وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے بھی نئے انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبوں کے قیام کے حمایت کردی۔
جام کمال خان نے اپنے ویڈیو میسج میں کہا کہ چھوٹے صوبے اور نئے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت ہیں۔ چھوٹے صوبوں کا مقصد اختیارات اور وسائل کو عوام کے مزید قریب لانا ہونا چاہیے۔ نئے انتظامی یونٹس سے گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔
انتظامی یونٹس کو چھوٹا کرنے سے مالی اور انتظامی اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے۔ وفاق نے اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات منتقل کیے۔ وفاق سے صوبوں تک اختیارات گئے لیکن صوبوں سے اضلاع تک اسی انداز میں منتقل نہیں ہوئے۔ اٹھارویں ترمیم کا مقصد اختیارات اور وسائل عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانا تھا۔
جام کمال خان نے کہا کہ صوبوں کے اندر اضلاع کو وسائل کی تقسیم کے لیے بھی واضح اور منصفانہ فارمولا ہونا چاہیے۔ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی طرز پر اضلاع میں وسائل کی تقسیم کا طریقہ کار بنایا جائے۔ ایک ضلع کو دو ارب اور دوسرے کو بیس ارب ملیں گے تو ترقی میں فرق لازمی پیدا ہوگا۔ وسائل کی غیر مساوی تقسیم سے عوام میں محرومی، بے چینی اور عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی وسائل چند افراد یا محدود گروہوں کی صوابدید پر تقسیم نہیں ہونے چاہئیں۔ کسی ضلع کے عوام کو صرف اس لیے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ ان کا نمائندہ حکومت میں شامل نہیں۔
بلوچستان پاکستان کے مجموعی رقبے کا 44 فیصد ہے۔ بلوچستان کے بعض علاقوں سے صوبائی صدر مقام تک پہنچنے کے لیے سینکڑوں کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کو بنیادی سرکاری خدمات کے لیے چھ سو، سات سو یا ایک ہزار کلومیٹر سفر کیوں کرنا پڑے۔
جام کمال خان نے کہا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس سے لوگوں کو بنیادی خدمات اپنے علاقوں کے قریب میسر آئیں گی۔ چند اضلاع پر مشتمل انتظامی یونٹس میں مقامی ضروریات پر زیادہ توجہ دی جا سکے گی۔ چھوٹے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے ترقیاتی وسائل کی زیادہ متوازن تقسیم ممکن ہوگی۔ چھوٹے انتظامی یونٹس سے مختلف علاقوں کے درمیان صحت مند مسابقت پیدا ہوگی، ۔
وزیر تجارت نے کہا کہ ضلع حکومتوں کے نظام میں صحت مند مسابقت کے اچھے نتائج دیکھ چکے ہیں۔ بلوچستان کا نوجوان محسوس کرتا ہے کہ فیصلہ سازی میں اس کی آواز کو اہمیت نہیں مل رہی۔ چھوٹے انتظامی یونٹس نوجوانوں میں شمولیت، اہمیت اور امید کا احساس پیدا کریں گے۔
انتظامی یونٹس چھوٹے ہوں گے تو حکومت اور سیاسی جماعتیں مقامی نمائندوں کو نظر انداز نہیں کر سکیں گی۔ چھوٹے انتظامی یونٹس سے نگرانی اور توازن کا نظام مزید مؤثر ہوگا۔ مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنا انتظامی اصلاحات کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
کونسلر عوام کے سب سے قریب ہوتا ہے، مقامی حکومتوں کو وسائل اور اختیارات دینا ہوں گے۔ بلوچستان کے تمام اضلاع کو یکساں انتظامی سہولیات اور ضروری وسائل میسر ہونے چاہئیں۔ جس ضلع کے پاس گاڑی، افرادی قوت اور ضروری آلات نہ ہوں اس سے یکساں کارکردگی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔
نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر پارلیمنٹ، سینیٹ، ذرائع ابلاغ اور عوامی سطح پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ گورننس کے نظام کو عوام کی موجودہ ضروریات کے مطابق تبدیل کیا جائے۔ مقصد سیاست نہیں، عوام کو بہتر خدمات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا ہے۔