عقیدہ ختم نبوت کے چوکیدار کا سانحہ ارتحال

تاریخ کے دھارے میں کچھ شخصیات ایسی خاموش، باوقار اور استقامت کی پہاڑ ہوتی ہیں کہ ان کا ہونا ہی پورے قافلے کے لیے اطمینان اور سکون کا باعث بن جاتا ہے



تاریخ کے دھارے میں کچھ شخصیات ایسی خاموش، باوقار اور استقامت کی پہاڑ ہوتی ہیں کہ ان کا ہونا ہی پورے قافلے کے لیے اطمینان اور سکون کا باعث بن جاتا ہے۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھریؒ انھی نایاب گوہروں میں سے ایک تھے۔ میری کبھی ان سے ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن ختم نبوت کے حوالے سے ان کا ذکر خیر ہمیشہ سننے میں آیا۔ پاکستان میں جب بھی تحریک تحفظ ختم نبوت کا ذکر ہوگا، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کا نام ضرور لیا جائے گا۔

جنھوں نے تمام عمر آقا کریم کی ختم نبوت کی چوکیداری میں گزار دی۔ ان کی زندگی محض سالوں اور مہینوں کی گنتی کا نام نہیں تھی بلکہ وہ ایمان، محنت، دیانت اور مقصد سے وفاداری کی ایک مکمل اور روشن داستان تھی۔ تقریباً ایک صدی پر محیط یہ حیاتِ مستعار جس سادگی، خاموشی اور لگن کے ساتھ گزری، اس نے ملتان کی خاک اور علمی دنیا کو ایک ایسی بابرکت یادگار عطا کی ہے جس کی خوشبو مدتوں دلوں کو معطر کرتی رہے گی۔

1932 میں مشرقی پنجاب کے تاریخی شہر جالندھر کے ایک دین دار اور محنتی آرائیں زمیندار گھرانے میں آنکھ کھولنے والے اس بچے کو کیا معلوم تھا کہ قدرت اس سے چودہ صدیوں کے سب سے نازک اور عظیم ترین مقصد کی پاسبانی کا کام لینے والی ہے۔ والد گرامی حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی آغوشِ تربیت نے ان کے اندر دین کی سچی محبت، ایمانی غیرت اور خادمانہ جذبے کا بیج بو دیا۔ ابھی ملک میں حفظِ قرآن کریم کی نئی بنیادیں پڑ رہی تھیں کہ آپ نے حضرت قاری رحیم بخشؒ کے دستِ مبارک پر حفظِ قرآن مکمل کیا اور قیامِ پاکستان کے بعد حضرت قاری صاحب کی سب سے پہلی درس گاہ کے اولین شہسواروں میں شامل ہوئے۔

علم کی پیاس انھیں جامعہ خیر المدارس ملتان لے گئی اور وہاں سے ہوتے ہوئے 1957میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے مبارک صحن میں پہنچی، جہاں محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کے زانوئے تلمذ طے کر کے انھوں نے دورہ حدیث شریف مکمل کیا۔ حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ، حضرت قاری رحیم بخش پانی پتیؒ، محدث العصر حضرت بنوریؒ اور حضرت مولانا محمد صدیقؒ جیسے اکابرین کی صحبت و تربیت نے مولانا عزیز الرحمٰن کے اندر علم و عمل اور اخلاص کی وہ گہری بنیادیں استوار کیں جنھوں نے آنے والی پوری زندگی ان کا رہنما بننا تھا۔

تعلیم سے فراغت کے بعد تقریباً تیرہ سال تک انھوں نے مختلف مدارس، بالخصوص مخزن العلوم خان پور میں ہدایہ اولین، سراجی اور مرقاۃ جیسی معرکۃ الٓارا اور دقیق کتب کا درس دیا لیکن ان کی روح کسی ایسے آستانے کی تلاش میں بھی تھی جہاں انسان کا باطن سنورتا ہے۔ چنانچہ شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ، سائیں حماد اللہ ہالیجویؒ، خواجہ خان محمدؒ اور شہیدِ اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ سے اصلاحی تعلق قائم کیا اور بالآخر حضرت لدھیانوی شہیدؒ کی شفقتوں اور اجازت و خلافت سے ان کے باطنی سفر کو جلا ملی۔

1970میں جب آپ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے باقاعدہ وابستگی اختیار کی تو یہ محض کسی تنظیم میں شمولیت نہیں تھی بلکہ اپنے والدِ محترم اور اکابرین کے مشن کو اپنی زیست کا مقصدِ اول بنا لینا تھا۔ مرکزی خازن اور ناظمِ دفتر مرکزیہ ملتان کے عہدوں پر خدمات انجام دینے کے بعد 1985 میں جب انھیں مرکزی ناظمِ اعلیٰ کی ذمے داری سونپی گئی تو انھوں نے اس مقام کو سچی خادمانہ سوچ کے ساتھ سنبھالا۔ چھپن سال کی طویل جماعتی زندگی اور چھیالیس سال بطور مرکزی ناظمِ اعلیٰ خدمات انجام دینا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔

ان کے دور میں مجلس کا دفتر صرف ایک انتظام گاہ نہیں رہا بلکہ اخلاص، شفافیت اور امانت کا گہوارہ بن گیا۔اس طویل جدوجہد کے ساتھ ساتھ آپ کا شمار جمعیت علمائے اسلام کے ان غیر سیاسی اور مدبر اکابرین میں ہوتا ہے جنھوں نے خود کبھی الیکشن کی سیاست میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی کسی سیاسی عہدے کی خواہش کی، مگر ساری عمر جمعیت علمائے اسلام کے قائدین کے ساتھ شانہ بشانہ اور قدم سے قدم ملا کر چلے۔ قائدینِ جمعیت ان کی رائے اور حکمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، جب کہ کارکنانِ جمعیت کے سروں پر ان کا دستِ شفقت ہمیشہ ایک مضبوط سایہ بن کر قائم رہا۔ وہ سیاست کے ہنگاموں سے دور رہ کر بھی قافلہ علم و سیاست کے لیے ایک معتبر اور قابلِ اعتماد پیرِ تسمہ پا کی حیثیت رکھتے تھے۔

مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ ایک نہایت خوبصورت اور دلفریب شخصیت کے مالک تھے۔ دھیما لہجہ، اجلا سفید لباس اور چہرے پر ایک دائمی وقار و متانت، گفتگو میں ایسی نرمی کہ سامنے والا اپنے تمام تر گلے شکوے بھول جائے لیکن کام اور مقصد کے معاملے میں ایسی گرم جوشی اور جستجو کہ جوان بھی رشک کریں۔ قرآن کریم کی باقاعدگی سے تلاوت ان کا اوڑھنا بچھونا تھی۔ ان کی شخصیت کا سب سے تابناک پہلو مالی معاملات میں ان کی بے مثال احتیاط تھی۔

جماعتی رقم کے معاملے میں وہ کڑی ترین جانچ پڑتال فرماتے اور ایک ایک پیسے کا حساب یوں رکھتے جیسے اپنے نفس کو بارگاہِ الٰہی میں پیش کر رہے ہوں۔ انھوں نے کبھی جماعتی وسائل کو اپنی ذات یا آرام کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا۔ ملک بھر میں مبلغینِ ختم نبوت کی سرپرستی ہو، ردِّ قادیانیت پر لاکھوں کی تعداد میں معیاری لٹریچر کی ترتیب و اشاعت ہو یا دفاتر کے نظام کو منظم و شفاف بنانا ہو، ان کا قلم اور ان کا ذہن ہر وقت متحرک رہتا تھا۔ بالآخر 94 سال کی طویل اور با برکت عمر پانے کے بعد، 14 صفر المظفر 1448ھ مطابق 29 جولائی 2026 کی شام، نشتر اسپتال ملتان میں یہ درخشندہ ستارہ غروب ہو گیا۔ اگلے ہی دن قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان کے تاریخی میدان میں جب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی دامت برکاتہم نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی تو ملتان کی فضا اشکبار تھی۔ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں مسلمانوں، علمائے کرام، مبلغین اور مختلف مکاتبِ فکر کے قائدین نے اس جنازے میں شرکت کی۔

ان کے انتقال پر قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن سمیت ملک بھر کے جید علماء کرام نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی زندگی اور خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیاکہ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ اور ان کے خانوادے کی تحفظِ عقیدۂ ختمِ نبوت کے لیے گراں قدر اور ناقابلِ فراموش خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انھوں نے پوری زندگی اخلاص، استقامت اور بے لوث جذبے کے ساتھ عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ اور دفاع کی عظیم جدوجہد جاری رکھی۔ مرحوم اکابرِ امت کی روشن روایات کے امین، اسلاف کے اعلیٰ اخلاق کا عملی نمونہ اور علم و عمل کی درخشاں شخصیت تھے۔

مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ سادگی، عجز و انکساری، حسنِ اخلاق اور للّٰہیت کا حسین پیکر تھے، جن کی زندگی اہلِ علم و دین کے لیے قابلِ تقلید مثال ہے۔ مرحوم کی دینی، ملی اور بالخصوص تحفظِ عقیدۂ ختمِ نبوت کے لیے انجام دی گئی خدمات ایک روشن سرمایہ ہیں، جن کے مشن کو پوری ذمے داری اور عزم کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔ عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے قائدین، کارکنان، علماء کرام اور ملک بھر کے مذہبی حلقے اس عظیم سانحے پر تعزیت اور ہمدردی کے مستحق ہیں۔ میں مرحوم کے اہلِ خانہ، لواحقین، تلامذہ، رفقاء اور تمام متعلقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ کی کامل مغفرت فرمائے، انھیں اعلیٰ علیین میں بلند مقام عطا فرمائے، ان کی دینی خدمات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ اب ہم میں نہیں رہے لیکن ان کا چھوڑا ہوا طرزِ زندگی، ان کی تحریکی امانت داری، اور ان کا مسکراتا ہوا دھیما انداز ہمیشہ ان لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا جو دین اور عقیدہ ختمِ نبوت کی بے لوث خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو مزید بلندی عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین