صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ ایران سے جنگ میں امریکی شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے عوض ہرجانہ ادا کرنے کی شرط بھی معاہدے میں شامل کریں۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک بیان میں کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ ایرانی نمائندے رواں سال ہونے والی پانچ ماہ کی فوجی جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے نقصانات پر امریکا سے معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس قبل مذاکرات یا ملاقاتوں کے دوران ایران کی جانب سے ایسا مطالبہ پہلے کبھی سامنے نہیں آیا۔ اگر ایران اپنے نقصانات کے لیے معاوضے کا مطالبہ کرسکتا ہے تو امریکا بھی ایسا کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ امریکا بھی اب ایران سے ان تمام امریکی شہریوں کے لیے ہرجانہ طلب کرے گا جو جنگ کے دوران ایرانی کارروائیوں میں ہلاک یا شدید زخمی ہوئے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے بقول انھوں نے اپنے نمائندوں کو واضح ہدایت دی ہے کہ ایران کے ساتھ آئندہ ہونے والے ہر مذاکرات میں معاوضے کا مطالبہ بھی شامل کیا جائے۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات محدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان رواں سال ہونے والی طویل فوجی کشیدگی کے بعد سفارتی رابطے جاری رکھنے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاہم اہم معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک روز قبل ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی کو نسبتاً محتاط قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ کم شدت سے اور صرف نیم مذاکرات کر رہا ہے۔
ان کے بقول امریکا ایران کے ساتھ مکمل اور باضابطہ مذاکرات کی بجائے محدود سطح پر رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔