جوڈیشل کمیشن کے کسی رکن کا رشتے دار جج نامزد نہیں ہو گا

قانونی فرم سے وابستہ وکیل بھی دوڑ سے باہر، ہر امیدوار دوبار زیر غور آئیگا، قواعد میں ترمیم


حسنات ملک August 10, 2026

اسلام آباد:

جوڈیشل کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کا کوئی بھی رکن  ججوں کی تقرری کے لیے اپنے کسی رشتے دار یا قانونی فرم سے وابستہ وکیل کو نامزد نہیں کرے گا۔

ذرائع کے مطابق  کمیشن نے ججوں کی تقرری  میں شفافیت کیلئے قواعد میں ترامیم کی ہیں جن کے مطابق اسکا ہر رکن اعلان کردہ آسامیوں کی تعداد سے زیادہ امیدوار نامزد نہیں کر سکے گا۔

واضح رہے کہ  حالیہ دنوں میں بعض ارکان نے دستیاب آسامیوں کی کل تعداد سے زیادہ امیدوار نامزد کیے تھے۔  انٹرویو کمیٹی امیدواروں کا جائزہ لیتے وقت below average کا ایک اور آپشن بھی استعمال کر سکے گی۔

اس سے قبل کمیٹی کے پاس صرف Good اور Average کے دو آپشنز  تھے۔ کسی بھی امیدوار کو جج کے عہدے کے لیے صرف دو مرتبہ زیرِ غور لایا جا سکے گا، تیسری مرتبہ اسے نااہل قرار دیا جائے گا۔

معلوم ہوا ہے کہ کمیشن ہائی کورٹس کے ججوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے مجوزہ قواعد پر بھی غور کر رہا ہے۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں کمیٹی نے  اس حوالے سے مسودہ تیار کیا ہے، کمیٹی کے ارکان میں اٹارنی جنرل، سینیٹر علی ظفر اور  احسن بھون شامل ہیں۔

مجوزہ قواعد کے  مطابق  کمیشن کو ہائی کورٹس کے ججوں کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کا اختیار ہے۔ ان شقوں کے مطابق کمیشن ججوں کی کارکردگی کیلئے  منظم طریقہ کار وضع کرے گا اور کسی جج کی نااہلی یا غیر مؤثر کارکردگی کی صورت میں رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو پیش کی جائے گی۔ 

چیف جسٹس کمیشن کے ارکان میں شامل ججوں پر مشتمل جائزہ کمیٹیاں تشکیل دے گا  جو  ہر سال اکتوبر سے دسمبر کے دوران ججزکارکردگی کا جائزہ لیکر دسمبر سے قبل کمیشن کو رپورٹ پیش کریں گی۔ 

ناقص کارکردگی پر کمیشن جج کو نوٹس جاری کرے گا اور اسے بہتری کے لیے چھ ماہ کا وقت دیا جائے گا، اس دوران وقتاً فوقتاً اس کی کارکردگی کی نگرانی کی جائے گی جبکہ مدت مکمل ہونے کے بعد دوسرا اور حتمی جائزہ لیا جائے گا  تاہم اگر کارکردگی بدستور غیر تسلی بخش رہی تو رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دی جائے گی۔

کمیشن کا سیکریٹریٹ  پورے عمل میں معاونت فراہم کرے گا۔  جائزہ رپورٹس ریکارڈ میں محفوظ اور خفیہ رکھی جائیں گی اورمنظوری کے لیے کمیشن کو پیش کی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ قواعد مزید غور و خوض کے لیے ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو بھیج دیے گئے ہیں۔