اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافی اسد علی طور کی این سی سی آئی اے نوٹس کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی جس کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسد علی طور کو انکوائری کے دوران ہراساں کرنے سے روک دیا۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ، وکیل عطاء اللہ کنڈی نے کہا کہ ہم انکوائری میں پیش ہونا چاہتے ہیں مگر گرفتار نہیں ہونا چاہتے، فیک اور جھوٹی معلومات فراہمی کے الزامات لگائے گئے ہیں،
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کونسی خبر کو فیک کہا گیا ہے؟عطاء اللہ کنڈی نے جواب دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل صورتحال سے متعلق کسی صحافی کو کوٹ کرکے جو خبر دی تھی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔