ایران کے صدر مسعود پزیشکیان کا کہنا ہے کہ دشمنوں کو یقین تھا کہ دباؤ ڈال کر وہ ایران کو معاشرتی انہدام کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی چالوں کو یکے بعد دیگرے ناکام بنایا۔
یونیورسٹی آف تہران میں پیر کے روز ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ دشمنوں کو یقین تھا کہ دباؤ ڈال کر وہ ایران کو خشک سالی، لوٹ مار اور معاشرتی انہدام کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی چالوں(جو مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا، جاسوسوں کے نیٹورک، کرائے کے ایجنٹ اور ان کے مقامی نمائندوں پر مبنی تھیں) کو یکے بعد دیگرے ناکام بنایا۔
انہوں نے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے جنگی جرائم سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو جارحیت، ناانصافی اور دھونس کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔
ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے شہید رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی دور اندیشی اور بصیرت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا موجودہ استحکام اور سیکیورٹی ان کی رہنمائی کے مرہونِ منت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دشمنوں کی جانب سے عائد کی جانے والی تمام تر پابندیوں اور دباؤ کے باوجود شہید رہنما کی سوچ، ان کے راستے اور ان کی رہنمائی نے ملک کے لیے مسلسل روشنی کا کام کیا ہے۔
ایرانی صدر نے شہید سپریم لیڈر کی دانش مندانہ حکمت عملیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انقلابی سوچ نے خطروں کو مواقع میں بدلا اور ملک کو دشمنوں کے پیدا کردہ بحرانوں سے نمٹنے میں مدد دی۔