تحریر: بریگیڈیئر (ر) صادق راہی، ستارہ امتیاز (ملٹری)
[email protected]
اگر کوئی قوم صرف بندوق کے ذریعے امن قائم کر سکتی تو دنیا کے طاقتور ترین ممالک کبھی دہشت گردی، انتہا پسندی اور داخلی انتشار کا شکار نہ ہوتے۔ گزشتہ دو دہائیوں کی عالمی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ عسکری طاقت دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تو تباہ کر سکتی ہے، مگر ان نظریات کو نہیں جو محرومی، نفرت، غلط معلومات اور بے اعتمادی کی زمین پر جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکیسویں صدی میں دہشت گردی کے خلاف کامیابی کا معیار صرف آپریشنز کی تعداد یا ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی گنتی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا ریاست اپنے شہریوں کا اعتماد جیتنے میں کامیاب ہوئی یا نہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل، مشکل اور مہنگی جنگ لڑی ہے۔ ہمارے فوجی، پولیس، فرنٹیئر کور، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہوئے، سینکڑوں بستیاں متاثر ہوئیں اور قومی معیشت نے بھی بھاری نقصان اٹھایا۔ ان قربانیوں کی بدولت آج ملک کے بیشتر حصوں میں امن کی فضا پہلے سے بہتر ہے، لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ صرف عسکری کامیابی پائیدار امن کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
اصل سوال یہ ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں بار بار نئے نوجوان کیوں تلاش کر لیتی ہیں؟ وہ سوشل میڈیا، افواہوں، غلط معلومات اور احساسِ محرومی کو کس طرح اپنے بیانیے کا ایندھن بناتی ہیں؟ اس کا جواب ہمیں صرف سکیورٹی حکمتِ عملی میں نہیں بلکہ قومی حکمرانی، سماجی انصاف، تعلیم، ابلاغ اور سیاسی شمولیت میں تلاش کرنا ہوگا۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات ہمیں یہی سبق دیتے ہیں کہ جہاں ترقی، انصاف اور عوامی شرکت مضبوط ہو، وہاں شدت پسند بیانیے کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔ ان علاقوں کے عوام نے دہشت گردی کی سب سے زیادہ قیمت ادا کی ہے۔ اس لیے انہیں شک کی نگاہ سے نہیں بلکہ قومی شراکت دار کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ مقامی آبادی کو صرف سکیورٹی پالیسی کا موضوع نہیں بلکہ قومی ترقی کا شریک بنانا ہوگا۔ اعتماد کی بحالی کا پہلا ستون انصاف ہے۔ قانون کی حکمرانی اور شفاف احتساب ہر شہری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ جہاں قانون کمزور اور انصاف تاخیر کا شکار ہو، وہاں افواہیں اور سازشی نظریات آسانی سے جگہ بنا لیتے ہیں۔ ایک مضبوط ریاست وہ نہیں جو صرف طاقت استعمال کرے، بلکہ وہ ہے جو طاقت کو قانون کے تابع رکھے۔
دوسرا ستون اچھی حکمرانی ہے۔ جب نوجوان کو تعلیم، روزگار، صحت اور ترقی کے مساوی مواقع ملتے ہیں تو وہ شدت پسند تنظیموں کے جھوٹے نعروں سے کم متاثر ہوتا ہے۔ محرومی ہمیشہ صرف معاشی نہیں ہوتی؛ بعض اوقات عزت، نمائندگی اور شمولیت کا احساس بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی یکجہتی کا مطلب صرف ترقیاتی منصوبے نہیں بلکہ لوگوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کرنا بھی ہے۔
تیسرا ستون مؤثر ابلاغ ہے۔ جدید دنیا میں خاموشی بھی ایک پیغام بن جاتی ہے۔ اگر ریاست بروقت، شفاف اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم نہ کرے تو اس خلا کو افواہیں، جھوٹ اور بیرونی پروپیگنڈا بھر دیتے ہیں۔ اس لیے سرکاری اداروں، میڈیا، جامعات اور تحقیقاتی مراکز کو مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں حقائق جذبات پر غالب آئیں۔
چوتھا ستون نوجوان ہیں۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اگر ان کی توانائی کو تعلیم، تحقیق، ہنر، کھیل، ثقافت اور مثبت قومی سرگرمیوں کی طرف نہ لے جایا جائے تو شدت پسند عناصر انہیں اپنی مہمات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ نوجوان صرف مستقبل نہیں بلکہ موجودہ قومی سلامتی کا بھی بنیادی ستون ہیں۔
پانچواں ستون قومی مکالمہ ہے۔ اختلافِ رائے ہر جمہوری معاشرے کا حسن ہے، مگر اختلاف کو دشمنی، نفرت یا تشدد میں تبدیل ہونے سے روکنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سیاسی قیادت، مذہبی رہنما، میڈیا، جامعات، سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں کو ایک ایسی قومی فضا پیدا کرنی ہوگی جہاں اختلاف ہو، مگر آئین اور قانون کی حدود کے اندر ہو۔
اس پورے عمل میں مسلح افواج کا کردار اپنی جگہ نہایت اہم ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ان کی قربانیاں پاکستان کی تاریخ کا روشن باب ہیں، تاہم خود فوج بھی ہمیشہ اس حقیقت پر زور دیتی رہی ہے کہ پائیدار امن صرف عسکری کامیابی سے نہیں بلکہ قومی یکجہتی، مؤثر حکمرانی، معاشی ترقی اور عوامی اعتماد سے ممکن ہوتا ہے۔ یہی سوچ ہمیں ایک جامع قومی حکمتِ عملی کی طرف لے جاتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی کامیابی کا پیمانہ بدلیں۔ صرف یہ نہ پوچھیں کہ کتنے دہشت گرد مارے گئے، بلکہ یہ بھی پوچھیں کہ کتنے نوجوانوں کو شدت پسند سوچ سے بچایا گیا، کتنے علاقوں میں ریاست پر اعتماد بڑھا، کتنے لوگوں نے قانون کے راستے کو تشدد پر ترجیح دی، اور کتنے شہریوں نے یہ محسوس کیا کہ پاکستان ان کا مشترکہ گھر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آخری فتح اس دن حاصل ہوگی جب دشمن ہماری سرحدوں سے نہیں بلکہ ہمارے ذہنوں سے بھی شکست کھا جائے گا۔ جب ایک نوجوان افواہ کے بجائے حقیقت پر یقین کرے، نفرت کے بجائے مکالمہ اختیار کرے، اور تشدد کے بجائے آئین و قانون پر اعتماد کرے، تب ہم کہہ سکیں گے کہ پاکستان نے صرف جنگ نہیں جیتی بلکہ امن بھی جیت لیا ہے۔ اعتماد کی جنگ بندوق سے آگے کی جنگ ہے۔ یہ دل جیتنے کی جنگ ہے، انصاف قائم کرنے کی جنگ ہے، امید پیدا کرنے کی جنگ ہے، اور سب سے بڑھ کر ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کی جنگ ہے جہاں شہری اور ریاست ایک دوسرے کو شک کی نہیں بلکہ اعتماد کی نگاہ سے دیکھیں۔ یہی اعتماد دہشت گردی کے خلاف ہماری سب سے مضبوط ڈھال اور پاکستان کے روشن مستقبل کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔