ولیکا اسپتال میں زیر علاج بچوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی کے کیس کی سندھ ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، ایچ آئی وی متاثرین کی بڑی تعداد اور ذوالفقار جونیئر عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست زیر التوا ہونے کے دوران 9 بچے ہلاک ہوچکے ہیں، عدالت سے حقائق چھپائے جارہے ہیں اور انکوائری رپورٹ بھی چھپائی جارہی ہے۔ سندھ میں 12 سو بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوچکی ہے، ڈاکٹر شازیہ الطاف نے انکوائری کمیٹی سے ریکارڈ چھپایا ہے۔ وکیل سیسی محسن شاہوانی نے بتایا کہ شازیہ الطاف کو معطل کیا جاچکا ہے۔
عدالت نے وکیل درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آپ اب کیا چاہتے ہیں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ نے انہیں خط لکھا تھا کہ ہائی پاور کمیٹی بنائی جائے گی اور رپورٹ ان سے شیئر کی جائے گی۔
متاثرہ خاتون نشاط، عائشہ کامران اور دیگر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ عائشہ کامران نے کہا کہ ایک بیڈ پر چار، پانچ بچے تھے اور ایک سرنج بار بار استعمال کی جارہی تھی۔ جسٹس عدنان کریم نے استفسار کیا کہ آپ باہر سے جاکر سرنج لے آتے، آپ نے انجیکشن لگانے سے روکا کیوں نہیں؟ متاثرہ بچے کے والد عمر نے کہا کہ ان کے تین بچے ہیں اور ایک ہی سرنج تمام بچوں کو لگائی جارہی تھی۔
محسن شاہوانی نے کہا کہ ہم نے افسران کو معطل اور شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں، آئی جی سندھ پولیس کی جانب سے رپورٹ بھی جمع کرا دی گئی ہے۔ وکیل سیسی نے بتایا کہ متاثرین کے لیے دو ارب روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے جبکہ آغا خان اسپتال میں بچوں کے علاج کے لیے خصوصی وارڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔
ذوالفقار جونیئر نے کہا کہ سندھ میں 12 فیصد بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہیں، ولیکا اسپتال میں بھی بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے ہیں، میں اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کے لیے آیا ہوں۔ متاثرہ بچے کے والد نے کہا کہ ہم سود پر پیسے لے کر بچوں کا علاج کرا رہے ہیں، علاج کے لیے اپنی چارپائیاں تک فروخت کردی ہیں، ہمیں ایک روپے تک کی امداد نہیں ملی۔