کے زیر اثر نکلنے والے اخبارات اور جرائد ہوتے ہیں۔ ان مطبوعات کا مقصد اپنے مخصوص سیاسی و نظریاتی پروگراموں کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔

پروفیسر متین الرحمن مرتضی (مرحوم) کا مضمون ’’ صحافت کا ایک عہد‘‘ کے عنوان سے بہت عرصہ پہلے شائع ہوتا تھا۔ پروفیسر صاحب لکھتے ہیں کہ سرسید دو زمانوں کا نقطہ الاطفال ہے۔ ایک دور ان پر ختم ہوا تو دوسرا عہد انھوں نے خود بنایا۔ سرسید برصغیر کے پہلے صحافی ہیں جنھوں نے عملا اخبارات کو محض ذرائع ابلاغ نہیں بلکہ ذریعہ ابلاغ عامہ کے طور پر پہچانا۔ انھوں نے خبر کو اخبارات کا بنیادی جوہر بنایا۔

تسنیم قریشی نے ’’ قائد اعظم اور پریس‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ جناح صاحب نے روزنامہ ڈان کا اجراء کیا۔ قائد اعظم کی ہدایت پر میاں افتخار الدین نے لاہور سے پاکستان ٹائمز کا اجراء کیا۔ قائد اعظم نے کبھی صحافیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش نہیںکی۔ ڈاکٹر شفیق احمد نے مولانا غلام رسول کی اداریہ نویسی کے بارے میں اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ ان کے اخبار روزنامہ انقلاب نے قائد اعظم کے بارے میں دورخہ رویہ اختیار کیا، گو بیشتر مسائل پر روزنامہ انقلاب قائد اعظم کی ہم نوائی کرتا تھا لیکن قائد اعظم اور سر سکندر حیات کے درمیان اختلافات کی صورت میں سر سکندر کی وکالت کو اپنا فرض اولین سمجھتا تھا۔ ڈاکٹر طاہر مسعود کی ترتیب کردہ اس کتاب میں معروف صحافی نصر اﷲ خان (مرحوم) کا مضمون ’’فخر ماتری ایک رجحان ساز مدیر‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ سید فخر الدین ماتری نے کراچی سے 1962 میں روزنامہ حریت کا اجراء کیا تو اس کی افتتاحی تقریب میں انھوں نے کہا تھا کہ’’ اردو پر میرا حق ہے کیونکہ میں دلی کے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں‘‘ وہ گجراتی زبان کے صف اول کے ادیب بھی تھے۔ اس کتاب میں ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں بورس کا الہلال کے بارے میں آرٹیکل شامل ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ اردو صحافت کی تاریخ میں الہلال وہ رسالہ ہے جو اپنی تمام ظاہری اور باطنی خصوصیات میں ایک انقلاب آفرین دعوت تھا۔ اس نے ملک کے سیاسی، علمی، ادبی اور دینی افکار و عقائد پر انقلاب انگیز اثرات ڈالے، ان پر مستقبل کا مورخ بحث کرسکے گا۔ استاد محترم پروفیسر ذکریا ساجد کا پاکستان میں ابلاغ عامہ کی تعلیم و تحقیق پر ایک جامع آرٹیکل شامل ہے، وہ لکھتے ہیں کہ نئے نصاب کے دو پہلو قابل غور ہیں۔ اس میں صحافت کے فنی پہلوؤں کی تربیت کے ساتھ ساتھ عملی تربیت کے انتظامات شامل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ صحافت و ابلاغ عامہ ایک پیشہ وارانہ شعبہ ہونے کے ساتھ علم و ادب کا اہم شعبہ ہے۔ اس اعتبار سے تمام معاشروں کے ادبی ورثے میں صحافت اور رائے عامہ کا حصہ بھی ہمیشہ شامل رہا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے سابق چیئرمین مغیث الدین شیخ کا معروضیات کے بارے میں اہم معلوماتی آرٹیکل کتاب میں شامل ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ معروضیت (Objectivity) ابلاغیات کی دنیا میں ایک ایسی اصطلاح ہے کہ جس کی جانب کوئی نظریاتی تعین کرنا اور ضمنی رائے قائم کرنا آسان نہیں ہے۔

معروضی رپورٹ سے مراد ایسی رپورٹ ہے جو غیر متعصبانہ ، متوازن، انصاف پر مبنی، کسی طرح کی رائے کی ملاوٹ سے محفوظ، غیر جانبدار اور حقیقت کے قریب تر ہو۔ یہ سچ پر مبنی ہو، مکمل سچ اور صرف سچ کے سوا کچھ نہیں۔ ڈاکٹر محمد اسامہ شفیق نے سوشل میڈیا اور اس کے اثرات پر اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ سوشل میڈیا کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اسے کس نظریہ سے دیکھتے ہیں۔ راقم نے صحافت کے کالے قوانین کا جائزہ لیا ہے۔ یورپی ممالک نے ایشیائی، افریقی اور لاطینی ممالک کو نوآبادی بنانے کا سلسلہ شروع کیا تو نوآبادیات کے مختلف ماڈل ظہور پذیر ہوئے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے جب ہندوستان پر قبضہ کرنا شروع کیا تو شہریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد ہزاروں افراد کو پھانسیاں دی گئیں، دوسری طرف انگریز حکومت نے ہندوستان میںجدید تعلیمی، انتظامی اور عدالتی نظام نافذ کیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں کلکتہ میں پریس لگ چکا تھا۔ پہلے انگریزی زبان میں اور پھر مقامی زبانوں میں اخبارات شائع ہونے لگے۔ کمپنی کے افسروں کو جب محسوس ہوا کہ قارئین میں اردو، ہندی، بنگالی اور دیگر زبانوں میں شائع ہونے والے اخبارات سے آزادی کی تحریک کو تقویت مل رہی ہے تو 1882میں اخبارات کو ریگولیٹ کرنے کے لیے پہلا قانون نافذ کیا گیا۔ اس قانون کے تحت اخبار کی اشاعت کے لیے پرمٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا اور اخبارات پر سنسرشپ نافذ کردیا گیا۔ اس قانون کی کئی شقیں پاکستان میں نافذ ہونے والے قوانین کا حصہ رہی ہیں۔ عبدالواجد خان نے پاکستان میں ’’فن، تعلقات عامہ اور اس کے تقاضے ‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ شہرت کے بھوکے سیاست دانوں نے اپنی بھوک مٹانے کے لیے اس محکمہ کا ناجائز استعمال کیا لیکن نئی حکومت میں اس ادارے کے ذریعے مشرقی اور مغربی پاکستان کے عوام کے درمیان موجود خلیج کو بانٹنے اور عوامی جذبات کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔

سینئر صحافی عابد حسین نے ’’خبر کیسی لکھی جائے‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ خبر لکھنا اور پیش کرنا ایک منفرد کام اور اہم فن ہے۔ صحافی حاصل کردہ معلومات کو قارئین، سامعین اور ناظرین تک کبھی سادہ انداز میں اور کبھی قدرِے دلچسپ یا (چٹ پٹے) انداز میں پہنچاتا ہے۔ میڈیا کا پلیٹ فارم جیسے اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن کے لیے خبر لکھنے کے اصول اور تکنیک مختلف ہوسکتی ہیں لیکن خبر لکھنے کا عمل ایک ذمے داری ہے کیونکہ یہ معلومات کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ایک معیاری خبر معاشرتی شعور بیدار کرنے، رائے عامہ کی تشکیل اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

 معروف مصنف اور سابق صحافی عبدالسلام سلام نے ’’کتاب کی تیاری کے آداب اور مراحل ‘‘کے عنوان سے لکھا ہے کہ کتاب ایک دروازہ ہے جو پڑھنے والوں پر جانی اور انجانی دنیاؤں کا دروازہ کھولتا ہے۔ بچوں کی معصوم اور حیرت بھری کتابوں کے علم کے لامحدود موضوعات تک رسائی کتاب کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار سہیل انصاری نے ’’اشتہارات، خواہشات اور جدیدیت کی اخلاقی تشکیل ِ نو‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ انڈسٹریلائزیشن نے ہزار سالہ تسلسل کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔ جب آبادی نئے صنعتی مراکز کی طرف ہجرت کرنے لگی جیسے Raymond Williams نے اپنے تجزیہ میں لکھا ہے کہ روزمرہ ز ندگی، علامتی اور عملی تنظیم میں ایک عقیق خلل قرار دیتے ہیں تو لوگ وراثتی علم سے منقطع ہوئے اور ایک ایسے شہری ماحول میں داخل ہوئے جو ان کے لیے غیر مانوس تھا جیسا کہ 1976 میں Even استدلال کرنے میں ابتدائی اشتہارات نے صنعتی فراوانی کی حیرت کن دنیا کو قابل فہم بیانیہ میں منتقل کیا جس کے ذریعہ افراد یہ سمجھنے کے قابل ہوئے کہ کون سی مصنوعات موجود ہیں وہ کن مسائل کا حل پیش کرتی ہیں۔ یہ اشیاء ابھرتے ہوئے شہری طرز زندگی میں کس طرح فٹ ہوتی ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی نے شعبہ ابلاغیات کے ریٹائرڈ استاد وقار ملک نے ’’انٹرویو اور اس کے فنی تقاضے‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ انٹرویو محض اخبار نویسی کی شخصیت سے گفتگو کا نام نہیں بلکہ یہ ایک انتہائی مشکل اور مہارت پر مبنی کام ہے جس کا عام لوگوں کو اندازہ نہیں ہے۔ کسی بھی شخصیت سے سوال کوئی بھی پوچھ سکتا ہے مگر ایک جہاندیدہ اور زیرک صحافی جو سوال پوچھتا ہے وہ سوال کسی اور کے ذہن میں نہیں آسکتا۔ سینئر استاد محمود غزنوی نے ’’ریڈیائی صحافت، ایک تعارف‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ ریڈیو دوست نواز میڈیا ہے۔ اپنے سننے والے سے مطالبات نہیں کرتا کہ یہ جگہ گھر نہ لے، نہ کسی ایک مقام پر جم کر متوجہ ہونے پر زور دیتا ہے۔

 یاسمین سلطانہ فاروقی نے ’’مدیر کے مسائل‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ صحافت کو ہمیشہ سے قوم و ملت کی اصلاح کے لیے بہترین ذریعہ سمجھا گیا۔ اس لیے مدیر کو بہت احتیاط اور معتدل انداز میں اپنا موقف قلم بند کرنا ہوتا ہے، تاکہ انارکی اور انتشار جیسی کیفیت نہ ہو۔ حالات عام ڈگر سے ہٹ کر جنگ و جدل جیسے ہی کیوں نہ ہوں، عوام سے مخاطب ہوتے وقت جذبات پر قابو پانا ضروری ہوتا ہے۔

اس کالم میں کتاب میں شائع ہونے والے چند مضامین کا احاطہ کیا گیا ہے،طالب علموں، صحافیوں اور سیاست میں دلچسپی لینے والوں کے لیے یہ بہترین تحفہ ہے۔ ڈاکٹر طاہر مسعود اس کتاب کی اشاعت پر قابلِ مبارکباد ہیں۔